Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abdul Hannan Raja
  4. Irani Istiqamat, Yahoodi Shararat Aur Rooh e Mazdak

Irani Istiqamat, Yahoodi Shararat Aur Rooh e Mazdak

ایرانی استقامت، یہودی شرارت اور روح مزدک

کہا جاتا ہے کہ حکمت کے بغیر انسانی علم و عقل ٹرمپ جیسے کردار جنم دیتا پے اور پاپولزم کا شوق عزت ساکھ اور وقار برباد کرتا ہے جیسے یوکرائن کے صدر زیلینکسی کو مقبولیت کا زعم لے ڈوبا۔ نیٹو میں شمولیت کے فیصلہ نے روس کو یوکرائن کو برباد کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بسا اوقات مقبول فیصلے ملکی تباہی اور غیر مقبول اور صائب فیصلہ جات ملک کو درست ڈگر پر ڈال دیتے ہیں۔ اللہ پاک کا شکر کہ ہزاروں لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والا پاکستان اب مرکز نگاہ کہ یہ اب سات آٹھ ماہ قبل والا پاکستان نہیں۔

دنیا نے بے پناہ مشکلات اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باوجود اس کی عسکری صلاحیتوں و سپاہ کو آزما لیا۔ اب پاکستان ایک طرف امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا ہے تو دوسری طرف عالم کفر اس سے لرزہ براندام۔ موجودہ جنگ کے پھیلاو کو روکنے کے لیے پاکستان ایک طرف ایران کو برادر مسلم ممالک کے لیے محتاط رویہ اپنانے تو دوسری طرف خلیجی ریاستوں کو رد عمل سے روکے ہوئے ہے۔ اسرائیل یہ جنگ مسلم ممالک تک پھیلانے میں کوشاں مگر پاکستان اس راہ کی روکاوٹ۔ صد شکر کہ ایک طرف ایران تو دوسری طرف خلیجی ریاستوں کا پاکستان پر اعتماد تو امریکہ ایران کے ہاتھوں منہ توڑ جواب پر ہماری ثالثی پر شکر گزار۔

اس سلسلہ میں جنگ کے پھیلاو کو روکنے اور ممکنہ طور پر ٹرمپ کو نظر آتی شکست کے رد عمل کے طور پر محدود پیمانے پر ایٹم بم کے استعمال جیسی حماقت سے روکنے کے لیے فیلڈ مارشل نے پس پردہ رہ کر خلیجی ملک میں اعلی ترین امریکی ذمہ داران کو مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل اور امریکہ کو بااختیار اور اعلی سطحی مذاکراتی وفد کی تشکیل پر قائل کیا دوسری جانب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ایرانی قیادت کے ساتھ رابطہ میں تھے۔ اس ساری صورتحال میں ترکیہ اور مصر کا کردار بھی اہم رہا جبکہ سعودی عرب نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی ہر کوشش کا احترام کیا جس وجہ سے ناممکن عمل اب ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس میں کلام نہیں کہ اسرائیل برس ہا برس سے پوری عرب ہی نہیں دیگر طاقتور ممالک کے لیے ہی دہشت کی علامت تھا اس کے توسیع پسندانہ عزائم نے اسے قاتل بے رحم اور سفاک بنا دیا تھا کہ جس کے سامنے پوری عالمی دنیا حتی کہ اقوام متحدہ بھی بے بس۔ اسی ہوس نے اسے ایران پر حملہ کے لیے اکسایا سی آئی اے اور موساد کی بوگس رہورٹوں نے دونوں ممالک کی ساکھ کو برباد کرانے میں کردار کیا صدر امریکہ کے احوال یہ ہو چکے کہ یورپی یونین تو انکاری ہے ہی اب تو سری لنکا جیسے پس ماندہ ممالک بھی ٹرمپ کی دہائی پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔

ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گباڑ کی جانب سے پاکستان پر انٹر کانٹیننٹل میزائل کے حصول کی کوشش کا الزام دراصل امریکی انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف اس بہکاوے میں لانا ہے جس میں امریکی بہت جلد آتے ہیں کہ بھارت بذریعہ اسرائیل امریکہ پر یہ باور کروانا چاہتا کہ پاکستان اس کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت ہو یا اسرائیل وہ پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کی پوزیشن میں نہیں اب سازشوں کے ذریعے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں کوشاں ہیں۔ تعصب کی حد کہ گباڑ کو بھارتی میزائل پروگرام نظر نہیں آتا ہے اگنی 6 کہ جس کی رینج 12 ہزار کلومیٹر، امریکی انتظامیہ اور اقوام متحدہ کو اسرائیلی مظالم، سفاکیت اور جارحانہ عزائم انسانیت کے لیے خطرہ نہیں لگتے۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ امریکہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کسی صورت پاکستان بلکہ کسی اسلامی ملک کو طاقتور دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایران کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے خلاف ریشہ دوانیاں زور پکڑ رہی ہیں اس بات کو کم از کم اب سعودی حکومت بھی بخوبی سمجھ رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارت کو گزشتہ 75 سال سے تیار کیا جاتا رہا اس نے ایک دو مواقع پر اپنا کام بھی دکھایا مگر وہ دور اب قصہ پارینہ بن چکا۔ نئی تاریخ لکھی جا چکی اور نیا جغرافیہ بھی گو کہ ہمارے کچھ بدطینت اب بھی پرانے جغرافیہ پر پہ مصر مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

افغان رجیم کے ذریعے پاکستان میں بدترین دہشت گردی کروائے جانے کا مقصد اور اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان کو کسی نہ کسی طور عدم استحکام سے دوچار کیا جاتا رہے جبکہ ہمارے ہاں طالبان رجیم کے ہمدرد بالواسطہ بھارتی و اسرائیلی سازش کا شکار۔ وجہ صاف ظاہر ک بھارت پاکستان اور چین کو براستہ افغانستان وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی روٹ سے روکنا چاہتا ہے۔ مگر ہمارے بعض نادانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ سیاسی مخالفت کو وہ ملک دشمنی کی حد تک لے جا رہے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادتوں بشمول صاحبان اقتدار کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت کہ پاکستان کی معاشی و عسکری بقا کے لیے طبقہ فکر، ہر سیاسی و مذہبی جماعت کو یکجا ہونا ہوگا۔ فروعی اختلافات کو قومی امور کے تابع رکھ کر ہی قومی عزت و وقار کو بلند و مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ جنگ کے ذریعے بھی اسرائیل امریکہ اور بھارت پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنے کے بڑے منصوبہ پر کاربند تھے مگر ایرانی استقامت اور جرات ان کے آڑے آ گئی ایران میں پرو اسرائیل رجیم کا خواب اب چکنا چور ہوتا نظر آنے لگا ہے گو کہ افغانستان میں انہوں نے پاکستان مخالف رجیم لا کر اپنے منصوبہ کے پہلے حصہ کو کامیاب کر دکھایا اب ایران کی سمت سے پاکستان کو گھیرنے کا سلسلہ ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ظاہر ہے ایسے میں بھارت و اسرائیل پیچ و تاب تو بنتا ہے مگر صد شکر کہ پاکستان کی صلاحیتیں آزمائی جا چکی اب ضرورت نظریاتی اتحاد اور قومی وحدت کی ہے۔

اہم نکتہ پاکستان میں ایران پر حملے کی آڑ میں بعض شرپسندوں نے قومی املاک کو نقصان پہنچایا جس پر فیلڈ مارشل کی سخت تنبیہ نے مستقبل کا منظر نامہ واضح کر دیا کہ اب احتجاج کے نام پر دنگا فساد اور شر انگیزی ریاست کے لیے ناقابل قبول۔ حدود و قیود اور آداب کے دائرے میں پرامن احتجاج ہر شہری کا حق مگر شاہراہیں بند اور ملکی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ اب ریاست کو قبول نہیں۔ اس پر سخت قوانین اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے کہ ملکی ترقی استحکام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

وہ یہودی فتنہ گر، وہ روح مزدک کا برووز
ہر قبا ہونے کو ہے، اس کے جنوں سے تار تار

Check Also

Bhayanak Manzar Nama

By Syed Mehdi Bukhari