Iran Hikmat Aur Shiddat Ke Darmiyan
ایران حکمت اور شدت کے درمیان

پہلی ایٹمی اور تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہاں موخر ضرور ہوا ہے۔ ٹرمپ اسلحہ ساز اور صیہونی طاقتوں کا نمائندہ کہ جسے امن یا جنگ سے غرض نہیں وہ ہر دو صورتوں میں اپنا کاروبار چلائے رکھنے کا فن جانتا ہے۔
صورتحال سمجھنے کی ضرورت پے کہ اسرائیل سمیت امریکہ اس کے دشمن اور کئی مسلم ممالک کی نظر میں ایران قابل اعتماد دوست نہیں اور وہ طاقتور ایران کو خطرہ سمجھتے ہیں اس کا جواز کافی حد تک ایران نے مسلم ممالک میں اپنی پراکسیز کی صورت میں فراہم بھی کیا۔ گزشتہ 47 سال سے مرگ بر امریکہ ایران کا قومی نعرہ جبکہ اسرائیل سے براہ راست دشمنی کسی سے چھپی نہیں۔ اسرائیلی چالوں اور امریکی سازشوں کی شکار امت مسلمہ کو ہر دو ممالک نے ایران کا ہوا دیکر خوب استعمال کیا بالخصوص عرب ممالک آج تک انہیں کے دام صیاد میں پھنسے ہیں۔
امریکہ ایران نفرت کی دہائیوں پر مشتمل تاریخ کے ساتھ ان کو ورکنگ ڈنر پہ بٹھانا کہ جو خلیج آج تک اقوام متحدہ، جی 7، برکس یا او آئی سی نہ پاٹ سکیں پاکستان کی چند روزہ کوششوں نے پار کر دی۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اقوام متحدہ کی موجودگی 7 عشروں سے فلسطین کا قضیہ حل ہوا اور نہ کشمیر جنت نظیر بن سکا گرچہ قدرت نے اسے فردوس بر زمیں ہی بنایا تھا۔ اقوام متحدہ پر لہراتا امن کا پرچم اس کی جانبدارانہ اور بزدلانہ پالیسیوں سے تار تار کہ جسے پاکستان رفو کرنے میں کوشاں۔ یہ درست کہ اسرائیل دہشت گرد و ناجائز ریاست اور امریکہ جارح مگر کچھ حقائق کہ جنہیں ایران کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایران کے علم میں ہے کہ اس کے بیشتر ہمسائے اس سے نالاں اور امریکہ اس کی براہ راست پہنچ میں نہیں۔ ایران کو یہ بھی معلوم ہے کہ پراکسیز کی وجہ سے بیشتر مسلم ممالک کو بھی طاقتور ایران قبول نہیں۔ ایران کو یہ بھی پتہ ہے کہ جنگ اسی نے لڑنی ہے اور تنہا لڑنی ہے۔ اب جبکہ استقامت کے وصف نے اسے مذاکرات کی میز پر امریکہ کے ہم پلہ بٹھا ہی دیا تو اس سے آگے حکمت، تدبر اور دانش کا کھیل شروع ہوتا ہے کہ امن کی آشا انہی اوصاف متصوف دانتوں میں انگلی دبائے منتظر۔ کہ قیادت مذاکرات کی میز پر انا اور جذبات سے مغلوبہ وتی ہے یا مستقبل کا منظر نامہ اور عوام کی تکالیف اس کے پیش نظر۔ اب ایران نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ حکمت کی راہ چنتا ہے یا جذبات سے مغلوب ہوتا ہے۔ باوجود باہمی بداعتمادی اور نفرت کے پاکستان نے اسے دنیا کی سپر پاور کے روبرو بٹھا کر اپنے حصے کا فرض اور قرض ادا کیا جو بطور مسلم ریاست اس کے ذمہ تھا۔ جبکہ امریکہ کو بھی باور کرا دیا کہ جنگ سے فوری انخلا ہی میں اس کی بچھی کچھی عظمت کا راز ہے۔
اس باب میں سابق ایرانی وزیر خارجہ محترم جواد ظریف کے طویل تجربات سے استفادہ کیا جا سکتا تھا مگر موجودہ قیادت بوجوہ انکی فراست سے مستفید ہونے پر مائل نہیں دوسری طرف حکومت، ولایت فقہی اور پاسداران کے زیر اثر اس لیے وہ آزادانہ فیصلے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایک طرف پاسداران کہ جن کا ملک پر کنٹرول زیادہ مضبوط اور پھر رہبر کا وزن بھی انہی کے حق میں۔ موجودہ رہبر چونکہ آیت اللہ کے منصب پر نہیں اس لیے وہ صائب فیصلہ کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ ان حالات میں ایرانی مذاکراتی وفد سے غیر معمولی لچک کی توقع نہیں مگر انہیں اس پہ سوچنا ہوگا کہ اس وقت پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور میزائل پروگرام بچانا ان کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ جیسا کہ جواد ظریف نے بھی اپنے مضمون میں اس طرف توجہ دلائی کہ اسی میں ایران اور عوام کی بقا اور اسی سے ان پر ترقی اور خوشحالی کے راستے کھلنے ہیں۔ وگرنہ مجھے ایک بار پھر ایران سفارتی تنہائی کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کی کوششوں سے وقت اب بھی مقید، کہ ایک دو روز میں مناسب اور قابل قبول تجاویز اور اس ضمن میں پاکستان اور چین سے مشاورت لازم کہ ہر دو ممالک اس کے خیر خواہ اور اسے بدترین تباہی سے بچانے میں کوشاں اور فوری طور پر قابل عمل تجاویز پیش کرکے امن کے بند دروازے کو کھولا جا سکتا ہے کہ دشمن تو اسے ہر صورت تباہ اور خلیجی ممالک کو اسی کے ہاتھوں زیر و زبر کرانے کا خواہاں۔ ایران کا جذبات اور شدت پسندی کے خول سے نکل کر جرات مندانہ و صائب فیصلہ ہی پاکستان کی برادرانہ و مخلصانہ کوششوں کا مثبت جواب ہو سکتا ہے اور 47 سالہ نفرتوں و پابندیوں کے خاتمہ کا نکتہ آغاز۔ ایران کے پیش نظر پاکستان کی نازک صورتحال بھی رہنی چاہیے کہ آخر وہ کب تک خلیجی ممالک و ایران کے مابین جنگی پھیلاو کو روکے رکھے گا۔
اب جبکہ پاکستان کی وساطت سے ایران کو عالمی پابندیاں اٹھوانے، دنیا سے از سر نو تعلقات اور تجارت کی راہ ہموار کرنے کا موقع میسر آیا ہے گرچہ یہ اس نے بے مثال شجاعت اور حوصلہ سے حاصل کیا مگر مذاکرات کی میز پر اس موقع کو انا اور شدت پسندی کی بھینٹ چڑھانا دانش مندی نہیں۔

