Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aamir Mehmood
  4. Shohda e Karbala Pe Lakhon Salam

Shohda e Karbala Pe Lakhon Salam

شہدائے کربلا پہ لاکھوں سلام

بے شمار درود و سلام سرکار دو عالم سرور کونین ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر۔

واقعہ کربلا پر بہت کچھ لکھا جا چکا اور بہت کچھ بولا جاچکا، کچھ اہلِ عقل اِس کی وضاحت بڑی سطحی سی کرتے ہیں اور اِس کو قریب قریب ایک سیاسی واقعہ ہی بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن شاید اُس فلسفے کو سمجھ نہیں سکے جو کہ احسان ہے ال محمد ﷺ کا پوری انسانیت پر۔

میرے ذاتی خیال میں تسلیم و رضا کا فلسفہ اِس واقعے سے پہلے اتنا عام نہیں تھا یا عام طور پر سمجھا نہیں جا سکتا تھا، لیکن اِس عظیم قربانی اور شہادت کے بعد تسلیم و رضا کا فلسفہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ٹھہرا ہے۔

اِس واقعے کی بہت سی جہتیں پیش کی جا چکی ہیں اور پیش کی جاتی رہیں گی، انسانیت جوں جوں وقت کے ادوار طے کرتی جائے گی اِس واقعے کی پرتیں کھلتی چلی جائیں گی، لیکن اہلِ نظر وہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ آخر یہ کیا فلسفہ تھا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے پورے کنبے کی قربانی پیش کی۔

یہ مشکل کشا گھرانہ جس کے پاس لوگ دعاؤں کے لیے آتے تھے اپنی مشکلات رفع کروانے کے لیے آتے تھے، انہوں نے اپنے لیے کوئی آسانی نہیں مانگی، تسلیم و رضا کا پیکر بنے رہے اُف تک نہیں کی گئی، واقعہ کربلا کے دوران اور بعد میں ایک لفظ بھی آپ کو نہیں ملتا کہ گلا کیا گیا ہو۔

حدیث سے یہ واضح ہے کہ آپ سرکار ﷺ کو یہ معلوم تھا کہ یہ وقت گزرے گا آپ کے کنبے پر اور اُن کے پیارے اپنی قربانی پیش کریں گے کربلا کی سرزمین پر اور قربانی بھی ایسی کہ سبحان اللہ، اِس کائنات میں جتنے غم ہیں جتنی اقسام ہیں غم کی وہ سب کربلا والوں پہ گزرے ہیں، کوئی غم ایسا باقی نہیں بچا کہ جو انہوں نے راہ خدا میں نہ سہا ہو، لیکن تسلیم و رضا کے پیکر رہے، اپنے خیال کی طاقت سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دورانِ شہادت بھی سر سجدے میں ہے، یہ سجدہِ شبیری امر کر دیا گیا انسانی تاریخ میں، ایسا سجدہ آج سے پہلے نہ کسی نے کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی کر سکے گا، شاعر نے کیا خوب کہا ہے

اسلام کے دامن میں اِس کے سوا کیا ہے
اِک ضربِ ید اللٰہی اور ایک سجدہِ شبیری

حضرت امام حسینؓ نبی نہیں ہیں لیکن اُن کا مقام نبیوں سے کم نہیں ہے، آپ سرکار کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ آپ جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں، اِس حدیث کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ خیال رہے کہ جنت میں ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر بھی ہوں گے، اُن سب کے رہبر حضرت امام حسینؓ ٹھہریں گے۔

کربلا والوں کا غم اگر ہے تو ہمہ وقت ہے یہ صرف محرم کے دنوں میں یا نویں دسویں محرم کو نہیں ہونا چاہیے، جن کو غم ہے پورا سال ہی غم ہے، یاد میں دن منانا تو ٹھیک ہے لیکن غم والوں کے دن بھی غم کے ہیں اور راتیں بھی غم کی ہیں۔

غم کی تعریف ہی یہی ہے کہ جو مستقل ہے اور جو اِس غم میں داخل ہو جاتا ہے اُس کو ولی بنا دیا جا سکتا ہے، جنہوں نے اس غم کو لیا ہے انہیں فقیریاں عطا ہوئی ہیں۔

کربلا کا سبق ہی یہی ہے کہ تسلیم و رضا کے پیکر رہیں، دنیا حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ بھاگ دوڑ نہ کریں اللہ تعالی کے فیصلوں کو اپنے تک آنے دیں، اللہ تعالی کے فیصلوں کے راستے میں کھڑے نہ ہوں، یہی آپ کے لیے بہتر ہے۔

اپنے آپ کو بالکل ایسے کر لیں جیسے ایک سوکھی ہوئی لکڑی ندی کے پانی پر تیر رہی ہوتی ہے، اُسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ اُس کی منزل کیا ہے، جہاں پانی لے کے جائے اُس کی مرضی، اِسی طرح اپنی زندگیاں ایسے کر لیں کہ جو یار کی مرضی، یہی فقیری ہے یہی درویشی ہے۔

اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

Check Also

Shohda e Karbala Pe Lakhon Salam

By Aamir Mehmood