Thursday, 27 March 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aamir Mehmood
  4. Karte Hain Uski Justaju Jo Hamen Hasil Na Ho

Karte Hain Uski Justaju Jo Hamen Hasil Na Ho

کرتے ہیں اس کی جستجو جو ہمیں حاصل نہ ہو

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔

منیر نیازی صاحب کی غزل کا ایک شعر پیش خدمت ہے۔

ہیں رواں اس راہ پہ جس کی کوئی منزل نہ ہو
کرتے ہیں اُس کی جستجو جو ہمیں حاصل نہ ہو

اِس شعر میں انسان کی بے بسی کی عکاسی کی گئی ہے، بے بسی کی انتہا دیکھیے محدود عمر عطا کر دی گئی اور اِسی عمر میں ہزاروں خواہشیں جن کا سامنا حضرتِ انسان کو کرنا پڑتا ہے اور انہی خواہشوں کی تکمیل میں عمر گزرتی جاتی ہے۔

خواہشوں کا غلام انسان اپنی تمام تر کوششیں اِس جستجو میں خرچ کر دیتا ہے جو چیز اسے حاصل نہیں ہوئی ہوتی۔

ہر انسان کی کہانی مختلف ہے کسی کو شہرت چاہیے تو کسی کو دولت چاہیے تو کسی کو روپیہ پیسہ چاہیے، ہر انسان اپنی خواہشوں کا غلام بن کر زندگی گزارتا ہے اور اس حقیقت سے بیگانہ ہو جاتا ہے کہ اس کو دنیا میں کس لیے بھیجا گیا ہے۔

حضرتِ انسان اِس حقیقت سے نا آشنا رہتا ہے کہ لاحاصل کی کوشش اِس کی زندگی کے دن پورے کرتی جا رہی ہے اور انہی کاوشوں میں نئی خواہشات جنم لیتی رہتی ہیں اور پھر یہ نہ رکنے والا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے، آخر کار وہ دن آ جاتا ہے کہ جب موت کا ڈنکا بچ جاتا ہے اور خواہشات کی تکمیل میں سرگرداں انسان خواہشات کی حسرتیں لے کر قبر میں اتر جاتا ہے۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

یہ مسئلہ حضرتِ انسان کو درپیش ہے ہر مذہب ہر عمر ہر عقیدے کا انسان خواہشات کا غلام ہے اِس سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے، تاکہ زندگی میں سکون ہو جائے اور حقیقتوں کی طرف سفر شروع ہو، اس کے لیے ہمارے دین میں ہی رہنمائی فرمائی گئی ہے کہ یہ دنیا ایک خواب ہے حقیقت کچھ اور ہے مومن کے لیے دنیا کو ایک قید خانہ کہا گیا ہے کہ اِس خواب اور سراب کے سفر میں وقت کو ضائع نہ کیا جائے بلکہ معرفتوں اور حقیقتوں کی دنیا کی طرف رجوع کیا جائے اور اپنے دنیا میں آنے کا مقصد سمجھا جائے۔

یہ کام ہوگا دین سے قربت میں اور محبت میں داخل ہونے سے محبت میں داخل ہونے کے لیے آپ کو بزرگوں کی محفل میں بیٹھنا پڑے گا اُن بزرگوں کی محفل میں جن کو کہ محبتیں عطا ہو چکی ہیں۔

وہی آپ کو محبت عطا کر سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ آپ کے ہاتھ میں یہی ہے باقی عطا ہے، اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے یا سرکار ﷺ کی طرف سے۔

محبتوں کے سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ روپے سے محبت ہے جو آدمی روپے گن کے سوتا ہے اُس پر نظرِ کرم نہیں ہو سکتی، حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کے فضل کی نشانی یہ ہے کہ تم گنتی بھول جاؤ گے، تو ہر انفرادی انسان کو یہ طے کرنا ہے کہ اس کو دنیا کی محبت چاہیے یا حقیقتوں کی محبت، اگر حقیقتوں کی طرف محبت ہے تو روپے پیسے کی محبت چھوڑنی پڑے گی، بلکہ اگر آپ کو محبت ہو جائے تو آپ کو دنیا چھڑوائی جاتی ہے۔

فقیروں درویشوں کی زندگی کا مطالعہ کیجئے دنیا کی رغبت نکل چکی ہوتی ہے اور وہ دنیا میں اپنی زندگی کو ایک مسافر کی طرح گزارتے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اور سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا کریں دنیاوی ضرورتیں ہیں روپیہ کمانا بھی ضروری ہے تو بات یہ ہے کہ روپیہ جیب میں ہونا چاہیے ذہن میں نہیں ہونا چاہیے، ہر وقت روپے پیسہ کمانے کی آرزو انسان کو لے ڈوبتی ہے آپ کا ذہن اس میں اٹھنے والے خیالات تخیلات ایک حقیر سی چیز کمانے کے لیے نہیں ہے یہ وہ معرفت کے خزانے آپ کو عطا کر سکتے ہیں جن سے آپ نا آشنا ہیں، ضرورت ہے کہ دنیاوی الائشوں سے جان چھڑائی جائے جس حد تک ممکن ہے اور اپنے باطن کی صفائی کا عمل ہر وقت جاری رکھا جائے، آپ کوشش سے اِس مقام کو پا سکتے ہیں لیکن کچھ انسانوں کو چن لیا جاتا ہے اس سفر کے لیے اُن کا بازو تھام لیا جاتا ہے حقیقتوں اور معرفتوں کے در اُن پہ کھل جاتے ہیں اور پھر محبتوں کا سفر جاری رہتا ہے جو کہ سفر ہی سفر ہے۔

اللہ تبارک و تعالی آپ کے کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

Check Also

Hamare Zamano Mein Sirf Bacon Ki Home Delivery, Khano Ki Nahi

By Azhar Hussain Azmi