Allah Pak Nidamatein Qabool Farmaye
اللہ پاک ندامتیں قبول فرمائے

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
زندگی میں کچھ دوست ایسے مل جاتے ہیں جو یہ بات سمجھا جاتے ہیں کہ قدرت کے کیا راز ہیں اور اللہ تبارک و تعالی نے جو نظام انسانیت کے لیے وقف کیا ہے اُس میں سے کیسے عافیت سے گزر جانا ہے۔
ہمارے ایک بہت ہی اچھے دوست جن سے شناسائی کچھ زیادہ عرصے پر محیط نہیں ہے، انہوں نے ہمیں اِس قابل سمجھا کہ اپنے کچھ مسائل بیان فرمائیں اور اِس پہ مشورہ کریں، دوست دوست ہوتا ہے اِس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی اُن کی عمر میری عمر سے بہت کم ہے اور حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں، انہوں نے اپنا مسئلہ بیان کیا کہ تقریباََ چار سال ہو گئے ہیں لیکن کوئی اولاد نہیں ہے، جو لوگ نئے نئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں اور شادی شدہ زندگی میں مسائل کا سامنا کرتے ہیں میرا ایک بنیادی سوال اُن سے ہوتا ہے کہ، آپ نے محبت کی شادی کی ہے۔
میرے اِس دوست کی بھی کچھ ایسی ہی کہانی ہے تفصیل تو انہوں نے نہیں بتائی لیکن میرے استفسار کرنے پر وہ گویا ہوئے کہ جی میری محبت کی شادی ہے، تو میرا اگلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ کے والدین اِس شادی میں شامل تھے، اُن کی رضا مندی شامل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ جی نہیں میرے والدین ناراض تھے وہ شادی میں اُس طرح شامل نہیں ہوئے، وہ اِس شادی پر راضی نہیں تھے، تو میرا مشورہ یہی تھا کہ پہلے آپ والدین کو راضی کریں نہیں تو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ اللہ تبارک و تعالی کا نظام ہے کہ والدین کا منکر اُن کا دل دکھانے والا دین و دنیا میں آسانیاں نہیں پاتا سکون نہیں پاتا۔
یہ تو دنیاوی مسائل ہیں اولاد کا نہ ہونا یا ازدواجی زندگی کا خوش اسلوبی سے نہ چلنا، بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو عرفان کی منزل عطا نہیں ہو سکتی، والدین کا نافرمان ہمیشہ روح کے ویرانے میں رہتا ہے اور حقیقتوں کا مسافر نہیں بن سکتا اُس کے اِس سفر پر قدغن لگا دی جاتی ہے۔ روک دیا جاتا ہے۔
وہ مزید فرمانے لگے جی کچھ میڈیکل ٹیسٹ ہوئے ہیں ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ اولاد کا نہ ہونا مرد کی طرف سے ہے یعنی میرے دوست کی طرف سے اور کچھ ادویات دی ہیں اور مزید فرمایا ہے کہ 15 فیصد ہی متوقع ہے کہ آپ صاحب اولاد ہوں، وہ یہ فرما رہے تھے اور میرے ذہن میں اُن کا یہ جملہ کچھ اِس طرح سے گردش کر رہا تھا کہ 15 فیصد چانس ہیں کہ ندامت قبول ہو جائے۔
یہ قدرت کا قانون ہے، اب یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ اِن میں یہ جو حیاتیاطی خامی تھی یا بیماری کہہ لیں یہ تو شادی سے پہلے کی ہوگی لیکن شادی کے بعد ڈاکٹرز نے اپنی رائے دی جو کہ لامحالہ شادی کے بعد ہی عیاں ہونی تھی، لیکن قدرت نے یہ بیماری اُن میں شادی سے بہت پہلے رکھ دی تھی، شاید پیدائش کے بعد ہی کہ اُن کا صاحب اولاد ہونا مشکل ہے، اب ذہن اس طرف جاتا ہے کہ کیا یہ نصیب میں لکھا تھا کہ یہ انسان والدین سے سرکش ہوگا والدین کی نافرمانی کرے گا اور پھر اُس کو سزا کے طور پر بے اولاد رکھا جائے گا، اس کیس میں 15 فیصد چانسز ہیں کہ اولاد ہو سکے بعض کیسز میں تو بالکل بھی اولاد نہیں ہو سکتی تو کیا وہ بھی نصیب میں لکھا ہے تو اِس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ جی ہاں نصیب طے ہوتے ہیں آپ کی اطاعتیں آپ کی سرکشیاں آپ کی نافرمانیاں لکھ دی گئی ہوتی ہیں اور اُن کی سزائیں اور جزائیں بھی لکھ دی گئی ہوتی ہیں۔
آپ کے اعمال آپ کو نصیب کی طرف لے کے جا رہے ہوتے ہیں لیکن حضرتِ انسان یہ بات نہیں سمجھتا، اب اِس سے آگے کوئی پوچھے گا جی ایسے نصیب کیوں لکھ دیے جاتے ہیں تو اِس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ مالک کا حکم، مالک کی مرضی اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بزرگوں سے کچھ گستاخیاں کچھ غلطیاں ایسی ہوئی ہوں جو کہ اگے اولاد کے سامنے آجائیں، کیونکہ اگر معافی نہ ملی ہو تو یہ رد عمل کے سلسلے آگے نسلوں تک جاتے ہیں اور بزرگوں کے گناہ اولاد کو بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
اِس کا حل یہ ہے کہ آپ دعا کریں اپنے بچوں کے لیے، بزرگوں نے اِس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ رات کو لگ بھگ تہجد کے وقت جب بچے سوئے ہوں تو اُن کے پاس کھڑے ہو کر دعا کریں کہ اللہ تبارک و تعالی آپ کی سرکشیوں آپ کی نافرمانیوں اور آپ کے گناہوں کی سزا سے آپ کی اولاد کو محفوظ رکھے، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں کیونکہ نصیب بدل جاتے ہیں کسی کی دعا سے، کہتے ہیں کہ نصیب کسی کی دعا میں ہوتا ہے اور دعا بھی وہ جو کہہ کر نہیں کروائی جاتی، کسی کے ساتھ حسنِ سلوک اتنا ہونا چاہیے کہ کوئی دل سے دعا دے جائے۔ راہیں سیدھی کر جائے، جن لوگوں کو حقیقتوں کے سفر نصیب ہوئے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی دعا کے تحت ہی ہیں، بزرگوں کی دعا لگ جاتی ہے، تو پھر ہی نصیب کھلتے ہیں
اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

