Friday, 10 July 2026
  1.  Home
  2. Qadir Khan Yousafzai
  3. Aabna e Hormuz Ke Pani Pur Sakoon Nahi Honge

Aabna e Hormuz Ke Pani Pur Sakoon Nahi Honge

آبنائے ہرمز کے پانی پرسکون نہیں ہوں گے

8 جولائی 2026 کی رات، آبنائے ہرمز کے پانی ایک بار پھر بارود کی بو سے بھر گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائی کی ہے۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ خلیج میں تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو محفوظ بنایا جائے۔ یہ خبر محض ایک فوجی بلیٹن نہیں تھی۔ یہ ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک اور بے خواب رات کا اعلان بھی تھی۔ کویت، بحرین اور قطر کے شہروں میں سائرن کی آوازیں گونجیں اور لوگ خوفزدہ ہو کر جاگ اٹھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل نیٹو اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ ان کا یہ بیان دراصل اس نئی کارروائی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

7 جولائی کی رات امریکی افواج نے ایران کے 80 سے زائد فوجی اہداف پر حملہ کیا۔ ان اہداف میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات اور انقلابی گارڈز کی 60 سے زائد کشتیاں شامل تھیں۔ یہ کارروائی دراصل ایک ردعمل تھی۔ مبینہ طور پر ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری ایل این جی بردار جہاز سمیت تین تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تھا۔ سینٹرل کمانڈ نے اس عمل کو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ اگلے ہی روز، 8 جولائی کو، امریکی افواج نے مزید کارروائی کی۔ اس بار مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرہ بنانے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا بتایا گیا۔ یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ کیا یہ محض دفاعی اقدام تھا یا طاقت کے مظاہرے کی ایک اور کڑی؟ ایران نے اس کا جواب فوری طور پر دیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا۔ ان میں کویت کا علی السالم فضائی اڈہ اور بحرین کا وہ مرکز شامل تھا جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے۔ ایران نے بحرین، کویت اور قطر پر جوابی حملے کیے۔ اس سے وہ عبوری معاہدہ جو جنگ کے خاتمے کی ضمانت دیتا تھا، ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا۔

اس ساری کارروائی کے دوران عام لوگوں کی زندگی کیسی رہی؟ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام تلاش کریں۔ دو گھنٹوں میں دوسری بار سائرن بجے۔ کویت کی فوج نے بتایا کہ وہ آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے سے نبرد آزما ہے۔ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھونس اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا ہے، ہم جھکیں گے نہیں۔ ان الفاظ میں غصہ بھی ہے اور بے بسی بھی۔ دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف یہ ہے کہ انہوں نے پہلے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ تیل کی پابندیاں 60 دن کے لیے نرم کی تھیں۔ مگر ایران کی جانب سے جہازوں پر حملے جاری رہنے پر انہیں سختی سے جواب دینا پڑا۔ یہ تصادم دراصل اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی اور گزشتہ ماہ ہونے والی مفاہمت کی یادداشت کی ناکامی کی کہانی بھی سناتا ہے۔ اس یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ یہ سلسلہ پہلے بھی متعدد بار ٹوٹ چکا تھا۔ ایران نے مئی کے آخر میں بھی امریکی حملوں کو جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی قرار دیا تھا، وہ بھی اس وقت جب دوحہ میں امن مذاکرات جاری تھے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اعتماد کی بنیاد پہلے ہی کمزور تھی۔ ہر نیا حملہ اسے مزید کھوکھلا کر رہا ہے۔

اب یہاں ایک مخالف نقطہ نظر پر غور کرنا ضروری ہے۔ کچھ تجزیہ کار اس کارروائی کو محض جائز دفاعی ردعمل سمجھتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اس کشیدگی کی وجہ سے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو صرف خلیج کا عام آدمی نہیں، بلکہ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا وہ عام آدمی بھی مہنگائی کی چکی میں پستا ہے جس کا اس تنازع سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ مزید برآں، تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر ان حملوں سے سمندر میں تیل بہنے (Oil Spill) کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ماحولیاتی تباہی ان مقامی ماہی گیروں کے روزگار کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے جو نسل در نسل اسی سمندر سے وابستہ ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایران کی معیشت پابندیوں، جنگ اور امریکی ناکہ بندی سے پہلے ہی بحران کا شکار ہے۔ وہ تیل کی پابندیاں ہٹانے اور منجمد فنڈز تک رسائی چاہتا ہے، جس کے لیے وہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی استعمال کر رہا ہے۔

مگر سوال یہ رہتا ہے کہ کیا جوابی حملوں کا یہ سلسلہ کبھی رکے گا؟ یا یہ ایک ایسا چکر بن چکا ہے جس میں ہر فریق اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل تو دیتا ہے، مگر عام آدمی کی تکلیف کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں؟ ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز نے اعلان کیا کہ وہ امریکی جارحیت کا سخت جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ یہ بیان بذات خود اس بات کی علامت ہے کہ دونوں طرف کی قیادت اپنے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کمزور نہیں، طاقتور ہے۔ مگر طاقت کے یہ مظاہرے اکثر ان لوگوں کی قیمت پر ہوتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔

خلیجی ممالک کے اتحادی نہ اس جنگ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسے روکنے کی مکمل طاقت رکھتے ہیں۔ وہ بیک ڈور رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو جنگ بندی کی طرف واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔ عمان اور قطر جیسے ممالک نے ماضی میں بھی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے۔ بالآخر، یہ کہانی صرف میزائلوں اور جنگی جہازوں کی نہیں۔ یہ اس ماں کی بھی ہے جو بحرین کے کسی گھر میں اپنے بچے کو سینے سے لگائے سائرن کے تھمنے کا انتظار کر رہی ہے۔ یہ اس ایرانی ماہی گیر کی بھی کہانی ہے جو نہیں جانتا کہ کل اس کی کشتی کس کے حملے کی زد میں آئے گی۔ جب تک بڑی طاقتیں اپنی حکمت عملیوں کو انسانی زندگیوں سے زیادہ اہمیت دیتی رہیں گی، آبنائے ہرمز کے پانی پرسکون نہیں ہوں گے۔ سفارت کاری کا دروازہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا، مگر یہ کھڑکی کب تک کھلی رہے گی، یہ کوئی نہیں جانتا۔

Check Also

Sheru Doodh Wala, Jaane Kahan Gaye Ye Log

By Azhar Hussain Azmi