نہ انکی دوستی اچھی نہ انکی دشمنی

کہا جاتا ہے کسی بھی شعبہ ہائے میں بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے، اسکے کار پرداز ہردم ادارے کی ترقی اور ترویج کے لئے نہ صرف فکر مند رہتے ہیں بلکہ متحرک بھی، بالخصوص جن شعبہ جات کا واسطہ براہ راست عوام سے ہوتا ہے، تاکہ عوامی شکایت کا ازالہ کیا جائے اس ضمن میں سفارشات مرتب کی جاتی اور، سروے کروائے جاتے ہیں، کھلی کچہریاں لگائی جاتی ہیں، بیرون دنیا کے اداروں کا جائزہ لینے کے لئے افسران بالا کو باہر بھیجا جاتا ہے، تاکہ انکی ورکنگ کا جائزہ لے کر ادارہ جات کو مثالی بنانے کے لئے قواعد و ضوابط اور طرز عمل کا اطلاق کیا جائے، جووہاں رائج العمل ہیں۔ قابل ذکر شعبہ تو پولیس ہی کا ہے، جسکے بارے میں عام شہری شاکی رہتا ہے۔
فی زمانہ اعلی تعلیم یافتہ پولیس آفیسر کے ہاتھ میں مذکورہ ادارہ کی باگ ڈور ہے، جنہوں نے پولیس کے متعلق رائے کی تبدیلی کی بابت بھاری بھر سرمایہ خرچ کرکے پولیس اسٹیشن سے لے کر افسران کے دفاتر کی تزائن و آسائش کی ہے، تاکہ عام شہری اور پولیس ملازمین ان میں راحت اور تفاخر محسوس کریں۔
ہر چند پولیس کی یونیفارم میں تبدیلی پنجاب میں لائی گئی، مگر ان کے رویے وہی رہے تو کسی من چلے نے کہا کہ اب انھیں "احرام" پہنوا کر بھی دیکھ لیں شائد رویوں میں مثبت تبدیلی آجائے۔
اسکی شہادت انسپکٹر پولیس کے قتل سے ملتی ہے جس کو ایک موٹر مکینک نے سرکاری پستول سے فائر کرکے ڈھیر کر دیا، قاتل کو رنج تھا کہ وہ کسی کی عزت کا لحاظ نہیں کرتا اور بلا امتیاز سب کو بہودہ گالیاں دیتا ہے، اس واردات کے بعد سوشل میڈیا پر نیا پنڈورہ بکس کھل گیا، مقتول کی حمایت اور مخالفت میں گفتگو کا آغاز ہوا، اسکی دیانت داری اور فرض شناسی پر بات ہوئی، مگر غالب تعداد نے اس کے غیر مناسب رویہ کی بہر حال شکایت ضرور کی۔
پولیس کی جانب سے سلوگن یہ متعارف کرایا گیا کہ" نفرت جرم سے ہے مجرم سے نہیں" مگر سوشل میڈیا پر موجود ُپر تشدد وڈیوز پولیس کے منفی رویہ کی عکاسی کرتی ہیں، معروف ایڈوکیٹ اسی میڈیا پر بتا رہے تھے کہ اپنے شناختی کارڈ کا جائزہ لیتے رہیں، پنجاب پولیس آج کل مقدمہ مات درج کر لیتی ہے، بد قسمتی سے ناکہ پر آپ ان کے ہاتھ لگ جائیں تو شناختی کارڈ کے نمبر سے دھر لئے جائیں گے۔
سندھ پولیس کے ناروا سلوک، بد عنوانی کی شکایت کی بابت چینی شہریوں نے انصاف کے حصول کے لئے معززعدالت عالیہ کے دروازے پر دستک بھی دی ہے۔
معروف نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں پولیس کے معرودف ڈی ایس پی کا تذکرہ ڈراون کے ذریعہ سرحد پار منشیات کے تناظر میں ہوا، جس میں موصوف کے بارے میں نئے نئے انکشافات ہوئے کہ1994 سے اب تلک وہ چھ سے زائد بار ملازمت سے برخاست ہونے کا "اعزاز" پاچکے اور 45 سے زیادہ دفعہ وہ معطل قرار پائے، قابل ذکر"منافع بخش کاروبار" کے فیض کی بدولت وہ اپنی مدت ملازمت کے دوران 145 گاڑیاں خرید چکے جو ان کے نام تھیں، ڈی ایچ اے لاہور میں چار کنال کے گھر میں رہتے جبکہ کئی اور مکانات انکی ملکیت ہیں، یہ بھی بتایا گیا کہ انکی "خفتہ صلاحیتوں" سے متاثر ہو کر سابقہ سی پی او نے انھیں انسداد منشیات شعبہ کا سربراہ بھی بنایا تھا۔
مذکورہ رپورٹ کو مثبت آنکھ سے اگر دیکھا جائے تو یہ قیاس کیا جا سکتا ہے، کہ اگر "دست شفقت" سر پر ہو تو غریب سماج سے پولیس کا ادنیٰ آفیسر بھی خاصا دھن کشید کر سکتا ہے، ہائی فائی انکوائری کے بعد "یہ کماؤ پتر" کس حال میں ہے، راوی بتانے سے قاصر ہے، لیکن اُس محکمہ کے ذمہ داران کو دیئے بغیر چارہ نہیں کہ جنہوں نے سینکڑوں گاڑیاں ایک فرد کے نام کرنے کے باوجود اس کی "نیت" پر شک نہیں کیا۔
حلقہ احباب میں سے دو نے پولیس میں چند سال کانسٹیبل کے فرائض انجام دینے کے بعد شعبہ تعلیم اختیار کیا، ازراہ تعفن بتانے لگے ایک بار رات گشت کے موقع پر پارک میں جوا کھیلتے افراد کو پکڑا، سب سے زیادہ پیسے جس ملزم سے نکلے جب تلاشی لی توجیب میں موجود کارڈ سے پتہ چلا یہ اپنا "پیٹی" بھائی تھا۔
دوسرے نے کہا گشت کے موقع ڈی ایس پی نے اے ٹی ایم سے پیسے نکلواتے ہوئے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ انھیں اپنی جیب سے یوٹیلیٹی بلز جمع کروانے پڑتے ہیں، بین السطور ماتحت کے لئے پیغام تھا، جس طرح ہم نے افسران کی ایسی بھاری بھر ذمہ داریاں اٹھائی ہیں، ماتحتوں کو بھی اب اس قابل ہونا چاہئے، بتاتے ہیں گشت پر افسر نے قبرستان کے کونے میں گاڑی کھڑی کی، جسے دیکھ کر ایک فرد انکی طرف آیا اور انکی مٹھی میں کچھ رقم رکھ دی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے لوٹ گیا، بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ جواریوں کا سرغنہ تھا۔ مٹھی گرم کرنے کا کلچر پولیس کے اندر میں بھی آباد ہے۔
دوست نے بتایا کہ غریب گھرانے ان کا عزیز ایمانداری کے بلند بانگ دعویٰ کے ساتھ پولیس میں بھرتی ہوا مگر دولت کی ریل پیل کے سامنے اس کا سارا جذبہ ڈھیر ہوگیا، مشاہدہ ہے کہ تعلیم یافتہ ملازمین بھی کار، کوٹھی، پیسہ کے حصول میں نمک کی کان میں نمک ہوگئے ہیں، جنہیں پبلک سروس کمیشن کی وساطت میں، دیانت اور ایمانداری کے نام پر محکمہ میں داخل کیا گیا تھا۔
عوامی رائے ہے کہ پولیس کا محکمہ اتنا با صلاحیت ضرور ہے کہ چشم زدن میں جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانوں کا پتہ لگا لے، مگر ان پر ہاتھ ڈالنے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں، محض یہ شعبہ اس کا ذمہ دار نہیں، ریاست کے دیگر سٹیک ہولڈرز بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
سابق آئی جی پنجاب چیمہ صاحب نے اپنی خود نوشت میں لکھا، کہ جب اُس دور کے آئی جی پنجاب نے بہاولپور سے وفاقی وزیر کو بتایا کہ انتہائی ایماندار آفیسر آپ کے ضلع میں بھجوا رہے ہیں، تو انھوں وزیر اعظم کو فون پر یہ کہتے ہوئے مجوزہ ایس ایس پی کا تبادلہ منسوخ کروا دیا کہ اتنا اچھا اور بہترین آفسیر انھیں نہیں چاہئے۔
پولیس میں سیاسی مداخلت کی ایسی ہزاروں شہادتیں موجود ہیں، جو اس شعبہ کے زوال کا سبب بھی ہیں۔ ہر چند اعلی قیادت عوام اور پولیس کے مابین فاصلے کم کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے، لیکن اصل معاملہ ان کے رویوں کا ہے آج بھی ان میں سامراجی رنگ صاف نظرآتا ہے، حفیظ جونپوری کے شعر کا یہ مصرعہ ہماری پولیس پر صادق آتا ہے۔
نہ انکی دوستی اچھی نہ انکی دشمنی اچھی۔