Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Javed Chaudhry
  3. Tehran Mein Kya Dekha (1)

Tehran Mein Kya Dekha (1)

تہران میں کیا دیکھا (1)

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا، اسلام آباد سے ڈائریکٹ فلائیٹ تھی، ایران کے بارے میں دنیا غلط فہمی کا شکار ہے، یہ اسے پس ماندہ سمجھتی ہے جب کہ یہ انتہائی ماڈرن اور خوش حال ملک ہے، آپ اس کا اندازہ ہوائی سفر سے لگا لیجیے، ایران میں تیرہ ڈومیسٹک ائیرلائینز اورتمام چھوٹے بڑے شہروں میں ائیر پورٹس ہیں چناں چہ پورے ملک میں فلائیٹ کنکشن ہیں اوریہ پاکستان کے مقابلے میں سستی بھی ہیں شاید اسی لیے ایران کے تمام ائیرپورٹس پر رش نظر آتا ہے۔

تہران میں دو ائیرپورٹس ہیں، امام خمینی ائیرپورٹ انٹرنیشنل فلائیٹس کے لیے مختص ہے جب کہ مہرآباد ائیرپورٹ سے ڈومیسٹک فلائیٹس آپریٹ ہوتی ہیں، مہر آباد وہی ائیرپورٹ ہے جہاں سے16 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے فرار ہوا تھا اور جہاں یکم فروری 1979ء کو امام خمینی نے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا تھا، شاہ ایران کے طیارے نے مہرآباد سے آخری اڑان بھری، گھوم کر تہران کا فضائی جائزہ لیا، سڑکوں پر مرگ برشاہ کے نعرے لگاتے لاکھوں لوگوں اور تہران کے پہاڑی سلسلے البورزپر نظر ڈالی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا، شاہ ایران نے جلاوطنی میں عبرت ناک زندگی گزاری تھی، پوری دنیا میں صرف مصریوں نے اس کی مدد کی۔

انورسادات نے اسے پناہ دی اورجولائی 1980ء میں انتقال کے بعد اس کی تدفین بھی کی، شاہ ایران کا مقبرہ آج بھی قاہرہ میں الرفائی مسجد میں ہے، مجھے وہاں جانے کا اتفاق ہو چکا ہے۔ ہم پاکستان سے امام خمینی ائیرپورٹ پر اترے، ائیرپورٹ جدید اور شان دار ہے اور یہ امام خمینی کے روضے کے قریب واقع ہے، ہماری پاکستان واپسی بھی اسی ائیرپورٹ سے ہوئی اور ہم اس کے سی آئی پی لائونج کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے، مہر آباد اور امام خمینی ائیرپورٹس پر بے شمار ٹیکسیاں کھڑی ہوتی ہیں، میرا مشورہ ہے آپ ان کے جھانسے میں نہ آئیں اور ائیرپورٹ کے اندر موجود ٹیکسیوں کی کمپنی سے ٹیکسی لیں، یہ آپ کو سستی بھی پڑے گی اور ڈرائیور راستے میں آپ کو تنگ بھی نہیں کرے گا تاہم ایران میں ٹیکسیوں کا معیار اچھا نہیں ہے۔

گاڑیاں پرانی اور گندی ہوتی ہیں، تہران ایک بڑا اور مصروف شہر ہے، گاڑیاں بہت زیادہ ہیں لہٰذا ٹریفک جام معمول ہے، آپ دس منٹ کا فاصلہ عموماً ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرتے ہیں، حکومت نے اس کے تدارک کے لیے ایک دل چسپ فارمولا بنا رکھا ہے، ایک دن میں آڈ (Odd) نمبرز کی گاڑیاں سڑک پر آ سکتی ہیں اور دوسرے دن ایون (Even) نمبرز کی یعنی ایک دن میں تہران کی صرف آدھی گاڑیاں باہر آتی ہیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک زیادہ ہوتی ہے، میں آدھی سے زیادہ دنیا دیکھ چکا ہوں مگر تہران سے زیادہ ٹریفک جام میں نے کہیں نہیں دیکھی جب کہ حکومت نے پورے شہر میں ٹنلز، ہائی ویز، انڈر پاسز اور اوورہیڈ برجز بنا رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک تہران کا بہت بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ائیرپورٹ سے ہوٹل پہنچنے میں گھنٹہ لگ گیا جب کہ ہوٹل بمشکل 20 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔

تہران کے مضافات میں ایک تاریخی شہر ہوتا تھا "رے"۔ بو علی سینا جیسے سینکڑوں مشاہیر کبھی اس شہر میں رہائش پذیر تھے، ایک روایت کے مطابق بی بی شہر بانو واقعہ کربلا کے بعد شہر رے آ گئی تھیں، روایات کے مطابق حضرت امام حسینؓ نے 10 محرم کی صبح انہیں گھوڑے دُل دُل پر بٹھا کر ایران روانہ کر دیا تھا، بی بی طویل مسافت کے بعد رے پہنچیں اور زندگی کے آخری سال یہیں بسر کیے، ان کا وصال اسی شہر میں ہوا، ان کا روضہ اور مسجدرے میں ہے تاہم یہ دعویٰ تصدیق اور تحقیق طلب ہے، رے شہر چنگیز خان نے برباد کر دیا تھا، یہ اب تہران کا حصہ ہے اور لوگ بی بی شہر بانو سے منسلک عمارتوں کی زیارت کے لیے یہاں آتے ہیں۔

مجھے 2024ء میں وہاں جانے اور زیارت کا موقع ملا، تہران کے چار حصے ہیں نارتھ سائیڈ، سائوتھ سائیڈ اور ایسٹ اور ویسٹ سائیڈز، یہ چاروں سائیڈز پورے پورے شہر ہیں اور ان کے درمیان ٹھیک ٹھاک فاصلہ ہے اور آپ کو ٹریفک کی وجہ سے ایک سائیڈ سے دوسری سائیڈ تک پہنچنے میں اکثر اوقات دو گھنٹے لگ جاتے ہیں، نارتھ سائیڈ پرانی اور مہنگی ہے، یہاں سو میٹر کے فلیٹس کی قیمت دو ملین ڈالر سے زیادہ ہے، یہ حصہ پہاڑیوں پرمشتمل ہے لہٰذا سڑکیں ڈھلوانی ہیں، اس حصے میں کبھی بڑے بڑے محلات اور ویلاز ہوتے تھے لیکن زمینوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اب یہاں اپارٹمنٹس کی بلندوبالا عمارتیں بن چکی ہیں۔

اسلام آباد میں ون ایونیو اور سینٹورس دو بڑی عمارتیں ہیں، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے تہران میں ایسی ہزار بارہ سو عمارتیں ہیں اور ہر عمارت آپ کی توجہ کھینچ لیتی ہے، آپ اس سے شہر کے والیم کا اندازہ کر لیجیے، میں نے 2024ء میں تہران کی چار جگہیں وزٹ کی تھیں، یہ چاروں تجربات حیران کن تھے، میں اس وزٹ میں تہران کے انوویشن(Innovation) پارک گیا تھا، یہ شہر کی ایسٹ سائیڈ کے مضافات میں ہے اور ایران کی سلی کان ویلی کہلاتا ہے، راستے میں سڑک کی دونوں سائیڈز پر پاس داران کی امام حسین یونیورسٹی تھی۔

پاس داران ریاست کے اندر ایک مضبوط ریاست ہیں، ان کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور یہ ملک کے تقریباً تمام شعبوں اور شہروں میں موجود ہیں، یہ انقلابی فورس شاہ ایران کی رخصتی کے بعد بنی اور سیاسی حکومت سے زیادہ مضبوط ہیں، آپ اسے آسان لفظوں میں ایران کی اسٹیبلشمنٹ کہہ سکتے ہیں، یہ اسٹیبلشمنٹ بڑے بڑے کاروبار بھی کر رہی ہے لہٰذا اس کے پاس سرکاری خزانے سے زیادہ رقم ہے اور یہ اس رقم سے اپنی تعداد اور قوت میں اضافہ کرتی جا رہی ہے، پاس داران نے اپنی یونیورسٹیاں اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ تک بنا رکھے ہیں، یہ بھرتیوں کے بعد اپنے لوگوں کو ٹف ٹریننگ دیتے ہیں، امام حسین یونیورسٹی ان انسٹی ٹیوٹس میں سے ایک ہے اور میں اس کا دائرہ اور رقبہ دیکھ کر حیران رہ گیا، اس کا کیمپس میلوں تک پھیلا ہوا تھا اور یہ سڑک کی دونوں سائیڈز پر دور تک دکھائی دیتا تھا، ہم امام حسین یونیورسٹی سے گزر کر آخر میں ایران کی سلی کان ویلی پہنچ گئے، آپ یقین کریں وہ جگہ میری توقع سے ہزار گنا زیادہ خوب صورت اور جدید تھی۔

اس پارک میں ایران کی تمام بڑی کمپنیوں کے دفاتر اور لیبز ہیں اور تمام عمارتیں ایک سے بڑھ کر ایک خوب صورت اور جدید ہیں، میں نے ایسی عمارتیں اور ایسی سہولتیں امریکا کی سلی کان ویلی میں بھی نہیں دیکھیں، منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کو یہ جگہ ضرور وزٹ کرنی چاہیے اور پاکستان میں ایسے چار آئی ٹی پارکس بنانے چاہییں، ایران پر اقتصادی پابندیاں ہیں، انفلیشن بہت زیادہ ہے، ایک ڈالر کے دس لاکھ ایرانی ریال آتے ہیں، عالمی کریڈٹ کارڈز اور اے ٹی ایمز یہاں کام نہیں کرتیں چناں چہ گورنمنٹ نے اپنے "پے منٹس سسٹم" بنالیے ہیں۔

پورے ملک میں کریڈٹ کارڈز مشینیں ہیں اور آپ پانی کی بوتل سے لے کر جہاز تک کارڈ کے ذریعے خریدتے ہیں، آپ اگر کسی روضے پر چندہ یا کسی ضرورت مند کو رقم دیں گے تو بھی آن لائین دیں گے یا پھر مشین پر اپنا کارڈ ٹچ کریں گے، مجھے شیراز میں دو اندھے گلوکار دکھائی دیے، یہ گانا گا کر روزی کما رہے تھے، انہوں نے اپنے کندھوں پر کریڈٹ کارڈ مشینیں لگا رکھی تھیں اور لوگ اپنی خوشی کے مطابق کارڈ کے ذریعے انہیں پے منٹس کر رہے تھے، ملک کے تمام ریستورانوں، ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں صرف کارڈ استعمال ہوتے ہیں لہٰذا آپ کو پورے ملک میں کیش کائونٹر نہیں ملتے۔

پے منٹ سسٹم بنانے والی کمپنیوں کے دفتر اور لیبز بھی اسی کمپلیکس میں ہیں، یہ علاقہ پردیس کہلاتا ہے لہٰذا اس کمپلیکس کا نام پردیس ٹیکنالوجی کمپلیکس ہے، تہران اور کمپلیکس کے درمیان خشک پہاڑیوں کا سنسان علاقہ ہے، حکومت نے ٹنلز اور ہائی ویز کے ذریعے نہ صرف اس علاقے کو آپس میں جوڑ دیا ہے بلکہ پہاڑوں پر بڑے بڑے رہائشی کمپلیکس بنا کر یہاں بھی پورا شہر آباد کر دیا ہے، یہ شہر چین کی مدد سے بنایا گیا اور اس میں اب لاکھ کے قریب لوگ رہتے ہیں، حکومت کا خیال ہے مستقبل میں تہران کی آدھی آبادی یہاں شفٹ ہو جائے گی۔

مجھے اسی وزٹ میں بک گارڈن کمپلیکس بھی دیکھنے کا موقع ملا تھا، یہ علاقہ کبھی رہائشی بلاک ہوتا تھا، حکومت نے اسے خرید کر مسمار کیا اور یہاں بک گارڈن بنا دیا، آپ میری بات کو مبالغہ سمجھیں گے لیکن آپ یقین کریں میں نے ہیلسنکی کی لائبریری کے بعد دنیا میں اس سے زیادہ خوب صورت لائبریری اور بک کمپلیکس نہیں دیکھا، یہ ایک وسیع عمارت ہے جس میں بک شاپس، کانفرنس رومز، ریستوران اور کافی شاپس ہیں اور اس کے گرداگرد وسیع گارڈن اور واکنگ ٹریکس ہیں، آپ فیملی سمیت پورا دن یہاں گزار سکتے ہیں، یہاں بچوں اور خواتین کے الگ سیکشن اور ریسرچ کے لیے چھوٹے سائونڈ پروف کیبن ہیں، کمپلیکس کے باہر فوارے اورجاگنگ ٹریکس ہیں جب کہ آخر میں سینما گھر اور عجائب خانہ ہے۔

یہ جگہ پردیس کمپلیکس کے بعد دیکھنے لائق ہے، تیسری جگہ بام لینڈ ہے، یہ تہران کی ویسٹ سائیڈ پر ہے اور یہ ایک وسیع مصنوعی جھیل کے کنارے واقع ہے، ایران کی ایک پرائیویٹ کمپنی نے راول لیک جتنی مصنوعی جھیل بنائی اور اس کے گرد ریستوران، کافی شاپس اور مال بنا دیا اور یہ جگہ دیکھتے ہی دیکھتے ایران کی مہنگی ترین جگہ بن گئی، جھیل کی چاروں سائیڈز پر فلیٹس کی بلندوبالا عمارتیں ہیں، بام لینڈ میں واٹر سپورٹس بھی ہوتی ہیں اور لوگ واک اور جاگنگ بھی کرتے ہیں اور کشتی رانی بھی، یہ جگہ بھی لازمی دیکھی جانی چاہیے اور چوتھی جگہ مال آف ایران ہے، میں نے دوبئی کے بعد ایسا خوب صورت اور وسیع مال کہیں اور نہیں دیکھا۔

اس کی پارکنگ میں ساڑھے تین ہزار گاڑیاں کھڑی ہو سکتی ہیں، تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا تھااگروہ میری زندگی کا پہلا مال اور ایران دوسرا سیاحتی ملک ہوتا تو آپ میرے دعوے کو مبالغہ سمجھ سکتے تھے لیکن میں اب تک آدھی دنیا کے درجنوں مالز دیکھ چکا ہوں چناں چہ یہ صرف مبالغہ نہیں ہو سکتا، مال آف ایران واقعی وسیع اور جدید کمپلیکس ہے اور اس میں تین فائیو سٹار ہوٹلز، ڈانسنگ فائونٹین، گیمنگ زون، آئس ہاکی سٹیڈیم، واکنگ ٹریک اور ساڑھے تین ہزار گاڑیوں کی پارکنگ ہے، مجھے کم از کم ایران میں اس سائز اور اتنی سہولتوں سے مزین مال کی توقع نہیں تھی۔

آپ کمال دیکھیے، اس کا آدھا فلور لائبریری ہے اور یہ باقاعدہ رائل پیلس دکھائی دیتی ہے، آپ اگر ایک بار اس میں گھس جائیں تو آپ کا دل باہر نکلنے کے لیے راضی نہیں ہوگا، لائبریری کی چھت 60فٹ اونچی ہے اور اس کے تین لیولز پر کتابوں کی گیلریز ہیں اور ان میں دنیا جہاں کی کتابیں ہیں، آپ وہاں سارا دن گزار سکتے ہیں، اس سیکشن میں کتابوں کی دکانیں بھی ہیں، آپ کو وہاں سے تمام بیسٹ سیلر کتابیں اور سٹیشنری مل جاتی ہے، مال آف ایران کے ایک حصے میں قدیم بازار ہے، اس کا آرکی ٹیکچر کورڈ بازاروں جیسا ہے، چھت پر نیم دائروں میں گنبد ہیں، برآمدے میں آرچز ہیں اور اندر قیمتی قالینوں کی دکانیں ہیں۔

مجھے وہاں چھ لاکھ ڈالر کا قالین دیکھنے کا اتفاق ہوا، وہ ون پیس تھا اور اسے 14 خواتین نے تین سال میں مکمل کیا تھا، مال کی بیک سائیڈ پر ڈانسنگ فائونٹین ہیں، آدھ کلو میٹر لمبا پانی کا تالاب ہے، اس میں فوارے لگے ہیں اور یہ فوارے روشنی اور میوزک کے ساتھ جلتے، بجھتے اور تھرکتے ہیں، مال کی ایک سائیڈ کی تمام کھڑکیاں اس طرف کھلتی ہیں جب کہ دوسری سائیڈ پر ہوٹلز اور فلیٹس کے ٹاورز ہیں، شام کے وقت لوگ فواروں کے ساتھ ساتھ واک کرتے ہیں اور پھر کافی شاپس میں بیٹھ کر پانی کا رقص دیکھتے ہیں، اس مال میں بھی تمام دکانوں پر ایرانی مصنوعات ملتی ہیں۔

جاری ہے۔۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Ghaza Aur Iran Mein Lash Shumari

By Wusat Ullah Khan