یہ پیغام ہے کہ

وینزویلا کے خلاف امریکی کاروائی پر دنیا حیران اور پریشان ہے کیونکہ اِس سے اقوامِ متحدہ کے اُس چارٹر کی نفی ہوتی ہے جس کے آرٹیکل دو کی زیلی شق چار کے مطابق تمام رُکن ممالک پر بیرونی حملے غیر قانونی ہیں۔ لہذا بلا اشتعال کاروائی کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا مگر دنیا کی واحد سُپرپاور کے صدر کے حکم پر امریکی افواج سمندر پار معدنی دولت سے مالامال وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں پر حملے کرتیں اور ایک آزاد و خود مختار ملک کے صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک لے آتی ہیں۔
بدمعاشی، دہشت گردی اور اغوا کی اِس واردات کا امریکی حکومت فخریہ پرچار کر رہی ہے۔ اِس کاروائی سے چھوٹے اور دفاعی لحاظ سے کمزور ممالک میں عدمِ تحفظ جنم کا احساس دوچند ہوگا جس کی وجہ سے اپنی آزادی و خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے پر مجبورہوں گے وگرنہ کسی بھی طاقتور ملک کی طرف سے آزادی و خودمختاری کو پامال کرتے ہوئے منتخب حکمرانوں کو اغوا کرنے کا خدشہ رہے گا۔ اب ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوگی اور کمزور ممالک کے معدنی وسائل کی لوٹ مار بھی۔
ماضی کی طرح اب بھی طاقتور ممالک کسی اصول، اخلاق یا قانون کو اہمیت نہیں دیتے۔ یہ مہروں کو استعمال کرنے کے بعد انھیں بھی مار دیتے ہیں۔ گزشتہ صدی کے اختتام 1989 میں امریکہ نے پانامہ کے خلاف بھی ایسی نوعیت کی کاروائی کی تھی جس میں جنرل ڈکٹیٹر نوریگا کو نہ صرف فوجی آپریشن کے زریعے گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا بلکہ میامی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا بھی دی گئی۔ ایک اور اہم بات یہ کہ جنرل نوریگا نے سی آئی اے کے لیے بھی خدمات سرانجام دی تھیں مگر جب اقتدار میں آکر عوامی مفاد میں آزادانہ فیصلے کرنے لگے تواُسے گرفتار کرکے اپنے ملک لاکر عبرت کانشان بنا دیا گیا۔
صدام حسین کے زریعے آٹھ برس تک ایران، عراق جنگ کرائی گئی اِس جنگ میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ بے موت مارے گئے۔ جب صدام حسین نے بے مقصد جنگ ختم کرنے کی عملی کوششیں شروع کیں تو یہ کوششیں ہی اُس کی سزا کا موجب بن گئیں۔ عراق کو کویت پر قبضہ کرنے کا شارہ کرتے ہوئے عدم مداخلت کی یقین دہانی کرائی گئی جب صدام حسین نے یہ حماقت کرلی تو 2003 میں عراق کو تباہ اور صدام حسین کو عبرتناک طریقے سے ماردیا گیا۔ اصل بات صرف عراقی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
امریکی کاروائی کے بعد آج تک عراق سنبھل نہیں سکا۔ رواں صدی کے پہلے عشرے میں لیبیا کے بارے میں بھی کیمیائی ہتھیار حاصل کرنے کا ایساہی گمراہ کُن پراپیگنڈہ کیا گیا۔ کرنل قذافی کے بیٹے سیف السلام کو مجبور کیا گیا کہ اپنے والد کو تصفیہ کرنے کا کہیں۔ کرنل قذافی کے خلاف مقامی بغاوت کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی گئی۔ باغیوں کو تقویت دینے کے لیے لیبیا کی فوج پر فضائی حملے کیے۔ آخرکار 2011 میں کرنل قذافی کو مار دیا گیا۔ ایران اور نائجیریا کے معدنی وسائل پر بھی نظر ہے لیکن یہاں حکومتوں کی تبدیلی کا مقصد ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ یہ پیغام ہے کہ مت بھولیں جو استعمال ہوتے ہیں وہ ہمیشہ منظورِ نظر رہیں گے بلکہ مقصد پورا ہونے پر حرفِ غلط کی طرح مٹایا جاسکتا ہے۔
وینزویلا کے خلاف ہونے والی کاروائی نے اقوامِ متحدہ کی افادیت ختم کردی ہے کیونکہ یہ اِدارہ تنازعات ختم کرانے اور جنگیں روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ اِسے صرف طاقتور ممالک کرتے ہیں اِس کی قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں یہ پانچ مستقل ممالک کا یرغمال ہے اسرائیل کے آگے بھی بے بس ہے۔
کئی عشروں سے عالمی طاقتیں دنیا کے معدنی ذخائر پر کنڑول کی خواہشمند ہیں۔ امریکہ ہر قیمت پر عالمی تجارت ڈالر میں چاہتا ہے مگر اِس وقت عالمی تجارت میں ڈالر کاحصہ ساٹھ فیصد ہے جبکہ دیگر کرنسیوں کا حصہ چالیس فیصد ہوچکا ہے۔ برکس جیسی تنظیم ڈالر کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ وینز ویلا تو ہیوگوشاویز کے دورسے امریکہ و اسرائیل کے خلاف سرگرم ہے۔ لبنان پر بلاجواز اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی اور غزہ پر بمباری کی پاداش میں اسرائیلی سفیر کو ملک سے ہی نکال دیا۔ ہیوگو کی وفات کے بعد نکولس مادورونے صدر بن کر مزید سخت فیصلے کیے اور امریکہ و اسرائیل مخالف ممالک سے تعلقات بنائے ایرانی ڈرونز اور ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں کیں۔ مزید یہ کہ چین کو ارزاں نرخوں پر تیل و دیگر معدنیات دینا شروع کر دیں۔ یہی اُن کاصل جُرم ہے اسی جُرم پر مادوروکے خلاف منشیات اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی امریکی زرائع ابلاغ نے خبریں شائع کیں اور امریکہ نے 2025 میں اُن کی گرفتاری پر انعامی رقم پچیس سے پچاس لاکھ ملین ڈالر کردی۔
یہ ایسے فیصلے تھے جن میں پوشیدہ پیغام نہ سمجھنے پر آج امریکی قید میں انجام کا منتظر ہے اگر سمجھ کر ملکی دفاع کے ساتھ اپنے حفاظتی انتظامات بہتر کرتا تو صورتحال ایسی نہ ہوتی۔ وینزویلا لاطینی امریکہ کا وہ ملک ہے جس کے پاس تیل کے ذخائر سعودیہ، قطر اور ایران سے بھی ذیادہ ہیں۔ یہ تیل کی قیمت کی قیمت کم یا زیادہ کرسکتا ہے۔ اسی بنا پر ڈالر کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اِس کے پاس دیگر معدنیات کا بھی خزانہ ہے لیکن مادورو بروقت اپنے ملک کی اہمیت کا ادراک نہ کرسکا اور گرفتار ہے۔
اقوامِ متحدہ، چین، روس، کیوبا، برازیل، شمالی کوریا، ایران سمیت دنیا بھر میں وینزویلا کے خلاف امریکی کاروائی کی مذمت ہورہی ہے مگر امریکی رویے سے ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ روس اور چین نے بھی جاندار موقف اختیار نہیں کیا۔ روس یوکرین میں الجھا ہے تو چین کو تائیوان کا مسئلہ درپیش ہے۔ اسی لیے شاید موقف میں نرمی ہے۔ اب تو ایسے خدشات کا ظہار کیا جارہا ہے کہ اگلا نشانہ ایران، افغانستان اور نائیجیریا بن سکتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ دنیا جارحیت کے خلاف ایسا متفقہ موقف اپنائے جو نتیجہ خیز ثابت ہو۔
صدر ٹرمپ آٹھ جنگیں روکنے کا کریڈٹ لینے پر مُصر تھے مگر ڈالر میں تجارت اور معدنیات پر تصرف کے لیے حارحیت سے انھیں نیک نامی حاصل نہیں ہوئی۔ غزہ پر جانبداری سے بھی اُن کے انصاف پسند ہونے کی نفی ہوئی ہے۔ ایک طرف تو وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کرایا ہے لیکن عالمی عدالتِ انصاف سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود مجرم سے اعلانیہ ملتے اور پریس کانفرنسیں کرتے ہیں دیدہ دلیری سے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے اعلانات کرتے ہیں۔
یہ دُہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ وہ امن پسند نہیں بلکہ امن پسندی کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے جسے مادورو جیسا شخص بروقت سمجھ نہ سکا اور اب قید میں ہے۔ امریکہ نے جو کاروائی کی ہے اور جس طرح اقوامِ متحدہ بے بس دکھائی دیتی ہے اِس طرح تو دیگر طاقتور ممالک بھی جارحانہ کاروائیاں کرسکتے ہیں جس سے دنیا کا امن تباہ ہوگا۔ اگر روس جیسی فوجی قوت اور چین جیسی معاشی طاقت نے وینزویلا کے خلاف ہونے والی جارحیت پر ٹھوس موقف اختیار نہ کیا تو شائد اُن کے دوست ممالک آئندہ اُن پر کم ہی اعتبار نہ کریں۔

