Thursday, 03 April 2025
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Mulk Aur Iqtidar Bachane Ka Mashwara

Mulk Aur Iqtidar Bachane Ka Mashwara

ملک اور اقتدار بچانے کا مشورہ

روس اور یوکرین جنگ کا خاتمہ قریب ہے مگر دلچسپ پہلو ٹرمپ کی طرف سے اِس تنازع کا یوکرین کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے۔ اُن کے خیال میں جنگ سے قبل کسی آبرومندانہ معاہدے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ سعودی عرب میں جاری مزاکرات سے پریشان یوکرین کے لیے یہ سب کچھ ہتک آمیز ہے بھلے یوکرینی صدر امریکی ہم منصب پر روس کی غلط معلومات کے سامنے جھکنے اور پوٹن کو برسوں کی تنہائی سے نکالنے میں مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کریں، حقیقت یہ ہے کہ استعمال ہونے کے بعد غیر اہم ہو چکے ہیں۔

موجودہ حالات میں وہ اپنے مغربی شراکت داروں سے بھی ٹھوس حفاظتی ضمانتیں طلب کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے۔ ملکی مفاد کے منافی خیال کرتے ہوئے امریکہ سے معدنیات کے معاہدے کا پہلا مسودہ مسترد کرنے سے اب امریکہ کو بھی ناراض کر بیٹھے ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ میں اپنا ملک امریکہ کو نہیں بیچ سکتا بقول اُن کے یوکرین سے پچاس فیصد معدنیات کی ملکیت کا مطالبہ توامریکہ کرتا ہے مگر عوضانے میں دفاعی ضمانت تک نہیں دینا چاہتا۔

روس اور امریکہ میں عالمی حوالے سے یہی وجہ ہے کہ ریاض میں روسی اور امریکی حکام کی بات چیت کے نتیجے میں اب جبکہ سفارتی سرگرمیوں کا آغاز ہونے والا ہے تو پُر اعتماد پوٹن کسی ثالث کی ضرورت تک محسوس نہیں کرتے اور جنگ بندی بھی اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کی سوچ مغرب سے متضاد ہے صدر زیلنسکی کو آمر قرار دینے پر یورپی یونین کے ترجمان سٹیفن کیرسمیکرنے کہا ہے کہ یوکرین جمہوری ملک ہے پوٹن کا روس نہیں۔ جرمن چانسلر اولاف شولز نے آمر کہنے کو غلط اور خطرناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ درست یہ ہے کہ زیلنسکی یوکرین کے منتخب صدر ہیں مگر ٹرمپ کوایسی باتوں کی اِس لیے پرواہ نہیں کہ جنگ ختم کرانے کا کریڈٹ لینے کے ساتھ خود کو مغرب سے نیٹو اخراجات میں حصہ بڑھانے کامطالبہ منوا نے کی پوزیشن میں تصور کرتے ہیں۔

بات سادہ سی ہے امریکہ اپنی توجہ چین سے درپیش چیلنج کو مدِنظر رکھ کر تونائیاں وقف اور صرف کرناچاہتا ہے۔ اِس حوالے سے ٹرمپ اور امریکی مقتدرہ کی سوچ یکساں ہے دونوں ہی امریکی غلبہ قائم رکھنے پر متفق ہیں۔ چینی معیشت کا راستہ روکنے کا مقصد دنیا میں اُسے تنہا کرنے سے ہی پورا ہو سکتا ہے لیکن روس جیسی بڑی دفاعی طاقت کا جھکاؤ چین کی طرف ہونا اِس مقصد کو مشکل بناسکتا ہے۔ روس کے چین کی طرف جھکاؤ سے اُس کے ماضی کے اتحادی ممالک بیجنگ کے قریب آئے ہیں دیگر وجوہات اول، چینی سرمایہ کاری حاصل ہوتی ہے دوم، روس اور چین سے دفاع کے لیے مرضی کے مطابق ہتھیار حاصل کرنے کی سہولت ہے جو نہ صرف عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں سستے ہیں بلکہ اُدھار کی نوازش بھی ہوتی ہے۔

شام میں امریکی منشا کے مطابق اقتدار کی تبدیلی میں روس تعاون کرچکا شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار سے الگ ہونے کی وجہ سے ہی امریکہ اور اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کا منظرنامہ اپنی مرضی کے مطابق بنانے میں آسانی ہوئی ہے۔ اب جنگ ختم کرانے کے عوض نہ صرف روسی تعاون حاصل ہوگا بلکہ یوکرین کی معدنیات ہتھیانے کا قوی امکان ہے جو تاجرانہ ذہنیت رکھنے والے ٹرمپ کسی صورت کھونا پسندنہیں کریں گے۔ وہ تو نفع کی صورت میں یہاں تک کہتے ہیں کہ چین سے بھی نیا معاہدہ ممکن ہے جس طرح 2020 میں دونوں ممالک تجارتی معاہدے پر رضا مند ہوگئے تھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ ہر پہلو پر سوچ سمجھ کرآگے بڑھ رہے ہیں اور امریکی غلبے اور منافع کو پہلی ترجیح بنا چکے ہیں۔

یوکرین جنگ سے روس کا معاشی بحران کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں اُس کی تیل و گیس برآمدات متاثر ہوئی ہیں حالانکہ پابندیوں کے توڑ کی خاطر روس نے چین، بھارت سمیت کئی ممالک سے تجارت کو فروغ دینے کے لیے برآمدی اشیا کے نرخ تک گرا دیے مگر معیشت کو جزوی حد تک ہی سہارہ مِل سکا۔ اسی بنا پر یوکرین کے حوالہ سے اہداف حاصل کرنے کے بعد اُس کی کوشش ہے کہ تین برس سے جاری جنگ کا کچھ اِس طرح خاتمہ ہو کہ شکست کا تاثر نہ بنے۔ روس کی اِس ضرورت کو امریکہ پورا کرنے کے ساتھ عائد پابندیاں ہٹاکر لاحق معاشی خطرات بھی کم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر منگل کو اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انتخابات کے بغیر ایک ڈکٹیٹر زیلنسکی کے لیے جنگ بندی کی طرف تیزی سے آگے بڑھنا بہتر ہے ورنہ اُس کے پاس نہ ملک رہے گا اور نہ اقتدار بچے گا۔

یہ درست ہے کہ صدر زیلنسکی 2019 میں پانچ برس کے لیے صدر منتخب ہوئے، یہ مدت گزشتہ برس ختم ہو چکی مگر روسی حملے کے نتیجے میں نافذ مارشلا کے تحت اب بھی وہ صدرکے عہدے پر براجمان ہیں۔ اِس کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ ملک اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ہے لہذا جنگ کے ماحول میں انتخابات کرانا ممکن نہیں۔ روس نے یوکرین کے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اُس کی فوج سُرعت نہ سہی دھیرے دھیرے پیش قدمی کررہی ہے مگر بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود یوکرینی فوج عملی طور پر ملک کے دفاع میں ناکام ہے اور امریکہ اور مغربی ممالک سے ہتھیاروں کی صورت میں مسلسل امداد طلب کرنے پر اکتفا ہے۔

ٹرمپ کے اہداف بائیڈن انتظامیہ سے مختلف ہیں وہ یوکرین کو ہتھیار دیکر روس کی مزید مخالفت مول لینا نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ روس کی مرضی کے مطابق جنگ کے اختتام میں مدد دے کر امریکہ چاہتا ہے کہ روسی توانائی کے ذخائر چین کو سستے فروخت نہ کیے جائیں۔ سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان نے ٹرمپ کی خواہش پر چھ سو سے ایک ہزار ارب ڈالر امریکہ میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، اِس کے عوض ریاض کو مزاکرات کی میزبانی کا اعزاز دیا گیا ہے جس کا حیران کُن پہلو یہ ہے کہ حملہ آور روس کا وفد تو مدعو ہے لیکن دفاع کے لیے برسرِ پیکار امریکی اتحادی یوکرین کو نہیں بلایاگیا حالانکہ وہ امریکی شہ پر ہی روس سے الجھا ہے۔ اگر وہ نیٹو کی رُکنیت پر اصرار نہ کرتا تو روس ہرگز حملہ آور نہ ہوتا اب کئی اہم علاقوں سے محرومی کے ساتھ نیٹو رُکنیت سے دستبرداری ایسا صدمہ ہے جو صدر زیلنسکی کی سیاسی موت بن سکتا ہے۔

یوکرین کو ٹرمپ اچانک بیچ منجھدار نہیں چھوڑ رہے دراصل وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ سے امداد کی صورت میں اربوں ڈالر کا جو اسلحہ اور ہتھیار یوکرین کو دیاگیا اُس کے عوض زیلنسکی امریکہ کو منافع اب کچھ فائدہ بھی دیں۔ ٹرمپ کی نظر یوکرین کی قیمتی معدنیات پر ہے مگر ٹرمپ کا یہ انداز کسی صورت یوکرین کے مفاد میں نہیں تھا۔ زیلنسکی کی مقبولیت میں چار فیصد کمی اور ملک میں انتخابات کا مطالبہ ہی تازیانے سے کم نہ تھا کہ پوٹن سے ٹیلیفونک گفتگوکے بعد ٹرمپ نے رواں برس مئی میں روس کے دورے کا عندیہ دیدیا ہے۔ یہ عندیہ بھی دباؤ کا ایک حربہ ہے جو زیلنسکی کے سیاسی کردار کے خاتمے اور چھینے گئے علاقوں سے یوکرین کی ہمیشہ کے لیے محرومی پر منتج ہوسکتا ہے، علاوہ ازیں روس کو امریکہ اپنا احسان مند بناکر چین سے فاصلہ رکھنے کی فرمائش کے قابل ہوجائے گا۔

Check Also

America Mein Jamhuriat Ke Liye Muhabbat?

By Nusrat Javed