اقتدار میں خسارہ

دنیا افغانستان سے ایسے سنجیدہ اقدامات چاہتی ہے جس سے خطے میں امن قائم ہو مگر طالبان رجیم کی خواہش ہے کہ ہر خدمت کا اُنھیں معاوضہ ملے حالانکہ دنیا کا حصہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ دھونس، بلیک میلنگ اور دہشت گردی کو بطور پالیسی اختیار نہ کیا جائے لیکن یہ نُکتہ طالبان رجیم کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ اب دنیا جان گئی ہے کہ خطے کا امن بحال کرنا ہے تو طالبان رجیم پر دباؤ ڈال کر اُنھیں راہ راست پر لانا ہوگا تاکہ وہ دھونس، بلیک میلنگ اور دہشت گردی پر مشتمل پالیسی چھوڑ دیں۔ عالمی اِداروں سے لیکر خطے کے تمام ہمسایہ ممالک سے طالبان دور ہوچکے ہیں جس سے نہ صرف افغانستان میں غربت، بے روزگاری بڑھنے کا اندیشہ ہے بلکہ طالبان اقتدار کے خاتمے کے آثار جنم لے سکتے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا حالیہ اجلاس بہت اہم ہے جس میں عالمی برادی افغان طالبان پر خوب برسی اور انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔ تمام شرکا متفق نظر آئے کہ انتہا پسند طالبان کی سرپرستی میں افغان سرزمین سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا خطہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے متعدد ممالک کے مندوبین اور نمائندگان نے افغانستان کو دہشت گردوں کی آماجگاہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
چینی مستقل نمائندے فوکانگ نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین میں ٹی ٹی پی سمیت کئی دیگر دہشت گرد گروہ فعال اور ہمسایہ ممالک پر حملوں میں ملوث ہیں۔ ڈنمارک کی نمائندہ کرسٹینا مارکس لاسِن کے مطابق طالبان کو القاعدہ اور ٹی ٹی پی سمیت ایسے ہی دیگر دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے حصہ لینا چاہیے لیکن وہ ایسا نہیں کررہے۔ امریکی نمائندہ نے سکیورٹی کونسل کو انسدادِ دہشت گردی کے متعلق وعدوں میں پیش رفت نہ کرنے پر طالبان کو تنبیہ کا مطالبہ کردیا۔
پانامہ کے نمائندہ ایلوی الفاروڈی البانے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش سمیت دہشت گردوں کے باعث مسلح واقعات پر تشویش کا اظہار کیا پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافے کی وجہ سے طالبان کے اقدامات کو غیر موثر قراردیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے طالبان کی نگرانی، منصوبہ بندی اور مالی معاونت سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں۔ ایرانی مندوب سعید ایراوانی نے طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان افغان سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی یا تشدد کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور عبوری حکام دہشت گردوں کو ہر قسم کی مدد روکنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہیں۔
عالمی اضطراب کی اہم وجہ طالبان رجیم کی موجودگی میں افغان سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آنا ہے لیکن طالبان کے رویے سے ایسے اشارے نہیں ملتے جن سے معلوم ہو کہ دنیا کے اضطرات و تشویش کا کچھ اُنھیں بھی ادراک ہے وہ مال و دولت کے حصول کی تگ و دو میں مصروف نظر آتے ہیں۔ قبل ازیں پاکستان کا طالبان کے لیے نرم گوشہ تھا تاکہ انھیں افغانستان کا امن بحال کرنے اور دنیا کے لیے قابلِ قبول ہونے کا موقع مل سکے۔ پاکستان نے تو افغانستان کے منجمد اثاثے بھی طالبان کے حوالے کرنے کی مُہم چلائی لیکن جواب میں طالبان نے محسن کشی اور احسان فراموشی کی نہ صرف پاکستان کے خلاف فعال عناصر کی سرپرستی شروع کردی بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف بھی سرگرم عناصر کی اعانت کرنے لگے جس سے خطے میں تشدد و خونریزی کی نئی لہر نے جنم لیا۔
ظاہر ہے اور پاکستانی اِداروں کو براہ راست نشانہ بنایا جانے لگا اِس بارے پاکستان نے طالبان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی لیکن جب بات نہ بنی تب افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے پاکستان نے عالمی برادری کو ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کر دیئے اور دنیا پر واضح کر دیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے مراکز ختم کیے بغیر ہمسایہ ممالک اور خطے میں امن ممکن نہیں۔ اب دنیا جان گئی ہے کہ افغان رجیم کی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور سکیورٹی ناکامی خطہ کے امن کو سنگین خطرات میں ڈال سکتی ہے ایسی قیاس آرائیاں تقویت پانے لگی ہیں کہ طالبان کے متعلق عالمی رویہ تبدیل ہونے سے افغانستان کے اندر سے بغاوت زیادہ دور نہیں۔
رواں ہفتے تہران اجلاس میں افغان رویہ زیرِ بحث آیا جس میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک سمیت روس کے نمائندہ خصوصی نے شرکت کی اِس میں طالبان رجیم کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی لیکن کٹہرے میں کھڑا ہونے کے ڈر سے وہ شامل نہیں ہوئے مگر تہران اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردی سے متعلق تحفظات کُھل کر بتائے اور خطے میں امن، ترقی اور پائیدار سلامتی پر زور دیا۔ پاکستان کا طالبان کے متعلق تبدیل شدہ رویہ اِس بناپر بھی اہم ہے کہ 2025 میں پاکستان کے پاس سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست ہے اِس بناپر دنیا اُس کے موقف کو سنجیدہ لیتی ہے۔
طالبان کو اِس نقصان کا شاید ادراک ہی نہیں کہ پاکستان کی حمایت کھو کر وہ اپنا کتنا بڑا نقصان کر چکے ہیں۔ عالمی برادی بدظن ہونے سے کابل میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوگئی ہے اور پہلی بار قندھاری گروپ کو بڑے پیمانے پر عوامی نفرت کا سامنا ہے۔ قندھاری اور کابل گروپ میں ٹکراؤ خود افغانستان کے مفاد میں بھی نہیں۔ ایران اور پاکستان سے مہاجرین کو واپس بھجوانا ایک الگ بڑا بوجھ ہے جن کے لیے معاشی ترقی کے امکانات بہت کم ہیں۔ صحت و تعلیم کی سہولتوں کا بھی فقدان ہے اِس لیے کابل میں اقتدار کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں ہیں لیکن طالبان دولت کے لیے بھارت کی پراکسی بن کر خوش ہیں۔ اگر طالبان نے اپنا وجود برقرار رکھنا ہے تو انھیں امن کے لیے سنجیدہ ہونا ہوگا وگرنہ دنیا سے کٹنے کے ساتھ اقتدار سے بے دخلی یقینی ہے۔
کابل حکومت کو پاکستان کی ناراضی کا احساس نہیں لیکن عوام کو ناراضی کے نقصانات کا ادراک ہے کیونکہ افغانستان کے لیے پاکستان کی تجارتی راہداری بہت اہم ہے جس کا کوئی متبادل نہیں اسی لیے کابل یونیورسٹی میں افغانستان کے 34 صوبوں سے جمع ہونے والے سیکڑوں علما نے ایک اجتماع میں متفقہ طور پر عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے اور پاکستان جا کر مسلح کارروائیاں کرنے والوں کو باغی تصور کیا جائے جس کی توثیق افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور جو ایسا کرے گا اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مگر سوال یہ ہے کہ رسمی قراردادوں سے مطمئن کرنے کی بجائے طالبان تحریری ضمانت دینے سے کیوں گریزاں ہیں؟ ماضی میں بھی تو کئی وعدے ہوئے جو پورے نہیں ہوئے قطراور ترکیہ میں کرائی گئی یقین دہانیاں بھی تو پوری نہیں کی گئیں اسی لیے ایسے امکانات کو رَد نہیں کیا جا سکتا کہ طالبان کے قول و فعل میں تضاد ہو اگر ایسا ہی ہے تو طالبان کے قتدار کا سورج غروب ہو سکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ذمہ دار طالبان ہوں گے جنھوں نے اقتدارمیں آکر ایک اہم ترین دوست کھو کر خسارہ سمیٹا۔

