بلوچستان حملے اور سازشیں

لہولہو بلوچستان سے ہر شہری متفکر، پریشان اور رنجیدہ ہے مٹھی بھر شرپسند عناصر نے نہ صرف معصوم اور امن پسند بلوچوں کو اچانک حملوں سے خوفزدہ کیا بلکہ دہشت گردی سے ترقی اور سرمایہ کاری کا عمل روکنے کی بھی کوشش کی۔ اطمنان بخش پہلو یہ ہے کہ حملہ آوروں کی اکثریت کو چند گھنٹوں میں ہی پاک فوج نے اپنے تیز ترین ردِ عمل سے تلف کردیا جس پر محب الوطن حلقوں نے اطمنان کا سانس لیا ہے کہ ملکی سلامتی کے محافظ اِدارے نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ وطن کی حُرمت اور شہریوں کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دے رہے۔
ویسے تو عرصہ دراز سے بیرونی راتب خوری کے رسیا اِس پُرامن علاقے کو بدامنی کا مرکز بنانے کی کوشش میں ہیں لیکن محافظ اِداروں کی چوکسی نے کسی کو مزموم مقاصد حاصل نہ کرنے دیے لیکن جب بلوچستان میں اچانک بارہ سے زائد مختلف مقامات پر حملوں اور جانی و مالی نقصان کی خبریں آنے لگیں تو پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے خواہشمند حلقوں کا پریشان ہونا فطری تھا کہ پاکستان شناخت ہونے کے ساتھ عزت کا باعث ہے۔
پاک فوج کے بہادر جوانوں نے کمال سُرعت سے جواب دیا تو کئی خدشے اور وسوسے کم ہوئے کچھ حلقوں کا قیاس ہے کہ عسکری اِداروں نے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے نکالنے کے لیے خود سازگار حالات دیے تاکہ شرپسند پہاڑوں سے میدانی علاقوں کا رُخ کریں اور بچھائے جال میں پھنسیں اور پھر معصوم اور پُرامن بلوچ شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والوں کوکیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ حکمتِ عملی کارگر ثابت ہوئی اور دہشت گردوں کی بڑی تعداد رزقِ خاک بن گئی مگر مجھے ایسے قیاسات سے اتفاق نہیں جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
بھارت ایک کینہ پرور ہمسایہ ہے یہ کسی ہمسائے کی ترقی، خوشحالی اوراستحکام برداشت ہی نہیں کر سکتا اِس لیے جب گزشتہ برس چھ سے دس مئی تک کی زمینی اور فضائی جھڑپوں میں اُسے شکست فاش ہوئی اور وہ جان گیا کہ میدانِ جنگ میں پاک فوج کو شکست دینا تو درکنار مقابلہ کرنا بھی مشکل ہے تو عالمی ثالثوں کے کہنے پر جنگ بندی کرلی اور مزید ردِ عمل دینے کی بجائے پُراسرار خاموشی اختیار کرلی تو واقفانِ حال نے اُسی وقت کہنا شروع کردیا تھا کہ بھارت کی خاموشی خالی از علت نہیں۔ اِس خاموشی کے پیچھے طوفان ہے جو کسی وقت بھی پاکستانی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آج بلوچستان کے حالات شاہد ہیں کہ بھارت اپنی سازشوں اور مکروفریب کی چالیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری ختم ہو اور ترقی کا جاری عمل رُک جائے۔ اب یہ پاکستان نے فیصلہ کرنا ہے کہ بلوچستان کے مٹھی بھر راہ گم کردہ عناصر کو بھارتی راتب خوری سے روکنا ہے یا پھر نرمی اور رحمدلی کا سلوک جاری رکھناہے یادرہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
میدانِ جنگ میں شکست فاش نے بھارتی قیادت کو بوکھلا دیا ہے اور اُسے سمجھ آگیا ہے کہ اگر خطے میں بالادستی حاصل کرنی ہے تو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا ہوگا۔ طالبان کی صورت میں اُسے ایسا رفیق دستیاب ہے جو مناسب معاوضے پر ہر حد تک جانے کو آمادہ و تیار ہے چاہے کے پی کے میں دہشت گردی ہو یا بلوچستان میں قومیت کے نام پر لگائی آگ کی بات، سب کے روابط براہ راست افغانستان سے جُڑے ہیں۔ دہشت گردوں کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ہیں اُن کے پاس دنیا کا جدید اور مہنگا ترین اسلحہ ہے۔
طالبان کے زریعے انھیں تربیت، اسلحہ اور معاوضہ ملتا ہے۔ اگر دہشت گردوں کو بیرونی تربیت، اسلحہ اور مالی تعاون نہ ملے تو فوری خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ ناراض سیاسی عناصر بھی دہشت گردی کا جواز احساسِ محرومی بتاتے ہیں حالانکہ احساسِ محرومی کا رونا رونے والے ریاستی وسائل سے ڈاکٹر انجینئر بنتے ہیں۔ حکومتی اِداروں میں عہدے حاصل کرتے ہیں لہذا سیاست میں قومیت اور لسانی تعصب نہیں ملکی سالمیت سب سے مقدم ہونی چاہیے لیکن یہ عناصر اپنی سیاست چمکانے کے لیے حکومت اور عسکری اِداروں کے خلاف مُہمات کا حصہ بنتے ہیں جنھیں لگام دینا ناگزیر ہے مزید نرمی اور رحمدلی کی گنجائش نہیں۔
سفارتی نزاکتیں اپنی جگہ، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایسے دوست ممالک سے دوٹوک بات کرے جنھیں بلوچستان اور گوادر کی خوشحالی ناپسند ہے یاد رہے بھارت، اسرائیل اور دبئی کا بلوچستان کے حوالے سے ایجنڈا یکساں ہے۔ دبئی جانتا ہے کہ اگر گوادر صیح معنوں میں کام کرنے لگی تو دبئی کی مرکزیت کو نقصان پہنچے گا۔ اِس ریگستانی ریاست کی تیل کے بغیر تجارت ایک ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے حالانکہ یہاں زرعی اجناس یا ایسی مصنوعات کی کوئی پیدوار نہیں اسی لیے ایک تو اپنی اہمیت اور مرکزیت قائم رکھنے کے لیے بھارت اور اسرائیل کی کٹھ پتلی ہے۔ دوسرا پاک سعودیہ دفاعی معاہدے پر ناراض ہے۔ مذکورہ عوامل کی بنا پر پاکستان میں مصروف علیحدگی پسند دہشت گردوں اور مذہبی شدت پسند وں کی لڑنے کی استعداد بڑھانے میں پیش پیش ہے۔ اگر پاکستان سفارتی زرائع سے شواہد کی روشنی میں بات کرے تو عین ممکن ہے ایسی سازشوں سے دستکش ہوجائے کیونکہ دولت اپنی جگہ، یہ ریاست اپنے دفاع کی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتی۔
اسلامی ملک ہو جوہری طاقت ہو اور خود سے کئی گُنا بڑے ملک کو لڑائی میں پچھاڑ کر عالمی طاقتوں کا ایجنڈا درہم برہم کردے۔ ایسی صورتحال عالمی طاقتیں پسند نہیں کر سکتیں لیکن پاکستان اسلامی ملک ہوکر بھی جوہری طاقت ہے اور سب بڑی بات یہ کہ خود سے آٹھ گُنا بڑے ملک بھارت کو چند گھنٹوں میں پچھاڑ چکا ہے جس سے جنوبی ایشیا میں بھارتی بالادستی کا خواب ٹوٹنے کے ساتھ عالمی طاقتوں کاایجنڈابھی متاثر ہواہے اور اب مایوسی کا شکار عالمی طاقتیں خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں لاناچاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کو ملا کر ایک ایسی ریاست بنائی جائے جہاں اڈے بنا کر خطے کو کنٹرول کر سکیں۔
ایرانی قیادت کے حالیہ اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ عالمی ریشہ دوانیوں کو جان چکا ہے اسی لیے کچھ عرصے سے اُس کی حکمتِ عملی میں تبدیلی آئی ہے۔ نہ صرف ایران میں مصروف بھارتی کمپنیوں کا عمل دخل محدود کیا بلکہ بلوچ شورش پر قابو پانے میں معلومات کا تبادلہ بھی کرنے لگا ہے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے پاک فوج نے تو تیز ترین ردِ عمل دیکر ثابت کردیا کہ وہ ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتی ہے۔ اب حکومت کا بھی کام ہے کہ بظاہر دوستی کے دعویدار افغانستان اور دبئی سے دوٹوک بات کرے اور ایران کو خطرے کا احساس دلا کر مزید تعاون لے۔

