Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Haider Javed Syed
  3. Saneha Tarlai Kahan, Kuch Talkh o Shereen Baatein Aur Sawalaat

Saneha Tarlai Kahan, Kuch Talkh o Shereen Baatein Aur Sawalaat

سانحہ ترلائی کلاں، کچھ تلخ و شیریں باتیں اور سوالات

ہمارے ہاں دہشتگردی کے ایک سے دوسرے واقعے کا درمیانی عرصہ زمانہ امن کہلاتا ہے اس زمانے کے مختصر و طویل یا عارضی ہونے کے حوالے سے کوئی پیشنگوئی کرنا جوئے شیر لانے کے مصداق معاملہ ہے انتہاوں میں تقسیم ہمارے سماج کو یکجہتی کی ضرورت ہے مگر ہم اس سے سواتین برس نوری سال کے فاصلے پر میں میں تو تو کے غل غپاڑے میں جُتے ہوئے ہیں چنددن قبل ملکی سیاست کے حوالے سے لکھے کالم میں عرض کیا تھا " ہم یہاں آئے نہیں ہانکا کرکے لائے گئے ہیں " سچ پوچھیں تو یہ صرف میدان سیاست کا المیہ نہیں زندگی اور سماج کے دیگر معاملات بھی ایسے ہی المیوں سے عبارت ہیں " کہاں تک سناوں دیکھاوں حال و زخم " کیا حال سنانے اور زخم دیکھانے سے کوئی فرق پڑے گا؟ کم از کم میرا جواب نفی میں ہے مثلاً اسلام آباد کی نواحی آبادی ترلائی کلاں کی مسجد سیدہ خدیجہؑ میں گزشتہ جمعے کو نماز جمعہ کے دوران ہوئی دہشتگردی کے المناک سانحہ کو ہی دیکھ لیجے وفاقی حکومت کے بڑوں نے شہید نمازیوں کی نعشیں ان کے آبائی علاقوں کی طرف بھجوانے کیلئے منت ترلہ پروگرام میں کامیابی سمیٹنے کے بعد پلٹ کر متاثرین کی خبر تک نہیں لی یہ کیسا ملک ہے کہ ایوان صدر وزیراعظم ہاوس پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ و وفاقی دستوری عدالت سے چند کلومیٹر دور ایک المناک سانحہ ہوا کسی کے کانوں پر جُوں نہیں رینگی صدر وزیراعظم اور دوسرے بڑے سرد موسم میں دھنیا پی کر سوئے رہے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (ان کے اجلاس جاری تھے) میں پہنچ کر قوم کو بذریعہ پارلیمنٹ اعتماد میں لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی البتہ کچھ وزرا نے عوام الناس کو بھارت اور موجودہ افغان رجیم کے تعاون سے جاری دہشتگردی کا راگ بیسوی (پکا پکایا سرکاری راگ) ضرور سنوایا لوگ باگ اس راگ سے نہیں بہل پائے تو راگی وزرا کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے (ایک اور کام کا مشورہ دل و دماغ میں آیا لیکن قلم مزدور حد ادب و صحافت سے کاملاً آگاہ)۔

ترلائی کلاں اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خود کش حملے میں ابتدا یعنی وقوعہ کے وقت سے اب تک لگ بھگ چالیس سے اکتالیس نمازی شہید ہوچکے زخمیوں کی تعداد 170 سے 192 بتائی جارہی ہے اس طور اگر ہم شہدا کی ابتدائی تعداد 31 کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ باقی 9 سے 10 افراد ان 20 شدید زخمیوں میں سے ہیں جنہیں خود کش حملے کے بعد ہسپتالوں تک پہنچایا گیا یہاں یہ عرض کردوں کے خود کش حملے سے متاثرہ خاندانوں اور ان کے عزیزواقارب شہدا اور زخمیوں کی مختلف تعداد بتا رہے ہیں سوشل میڈیا پر بھی اس تعداد کے حوالے سے جو مختلف دعوے سامنے آرہے ہیں ان سے بے چینی بڑھ رہی ہے وفاقی وزیر داخلہ جنکی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کو شہدا اور زخمیوں کی درست تعداد بتاکر افواہوں اور دعووں کا سدباب کرتے وہ جمعہ 6 فروری کے بعد پاک بھارت کرکٹ میچ کے حوالے سے الجھے معاملات سلجھانے میں مصروف ہوگئے ان کے نائبین امور داخلہ کے وزیر مملکت طلال چودہری اور مشیر امور داخلہ پرویز خٹک پتہ نہیں کن مصروفیات میں الجھے ہوئے ہیں کہ اس دلخراش واقعے کے بعد کی صورتحال کو سنبھالنے کیلئے دستیاب نہیں جبکہ اصولی طور پر وفاقی حکومت کو سانحہ ترلائی کلاں سے پیدا شدہ صورتحال اور دوسرے مسائل کے حوالے سے شہریوں اور خصوصاً متاثرہ خاندانوں کو اعتماد میں لینے کیلئے ایک فوکل پرسن مقرر کرنا چاہئے تھا معاف کیجے گا بالائی سطور پڑھنے کے بعد میر تقی میر کا شعر نہ گنگنانے لگ جائے گا وہی شعر جس میں میر تقی میر نے " اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے " کی پھبتی کسی تھی۔

سانحہ ترلائی کلاں کے متاثرین اور متاثرین کے مکتب فکرکے داخلی مسائل ہمارا موضوع ہرگز نہیں ہم صرف حکومت وقت کی کج ادائیوں بھری مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں 11 فروری بدھ کی سپہر ڈھل رہی ہے پانچ دن قبل رونما ہونے والے المناک سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کیلئے تادم تحریر حکومت نے کسی امدادی پیکج کا اعلان نہیں کیا کیوں؟ یہ ایسا سوال ہے جو حکومت اور سماج دونوں کا منہ چڑھا رہا ہے حکومت کے پاس ہمارے پیارے اخیرالمومنین عمران خان کے معاملات سے نمٹنے میں سے کچھ وقت نکل آئے تو جواب ضرور عنایت کرے تاکہ اس کے عنداللہ ماجور ہونے کا سامان ہوسکے اس سانحہ کے حوالے سے سینیٹ آف پاکستان کے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر مولانا راجہ ناصر عباس جعفری نے بجا مطالبہ کیا کہ " دہشتگردی اور اس سے جُڑے معاملات و مسائل پر پارلیمان کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں سیکورٹی حکام اور متعلقہ وزرا بریفنگ دیں اور بتائیں کے تدارک کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں یا اٹھائے جاسکتے ہیں اپنی تقریر میں انہوں نے دہشتگردی و طالبانیت کے معاملات پر سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی ایوان میں طلب کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ایوان ان سے ٹی ٹی پی کے جنگجووں کو واپس لانے کی پالیسی بارے پوچھ سکے " ہماری دانست میں سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کا یہ مطالبہ بجا طور پر درست ہے مگر لگتا نہیں کہ حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ ان کمیرہ اجلاس تک جائے کیونکہ جو حکومت اپنی قیام گاہوں اور دفاتر سے چند کلو میٹر دور خودکش حملے سے متاثرہ جگہ پر نمبر ٹنگ پروگرام کی ضرورتیں پوری کرنے سے آگے ایک قدم نہ چل سکی ہو وہ اس حساس معاملے پر پارلیمنٹ میں کیا چن چڑھا لے گی؟

البتہ یہاں ہم سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کی خدمت میں یہ عرض کرنا از بس ضروری خیال کرتے ہیں کہ وہ جس تحریک انصاف کے اتحادی ہیں اس سے دوسوال ضرور دریافت کریں اولاً تحریک انصاف کے ماضی میں منتخب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خیبرپختونخوا کی حکومت کی درخواست پر 103 تین سزا یافتہ دہشتگردوں کی معافی و رہائی کے پروانے پر کیوں دستخط کئے نیز یہ کہ تحریک انصاف کے ہی دور میں ہونے والے کابل مذاکرات کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی نے خون بہا کی مد میں 7 ارب روپے کی رقم کا مطالبہ کیا تھا اس میں سے 3 ارب روپے مذاکرات کو جاری رکھنے کی قیمت کے طور پر ادا کیئے گئے یہ رقم پشاور سے کابل کون لے کر گیا تھا جنرل فیض حمید یا بیرسٹر سیف؟ دوسرا سوال وہ یہ دریافت کریں کہ تحریک انصاف بطور جماعت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی پالیسی پر زور کیوں دیتی ہے؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ میڈیا میں کچھ کہتے ہیں اور عملاً کچھ اور کررہے ہیں مجھے امید ہے کہ سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کے پروانے دوسوالوں کی اس درخواست کو توہینِ مختار ملت قرار نہیں دیں گے۔

بالائی سطور میں عرض کرچکا کہ سانحہ ترلائی کلاں کے متاثرین اور ان کے مکتب فکرکے داخلی جھگڑے ہمارا موضوع نہیں مزید عرض کردوں کہ قیادتوں کے زعم و شور اور ہٹو بچو کی صداوں کے ساتھ تم ایجنٹ تم یہ اور تم وہ پر بھی بات کرنے سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں جو ہوا فقط وہی لوگوں کے سامنے نہیں بلکہ جو ہورہا ہے وہ بھی لوگ دیکھ رہے ہیں کون درست ہے کون غلط فیصلہ لوگ کریں گے یا بے رحم تاریخ اس لئے میں فریق بننے پر انتظار کرنے کو ترجیح دوں گا لوگوں اور تاریخ کے فیصلے ساتھ وقت کے انصاف کا۔

ایک بار پھر حکومت وقت سے عرض ہے کہ اپنی اخلاقی قانونی اور حکومتی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر دبکی نہ بیٹھی رہے میدان عمل میں نکلے اپنے فرائض پورے کرے لوگوں کے سوالات کا جواب دے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ خودکش حملے کے بعد جس تیزی کے ساتھ مبینہ حملہ آور کے معاملات نبیڑے گئے ہماری قومی ایجنسیوں نے ایسی پھرتیاں دہشتگردی کو روکنے کیلئے کیوں نہ دیکھائیں، بقول حکومت، حملہ آور پشاور سے اسلام آباد آیا، تو خود کش حملے کا مال و متاب اسے اسلام آباد میں فراہم ہوا یا وہ پشاور سے لے کر چلا؟ اگر دوسری صورت ہے تو وہ پشاور اسلام آباد کے درمیان متعدد ناکوں سے محفوظ طور پر نکلنے میں کامیاب کیسے رہا نیز یہ کہ کیا اس واقعہ نے ہماری سیکورٹی کے انتظامات کچھ سوالات دوچند نہیں کر دیئے؟ امید واثق ہے کہ حکومت نہ صرف سوالات کا جواب دے گی بلکہ متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے جو گزارشات کی ہیں ان پر بھی توجہ دے گی۔۔

" امید پر ہی تو دنیا قائم ہے "

Check Also

Sasti Bijli Mehangi Kyun? Solar Policy Ka Karva Sach

By MA Tabassum