Basant: Shor Bohat, Taraqi Sifar
بسنت: شور بہت، ترقی صفر
ہر معاشرہ اپنی ترقی کا اندازہ نعروں، ہجوم اور وقتی جوش سے نہیں بلکہ انسانی جان کے احترام، قانون کی بالادستی اور اجتماعی ذمہ داری سے لگاتا ہے۔ بسنت کے معاملے میں بدقسمتی سے ہم نے ترقی کا پیمانہ ہی الٹا منتخب کیا۔ ہم نے شور کو خوشی، ہنگامے کو ثقافت اور چند دن کی وقتی سرگرمی کو معاشی فائدہ سمجھ لیا۔ سوال مگر آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: بسنت نے اس ملک کو آخر دیا کیا؟
بسنت کے دنوں کا منظرنامہ کسی تہوار سے زیادہ ایک آزمائش کا سا رہا۔ چھتوں پر بے ہنگم ہجوم، گلیوں میں دھاتی ڈور سے کٹتی گردنیں، موٹر سائیکل سواروں کے لیے موت کے پھندے، فائرنگ، کرنٹ لگنے کے واقعات اور ہسپتالوں میں بھرے ایمرجنسی وارڈ، یہ سب کسی خوشی کی علامت نہیں بلکہ اجتماعی غفلت کا اعلان تھے۔ اگر ہر سال ایک ہی طرح کے حادثات ہوں تو انہیں اتفاق نہیں، رویہ کہا جاتا ہے۔
بسنت کے حامی اکثر دلیل دیتے ہیں کہ یہ تہوار خوشی بانٹتا ہے۔ مگر خوشی وہی بامعنی ہوتی ہے جس میں دوسروں کا دکھ شامل نہ ہو۔ وہ ماں جس کا بیٹا بسنت کی ڈور سے جان گنوا بیٹھا، وہ بچہ جو چھت سے گر کر معذور ہوگیا، وہ خاندان جو اچانک ایک کفیل سے محروم ہوگیا، ان کے لیے بسنت کبھی خوشی نہیں تھی۔ جو سرگرمی کسی ایک طبقے کے لیے جشن اور دوسرے کے لیے جنازہ بن جائے، وہ تہوار نہیں کہلا سکتی۔
معاشی فائدے کا بیانیہ بھی حقیقت کے کٹہرے میں کمزور نظر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بسنت سے کاروبار چلتا ہے، مگر یہ کاروبار کس نوعیت کا تھا؟ چند دن کی پتنگ اور ڈور کی فروخت، زیادہ تر غیر قانونی، بغیر ٹیکس، بغیر کسی ریاستی نظم کے۔ اس کے مقابلے میں ریاست کو پولیس تعینات کرنا پڑی، ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا، بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا اور قیمتی انسانی سرمایہ ضائع ہوا۔ اگر حساب لگایا جائے تو بسنت سے حاصل ہونے والا فائدہ نہیں بلکہ خسارہ کہیں زیادہ تھا، مالی بھی اور انسانی بھی۔
بسنت نے قانون کی حیثیت کو بھی بری طرح مجروح کیا۔ پابندیاں تو لگتی رہیں، مگر ان کا اطلاق ہمیشہ کمزور پر ہوا۔ گلی کے نکڑ پر پتنگ اُڑانے والا پکڑا گیا، مگر طاقتور طبقہ اپنی چھتوں پر موسیقی، فائرنگ اور بے خوف جشن مناتا رہا۔ یہ دوہرا معیار صرف ایک تہوار کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کی کمزوری کی علامت ہے۔ جب قانون سب کے لیے برابر نہ رہے تو ریاست محض ایک تماشائی بن جاتی ہے۔
ثقافت کے نام پر بسنت کا دفاع بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ثقافت کا مقصد انسان کو تہذیب سکھانا ہوتا ہے، نہ کہ اسے خطرے میں ڈالنا۔ دنیا کی مہذب اقوام میں تہوار نظم، حفاظت اور ذمہ داری کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں مگر ثقافت کو شور، بد نظمی اور اخلاقی بے راہ روی سے جوڑ دیا گیا۔ اگر کوئی سرگرمی ہمسایوں کے سکون کو تباہ کرے، مریضوں کے لیے اذیت بنے اور بچوں کے لیے خوف کا سبب ہو تو اسے ثقافت کہنا دراصل ثقافت کی توہین ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی بسنت نے ہمیں کوئی مثبت شناخت نہیں دی۔ دنیا نے ہمیں ایسے معاشرے کے طور پر دیکھا جہاں تفریح بھی جان لیوا ہو سکتی ہے اور قانون تماشائی بنا رہتا ہے۔ یہ تاثر نہ سیاحت کو فروغ دیتا ہے، نہ سرمایہ کاری کو، نہ کسی مثبت شناخت کو جنم دیتا ہے۔ قومیں اپنی ساکھ تہذیب، نظم اور انسانی قدروں سے بناتی ہیں، نہ کہ خطرناک تماشوں سے۔
اصل مسئلہ شاید بسنت نہیں بلکہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ہم نے خوشی کو ذمہ داری کے بغیر، آزادی کو قانون کے بغیر اور روایت کو شعور کے بغیر اپنانے کی ضد کر لی ہے۔ حالانکہ خوشی کے بے شمار محفوظ اور مثبت راستے موجود ہیں، کتاب میلے، ادبی و ثقافتی فیسٹیول، کھیلوں کے مقابلے، تعلیمی اور تخلیقی سرگرمیاں، مگر ان میں نہ شور ہے، نہ سنسنی، نہ قانون توڑنے کا مزہ۔
نتیجہ یہ ہے کہ بسنت نے اس ملک کو نہ تعلیم دی، نہ صحت، نہ روزگار، نہ تحفظ۔ اس نے صرف یہ ثابت کیا کہ ہم خوشی کے نام پر بھی غیر سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔
ترقی کا سفر شور سے نہیں، شعور سے طے ہوتا ہے اور شعور کی پہلی شرط انسانی جان کا احترام ہے۔
جب تک ہم یہ فرق نہیں سمجھیں گے، ہر بسنت ہمارے لیے رنگ نہیں بلکہ ایک نیا سوال چھوڑ جائے گی: شور تو بہت تھا، مگر ترقی کہاں تھی؟
بسنت کے دنوں میں اخبارات کے صفحات اگر پلٹائے جائیں تو ایک ہی طرح کی خبریں ملتی ہیں: موٹر سائیکل سوار کی گردن کٹ گئی، بچہ چھت سے گر کر جاں بحق، نوجوان کرنٹ لگنے سے ہلاک، فائرنگ سے راہگیر زخمی۔ یہ حادثات نہیں، یہ ایک ایسے سماجی رویے کا نتیجہ ہیں جہاں تفریح کو احتیاط پر فوقیت دی جاتی ہے۔
دنیا کے مہذب معاشروں میں تہوار انسان کی زندگی کو محفوظ بناتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں تہوار انسان کی جان کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ بسنت کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے معیشت کو فروغ ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چند دن کی غیر قانونی کمائی کو قومی ترقی کہا جا سکتا ہے؟
بسنت نے ہمیشہ ہمارے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے۔ پابندیاں صرف کمزور کے لیے، قانون صرف گلی کے نکڑ تک، جبکہ طاقتور طبقہ چھتوں پر موسیقی، شراب اور فائرنگ کے ساتھ آزادی کا جشن مناتا رہا۔ یہ رویہ صرف بسنت تک محدود نہیں، بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔ ہر شور مچانے والی سرگرمی ثقافت نہیں ہوتی۔ ثقافت انسان کو جوڑتی ہے، سکھ دیتی ہے، تہذیب سکھاتی ہے۔
بسنت نے ہمیں نہ مہذب بنایا، نہ متحد، نہ محفوظ۔ اس نے صرف یہ ثابت کیا کہ ہم خوشی کے نام پر بھی غیر ذمہ دار قوم ہیں۔ جو معاشرہ زندگی کی حرمت کو پسِ پشت ڈال دے۔ وہ جتنے مرضی رنگ اڑا لے۔ اس کا مستقبل پھر بھی سیاہ ہی رہتا ہے۔ قومیں شور سے نہیں، شعور سے آگے بڑھتی ہیں۔

