Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. 12 February Dhaka Election Aur Tawaquat

12 February Dhaka Election Aur Tawaquat

12 فروری ڈھاکہ الیکشن اور توقعات

12 فروری کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ یہ الیکشن نہ صرف بنگلہ دیش نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ انتخابات ایک غیر معمولی سیاسی پس منظر میں منعقد ہو رہے ہیں۔ شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کا تختہ طلبہ عوامی تحریک کے بعد الٹ چکا ہے اور وہ ہندوستان فرار ہوگئی ہیں، جبکہ بنگلہ دیشی عدالت نے انہیں پھانسی دینے کا فیصلہ بھی صادر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش نے باقاعدہ طور پر ہندوستان سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست کی، جسے ہندوستان نے مسترد کرتے ہوئے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

اس تمام صورتِ حال کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوستان مخالف سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ وہ بنگلہ دیش جو آج تک پرو ہندوستان کہلاتا تھا، آج اس کے حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ وہاں پوری قوم، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے ہو، موجودہ حالات میں ہندوستان مخالف جذبات رکھتی دکھائی دیتی ہے اور اپنے برادر ملک پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہاں ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جو 55 سالہ برف جمی ہوئی تھی، وہ بحمداللہ اب پگھل چکی ہے اور تعلقات کے راستے ہموار ہو رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان ریاستی سطح پر رابطے شروع ہو چکے ہیں، اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری ہیں اور مختلف معاہدات پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ لیکن اصل اور سب سے اہم چیز جودونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا ہے، وہ محبت اور اپنائیت ہے جو کبھی غلط فہمیوں اور نفرتوں کی نذر ہوگئی تھی، مگر اب ایک بار پھر قربتوں اور الفتوں میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عوامی سطح پر بھی پاکستان دوستی کے نعرے لگ رہے ہیں، خصوصاً ڈھاکہ میں اور ریاستی سطح پر بھی پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو مستحکم اور استوار کرنے کی خواہش کھل کر ظاہر کی جا رہی ہے۔

یہی وہ اہم موقع ہے جب بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی روپوشی کے بعد پہلی مرتبہ الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس دوران ایک عبوری حکومت بھی قائم رہی، جس کی کمیٹی بھی ہندوستان مخالف سوچ رکھتی ہے اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے نیک امیدیں رکھتی ہے، لیکن اب نظریں انہی عام انتخابات پر مرکوز ہیں۔ حالیہ الیکشن میں منتخب ہونے والی جماعت، چاہے وہ کسی بھی نظریے یا پس منظر کی حامل ہو، اس کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرے، وہ تعلقات جو ماضی میں ہندوستان دوستی کی وجہ سے متاثر ہو چکے تھے۔

بنگلہ دیش کی نئی قیادت یہ بھی سمجھے گی کہ پاکستان کو ساتھ لے کر چلنا اور دونوں ممالک کو ازسرِنو یک جان دو قالب بنانا خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ گزرشتہ دنوں پاکستان کے ممتاز سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمان کا ڈھاکہ کا دورہ بھی اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا، جہاں انہوں نے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا۔ لاکھوں افراد سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ دو بھائیوں میں تقسیم تو ہو جاتی ہے، لیکن وہ کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے، نہ ہی ان کے باہمی تعلقات ختم ہوتے ہیں۔ تقسیم کے باوجود وہ ساتھ رہتے ہیں، ساتھ چلتے ہیں اور یہی حال پاکستان اور بنگلہ دیش کا بھی ہے۔

اگرچہ دونوں بھائیوں کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے، لیکن اس تقسیم کے باوجود برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کے عظیم تر مفاد میں ہے۔ اس وقت دونوں ممالک یہی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار پھر وہ ایک دوسرے کے قریب آئیں، ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں اور مشترکہ تاریخ کو باہمی احترام اور تعاون میں بدل دیں۔ موجودہ انتخابات اسی لیے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ نئی آنے والی حکومت ہی بنگلہ دیش کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گی۔

قوی امید یہی کی جا رہی ہے کہ حکومت خواہ کسی بھی پارٹی کی ہو، پاکستان سے قربت اس کی اولین ترجیح ہوگی۔ خاص طور پر اس لیے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد ریاستی سطح پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہو چکے ہیں اور بظاہر یہ کشیدگی بدستور جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط بحال ہوں، تعلقات میں استحکام آئے اور خطے میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا جائے۔ اسی پس منظر میں حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا واقعہ بھی انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب بنگلہ دیش کے آئی سی سی سے ہٹ جانے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے لیے کرکٹ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا۔ اس فیصلے پر آئی سی سی اور عالمی سطح پر شدید بحث و مباحثہ ہوا، یہاں تک کہ آئی سی سی کا وفد پاکستان آیا اور اس حوالے سے مذاکرات کیے گئے۔

اسی دوران سری لنکا کے صدر نے بھی پاکستان کے وزیرِاعظم سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ بھارت کے ساتھ میچ کھیلا جائے۔ بعد ازاں آئی سی سی، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان مشترکہ میٹنگز ہوئیں، جن میں آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کے تحفظات دور کرنے اور ورلڈ کپ کے حوالے سے خصوصی رعایتوں کی پیشکش بھی کی گئی۔ ان تمام پاکستانی سفارتی اور اخلاقی کوششوں کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے پاکستان کا کھل کر شکریہ ادا کیا اور خود پاکستان سے درخواست کی کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنا میچ کھیل سکتا ہے۔

ان تمام واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور موجودہ الیکشن سے بھی یہی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات ہیں۔ بنگلہ دیش اسمبلی کی کل نشستیں 350 ہیں، جن میں سے 300 نشستوں پر براہ راست جنرل الیکشن منعقد ہوتے ہیں جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔

اس وقت سروے رپورٹس کے مطابق سب سے مضبوط پوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بتائی جا رہی ہے، جس نے 300 میں سے 292 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس جماعت کی قیادت خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں اور اسے اس وقت بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اور طاقتور سیاسی جماعت سمجھا جا رہا ہے۔ توقعات اور دعوے یہی کیے جا رہے ہیں کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔

اس کے مقابلے میں 11 جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد بھی میدان میں ہے، جس کی قیادت جماعت اسلامی کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی اینڈولن بنگلہ دیش، جنتا پارٹی، کمیونسٹ پارٹی بنگلہ دیش اور جمعیت العلماء اسلام جیسی جماعتیں شامل ہیں۔ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے وہ اس انتخابی عمل کا حصہ نہیں ہے، جس نے اس الیکشن کو مزید غیر معمولی اور تاریخی بنا دیا ہے۔ بہرحال جوبھی الیکشن نتائج آئے نئی منتخب حکومت پاکستان کےساتھ مضبوط تعلقات کی خواہاں ہوگی اوریہی پاکستان کی بہتری کاباعث ہوگا۔

Check Also

Sasti Bijli Mehangi Kyun? Solar Policy Ka Karva Sach

By MA Tabassum