Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Digital Daur Ka Naya Afreet: Pakistan Mein Cyber Fraud Ki Haqiqat

Digital Daur Ka Naya Afreet: Pakistan Mein Cyber Fraud Ki Haqiqat

ڈیجیٹل دور کا نیا عفریت: پاکستان میں سائبر فراڈ کی حقیقت

پاکستان میں سائبر فراڈ اب کسی ایک واردات یا چند جرائم پیشہ افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک منظم، مربوط اور تیزی سے پھیلنے والا جرائم نیٹ ورک بن چکا ہے۔ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کی زد میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے، باشعور اور ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے افراد بھی آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ صرف عوامی لاعلمی کا نہیں بلکہ نظامی کمزوریوں کا بھی ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے میں سامنے آنے والے کیسز ایک مخصوص پیٹرن ظاہر کرتے ہیں۔ فراڈ کا آغاز اکثر ایک عام سی فون کال سے ہوتا ہے جس میں کالر متاثرہ شخص کا نام اور بعض بنیادی معلومات جانتا ہے۔ وہ خود کو کسی کوریئر کمپنی، موبائل کمپنی یا سیکیورٹی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی دوران متاثرہ شخص کو ایک سسٹم میسج موصول ہوتا ہے جس میں کسی اکاؤنٹ کی تصدیق کیلئے کوڈ یا YES/NO آپشن دیا جاتا ہے۔ اعتماد اور لاعلمی کے امتزاج سے متاثرہ شخص وہ معلومات فراہم کر دیتا ہے جو دراصل اس کے اکاؤنٹ تک مکمل رسائی دے دیتی ہیں۔

اکاؤنٹ ہیک ہوتے ہی فراڈی متاثرہ شخص کی کانٹیکٹ لسٹ استعمال کرتے ہوئے فوری مالی مدد کے نام پر پیغامات بھیجتے ہیں۔ چونکہ پیغام کسی جاننے والے کے اکاؤنٹ سے آتا ہے، اس لیے لوگ بغیر تصدیق رقم منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ فراڈ ایک فرد سے نکل کر ایک سلسلہ بن جاتا ہے۔

زیادہ تر کیسز میں ایک اور تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے کہ منتقل کی گئی رقم زیادہ تر ڈیجیٹل یا موبائل اکاؤنٹس میں جاتی ہے۔ ان میں سے بعض اکاؤنٹس ایسے افراد کے نام پر ہوتے ہیں جنہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے نام پر کوئی اکاؤنٹ موجود ہے۔ دوسری طرف روایتی بینک اکاؤنٹس، جہاں سخت KYC اور تصدیقی نظام موجود ہے، وہاں ایسے کیسز نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں سیکیورٹی خلا موجود ہیں جنہیں فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پورے مسئلے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایسے نیٹ ورکس پنپ کیسے رہے ہیں؟

ٹیلی کمیونیکیشن نظام اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ اگر سم کے اجرا کا نظام مکمل طور پر محفوظ اور شفاف ہو تو سائبر فراڈ کا بڑا حصہ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔ جب ہر ماہ بڑی تعداد میں سمز بلاک ہو رہی ہوں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کہیں نہ کہیں اجرا کے عمل میں کمزوریاں موجود ہیں۔ قانون کے مطابق بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہے، لیکن اس کے باوجود جعلی یا غلط استعمال ہونے والی سمز کا موجود ہونا نظامی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسی طرح مالیاتی ریگولیٹری نظام کو بھی مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی منظوری، مانیٹرنگ اور فرانزک آڈٹ کے طریقہ کار کو جدید تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کرنا ہوگا۔ جیسے جیسے مالیاتی نظام ڈیجیٹل ہو رہا ہے، ویسے ویسے فراڈ کے طریقے بھی جدید ہو رہے ہیں۔

سائبر کرائم سے نمٹنے والے اداروں کو بھی جدید وسائل، تربیت اور انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہوگا۔ اگر ایک افسر کے پاس ہزاروں کیسز ہوں تو موثر تحقیقات ممکن نہیں رہتیں۔ سائبر کرائم اب روایتی جرائم جیسا نہیں رہا بلکہ یہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور بین الاقوامی نیٹ ورکس سے جڑا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سائبر فراڈ زیادہ تر منظم گروہوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو جدید سافٹ ویئر اور آن لائن ٹولز استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس قسم کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کیلئے انٹیلیجنس، ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔

حقیقت سادہ ہے: سائبر فراڈ اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ افراد تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں جبکہ ہمارا حفاظتی نظام اس رفتار سے اپڈیٹ نہیں ہو پا رہا۔

عوام کیلئے ضروری احتیاطی اقدامات

کسی بھی کال یا پیغام میں OTP، پاس ورڈ یا تصدیقی کوڈ ہرگز شیئر نہ کریں۔

بینک یا سرکاری ادارے عام طور پر فون پر حساس معلومات طلب نہیں کرتے۔

نامعلوم لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔

واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر مالی مدد کے پیغامات کی براہ راست تصدیق کریں۔

مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری متعلقہ ادارے کو اطلاع دیں۔

یہ مسئلہ صرف فرد کی احتیاط سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے مضبوط ریاستی پالیسی، جدید ریگولیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سائبر فراڈ مستقبل میں قومی سلامتی اور معاشی استحکام کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے

Check Also

Gilgit Shehar: Daawon Ki Taraqi Aur Awam Ki Mehroomian

By Iqbal Bijar