Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Anila Zulfiqar
  4. Fitrat Ki Kahani Rangon Ki Zubani

Fitrat Ki Kahani Rangon Ki Zubani

فطرت کی کہانی رنگوں کی زبانی

پھول، خوشبو اور رنگ فطرت کی بدلتی رتوں کی بنا پر ہیں اور مصور ان متحرک لمحوں کو اپنے کینوس پر مُقید کر لیتا ہے۔ وہ فنا کو بقا کا روپ دیتا ہے۔ ناظرین مصور کی فنکارانہ بصیرت اور ہنر سے گزرتے لمحوں کا لطف اٹھاتے ہیں، ہر رنگ، ہر منظر ان کے دل میں فطرت کی رعنائی، دلکشی بکھیر دیتا ہے۔

فطرت ہم آہنگی، توازن اور حسن کی علامت ہے۔ مصور کے لیے ایک ہمہ وقت موجود محرک اور خاموش استاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ رنگ، شکل، روشنی، سائے اور فطری تنوع ہمیشہ سے فنکار کے شعور اور لاشعور کو تشکیل دیتے آئے ہیں اور یہی عناصر عظیم شاہکاروں کی بنیاد بنتے ہیں۔

جدید دور میں زندگی کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ انسان ایک مشینی نظام کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ روزمرہ کی جدوجہد، ذہنی دباؤ اور مادّی مصروفیات نے انسان کو فطرت سے دور کر دیا ہے۔ ایسے میں فطرت کے ساتھ گزارے گئے چند لمحے ذہنی سکون اور سرشاری عطا کرتے ہیں اور یہی لمحے ایک فنکار کے لیے تخلیقی توانائی کا سرچشمہ بنتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں نائلہ عامر کی نمائش لاہور میں "O Art Space" گلبرگ میں منعقد ہوئی۔ ان کے فن پارے فطری مناظر، بدلتے موسم، مخصوص وقت اور لمحاتی کیفیات کو پیش کرتے ہیں۔ نائلہ عامر جامعہ پنجاب کے شعبۂ فائن آرٹس میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہی ہیں اور ایک نمایاں پلین ایئر (Plein Air) مصورہ ہیں۔

جامعہ پنجاب کا شعبۂ فائن آرٹس پاکستان میں پلین ایئر مصوری کا بانی سمجھا جاتا ہے، جہاں مشاہدے، براہِ راست فطرت کی مصوری کرنے کی روایت قائم کی گئی۔ پاکستان میں پلین ایئر (Plein Air) مصوری کے تعلیمی اور عملی امور کے آغاز میں ‌اینا مولکا احمد کا کردار سنگِ میل رہا ہے جو جامعہ پنجاب کے شعبۂ فائن آرٹس کی بانی بھی تھیں۔ انہوں نے فطرت کے سامنے بیٹھ کر مصوری کو نہ صرف تدریسی نظام کا حصہ بنایا بلکہ اسے ایک فکری روایت میں ڈھالا۔ اس روایت کے تسلسل میں خالد اقبال، ذوالقرنین حیدر، کولن ڈیوڈ اور نسیم حفیظ قاضی جیسے فنکار سامنے آئے، جنہوں نے موسم، روشنی، وقت اور ماحول کو کینوس پر منتقل کیا۔ ان فنکاروں کا کام محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ اپنے خطے کی بصری تاریخ کی دستاویز بھی ہے۔

نائلہ عامر کا اسلوب اس بات کا ثبوت ہے کہ مشاہدہ اور فطرت سے مکالمہ آج بھی پائیدار اور بامعنی فن تخلیق کر سکتا ہے۔ مغربی فن کی تاریخ میں پلین ایئر مصوری محض ایک تکنیک نہیں بلکہ ایک فکری رویہ ہے ایسا رویہ جو فطرت کے لمحاتی تجربے اور انسانی احساس کو فن میں ڈھالنے پر یقین رکھتا ہے۔

عصرِ حاضر میں اگرچہ تجرید، اسلوبیاتی تجربات، نئی اظہاری جہتیں اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تخلیق شدہ فن بھی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا مشین کسی فنکار کے جذبے، احساس، لمحۂ موجود، موسم اور فضا کو اسی شدت سے محسوس کر سکتی ہے؟ کیا ایک خودکار نظام اس کیفیت کو گرفت میں لے سکتا ہے جو ایک فنکار فطرت کے سامنے بیٹھ کر محسوس کرتا ہے؟ کیا محض نیا ہونا فن کی اصل قدر ہے؟

یہ سوالات جدید فن کے امکانات کو رد نہیں کرتے، بلکہ فن کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ فن اگر صرف نیا ہونے کے لیے تخلیق ہو تو وہ وقتی حیرت تو پیدا کر سکتا ہے، مگر دیرپا اثر نہیں چھوڑتا۔ اس کے برعکس، مشاہدے اور فطرت سے جڑے فن پارے وقت کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں اور کلاسیکی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے معروف آرٹ کے ادارے آج بھی مشاہداتی اور اکیڈمک نظامِ تدریس کو بنیاد بنائے ہوئے ہیں، جنہیں "کلاسیکی روایت" کہا جاتا ہے۔

اگرچہ نئے اسالیب اظہار کے امکانات کو وسیع کرتے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مشاہدے پر مبنی فن ہی دیرپا اور کلاسیکی شاہکاروں کو جنم دیتا ہے۔

یہی روایت فنکار کی آنکھ، ہاتھ اور دل کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔

فطرت ازل سے فن کی بنیادی زبان رہی ہے۔ فطرت کے مختلف موسموں کا اپنا مخصوص نظام ہوتا ہے۔ ہر موسم کے اپنے پھول، پودے اور پھل ہوتے ہیں جو خاص روشنی، خوشبو اور رنگت کے ساتھ موجودہ فضا کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی موسمی خصوصیات فنکار کی آنکھ کو متاثر کرتیں ہیں اور ہر منظر اپنی مخصوص زمانی کیفیت کے ساتھ یکساں طور پر دستاویزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ نائلہ عامر کے کام میں یہی خصوصیت واضح طور پر نظر آتی ہے: ان کے رنگ، برش اسٹروکس اور کمپوزیشن لاہور کے مخصوص پھولوں، موسم اور دن کے مخصوص اوقات کو ظاہر کرتے ہیں یہ نہ صرف منظر نگاری ہے بلکہ ایک جذباتی اور تجرباتی ریکارڈ بھی ہے، جو فنکارہ کے مشاہدے اور فنی مہارت سے عبارت ہے۔

مصوره کا کام پاکستانی مصوری کی کلاسیکی روایت کا تسلسل ہے۔ مغربی اور پاکستانی پلین ایئر روایت اگرچہ مختلف ثقافتی تناظر رکھتی ہیں، مگر دونوں کی بنیاد فطرت، مشاہدہ اور انسانی تجربہ ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی فطرت پر مبنی مصوری نہ صرف بامعنی ہے بلکہ ایک فکری موقف بھی رکھتی ہے کہ NEW کے ساتھ TRUEبھی ہونا چاهیے۔

About Dr. Anila Zulfiqar

Dr. Anila Zulfiqar is a painter, fiction writer, and art teacher. She is an assistant professor in the Department of Fine Arts, University of the Punjab, Lahore. Her creative work is based on the cultural heritage of Lahore, women's experiences, and visual language. She has participated in art exhibitions at national and international levels. Fiction writing and critical essays on art are also important means of expression for her.

Check Also

Epstein Files, Aalmi Ashrafia Aur Pakistani Liberals Ki Khamoshi

By Imran Ismail