Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Solar Net Metering Aur Naseem Hijazi Ka Sufaid Jazeera

Solar Net Metering Aur Naseem Hijazi Ka Sufaid Jazeera

سولر نیٹ میٹرنگ اور نسیم حجازی کا "سفید جزیرہ"

حکومت کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں اچانک تبدیلی نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا مین اسٹریم میڈیا، ہر سمت ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے: کیا عوام کو پہلے سرمایہ کاری پر آمادہ کرکے پھر قواعد بدل دینا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ ہزاروں لوگوں نے اپنی جمع پونجی سولر نظام پر اس یقین کے ساتھ صرف کی کہ حکومتی پالیسی دیرپا اور مستحکم رہے گی، مگر اس تازہ فیصلے نے عوام کو ایسے کرب سے دوچار کیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ دکھ بھی بھول بیٹھے ہیں۔

بہت برس گزرے میں نے نسیم حجازی کا ناول "سفید جزیرہ" پڑھا تھا، جس کی آج یاد آ گئی۔ نسیم حجازی نے 23 نومبر 1958ء کو ناول میں لکھے گئے پیش لفظ میں ذکر کیا تھا کہ ناول کی تکمیل کے دوران ہی ملک میں اقتدار کی تبدیلی رونما ہوگئی۔ وہ جس گروہ کے خلاف قلم اٹھا رہے تھے، اس کے سرغنہ اسکندر مرزا کو چند ہی برس بعد اقتدار چھوڑ کر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ بدلتی سیاسی فضا نے انہیں اپنے ناول کے پلاٹ میں بنیادی تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا۔

"سفید جزیرہ" کی کہانی بظاہر ایک سائنسی مہم جوئی سے آغاز لیتی ہے، مگر رفتہ رفتہ ایک گہری سیاسی اور سماجی تمثیل میں ڈھل جاتی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے سائنس دان مریخ کو مسخر کرنے کے لیے ایک راکٹ بھیجنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ طے پاتا ہے کہ ایک انسان کو مریخ پر روانہ کیا جائے جو وہاں کی زندگی کا مشاہدہ کرکے زمین تک معلومات پہنچائے۔ اس مقصد کے لیے آٹھ پاؤنڈ کا ایک عالمی لاٹری ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے، جسے دنیا بھر کے لوگ خریدتے ہیں۔

قرعۂ فال لندن کے ایک بیمار شخص، "جارج قہراللہ"، کے نام نکلتا ہے، جس کے دماغ میں ایک تجرباتی آپریشن کے ذریعے بندر کے غدود نصب کیے گئے ہوتے ہیں۔ اس کی نرس ہمدردی کے جذبے سے اس کے لیے ٹکٹ خریدتی ہے۔ یوں ایک عجیب و قدرے مزاحیہ فضا میں جارج کو راکٹ میں بٹھا کر مریخ کی سمت روانہ کر دیا جاتا ہے۔ ابتدا میں زمین سے اس کا رابطہ برقرار رہتا ہے، مگر جلد ہی وہ اپنی نادانی میں راکٹ سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے اور رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد دنیا اسے فراموش کر دیتی ہے۔

تقریباً ایک ماہ بعد وہ راکٹ ایک پراسرار اور خوشحال سرزمین، "سفید جزیرے"، پر آ گرتا ہے۔ اس جزیرے کا بادشاہ وفات پا چکا ہوتا ہے اور اپنے نائب چیانگ سن کو جانشینی کے انتخاب کی ذمہ داری سونپ جاتا ہے۔ قبائلی سردار اقتدار کے لیے باہمی کشمکش میں الجھ جاتے ہیں۔ ایسے میں جب راکٹ محل کے قریب گرتا ہے اور جارج باہر نکلتا ہے تو مذہبی پیشوا اسے خدائی نشانی قرار دے کر بادشاہ بنانے کا اعلان کر دیتا ہے۔ یوں جارج، جو اب قہر اللہ نہیں بلکہ "کنگ سائمن" کہلاتا ہے، تخت نشین ہو جاتا ہے۔

کنگ سائمن جلد ہی اپنی نااہلی ثابت کر دیتا ہے۔ وہ چوروں، لٹیروں اور خوشامدی عناصر کو اہم مناصب پر فائز کرتا ہے۔ اس کا وزیر اعظم ایک نااہل ترین شخص، کاچو ماچو نام کا بندہ بنتا ہے، جس کی واحد اہلیت یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ کتنی ذلت اور مار سہہ سکتا ہے۔ کنگ سائمن کی شادی روز نامی خاتون سے ہو جاتی ہے اور دونوں اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، مگر نااہل حکمرانی کے باعث ملک بدانتظامی، مہنگائی اور بے یقینی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

ادھر ہمسایہ دشمن "کالا جزیرہ" حملے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ سفید جزیرہ اپنی اندرونی کمزوریوں سے خود ہی بکھر جائے گا۔ کنگ سائمن اپنی مدتِ اقتدار بڑھاتا رہتا ہے اور حالات مسلسل ابتری کی طرف جاتے ہیں۔ بالآخر تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق عوام بغاوت پر اتر آتے ہیں، تخت الٹ دیا جاتا ہے اور کنگ سائمن اپنے رفقا سمیت فرار ہو جاتا ہے۔

اس داستان کے ذریعے نسیم حجازی ایک سادہ مگر نہایت طاقتور پیغام دیتے ہیں: جب کسی قوم پر نااہل اور خود غرض حکمران مسلط ہو جائیں تو خوشحال ریاستیں بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔

تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل اس ناول میں نسیم حجازی نے سفید جزیرے کے باشندوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مفصل تصویر کشی کی ہے۔ مگر ناول کی اشاعت سے قبل ہی اسکندر مرزا ملک سے رخصت ہو گئے، جس پر نسیم حجازی کو امید بندھی کہ شاید حالات سدھر جائیں گے۔ تاہم وہ 2 مارچ 1996ء تک اپنی زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نہ دیکھ سکے، جس کا اظہار وہ کرتے رہے۔

آج 2026ء میں کھڑے ہو کر محسوس ہوتا ہے کہ حالات 1958ء اور 1996ء کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں، مگر حجازی کا ناول آج بھی اسی طرح زندہ اور معنی خیز ہے۔ ہم خوش گمانی رکھ سکتے ہیں کہ ہمارا وزیر اعظم، کاچو ماچو نہیں اور اس کے وزرا و مشیر نااہلی یا بددیانتی کی علامت نہیں۔ لیکن سولر پالیسی کی حالیہ کارروائی نے اس خوش گمانی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم مختلف ادوار میں ایک ہی کرداروں کی بازگشت سن رہے ہوں۔

سولر معاملے کے بعد اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ قبرستان میں آسودۂ خاک نسیم حجازی کی قبر پر جا کر انہیں سلیوٹ مارنے کو جی چاہتا ہے، اس لیے نہیں کہ انہوں نے محض ایک ناول تحریر کیا، بلکہ اس لیے کہ وہ تو ایک بڑے پامسٹ اور ولی اللہ ثابت ہوئے ہیں۔ آج اگر وہ قبر سے زندہ باہر آجائیں تو وہ حیران ہو کے ضرور پوچھیں گے ابھی تک 'کاچو ماچو' گیا نہیں؟

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Sasti Bijli Mehangi Kyun? Solar Policy Ka Karva Sach

By MA Tabassum