Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Amir Khakwani
  3. Afghanistan Strikes: 4 Aham Sawal Aur Unke Jawab

Afghanistan Strikes: 4 Aham Sawal Aur Unke Jawab

افغانستان سٹرائیکس: چار اہم سوال اور ان کے جواب

افغانستان پر سٹرائیکس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تین چار سوال بار بار پوچھے جارہے ہیں، اب ضروری ہے کہ ان پر بات کی جائیتاکہ کنفیوژن دور ہو اور عام آدمی کو بات سمجھ آ سکے۔ افغانستان پر حملے مگر پاکستان میں کیوں نہیں؟

پہلی بات یہ کہی جا رہی ہے، " پاکستانی فورسز نے افغانستان پر تو سٹرائکس کر ڈالی ہیں کہ وہاں پر ٹی ٹی پی، گل بہادر گروپ وغیرہ کے ٹھکانے ہیں۔ اتنی دور کی معلومات ہیں تو پاکستان کے اندر کارروائی ان گروپس پر کارروائی کیوں نہیں کرتے؟"

اس سوال میں دراصل معصومیت سے زیادہ بے خبری اور لاعلمی موجود ہے۔ کوئی نہایت بے خبر شخص ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ پاکستان میں کارروائیاں نہیں ہو رہیں۔ ہر روز تو میڈیا اور سوشل میڈیا میں خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ فتنہ الخوارج کے اتنے دہشت گرد مارے گئے، فلاں جگہ ریڈ ہوا۔ کارروائی اور کس طرح کی جاتی ہے؟

پچھلے سال یعنی دو ہزار پچیس میں پاکستان نے دہشت گردی کے واقعات کے ردعمل میں پچھہتر ہزار انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کیں۔ جی آپ نے درست پڑھا پچھہتر ہزار (75,175) آپریشنز۔ یہ دو سو چھ آپریشن روز کے بنتے ہیں۔ ان میں ڈھائی ہزار کے قریب دہشت گرد مارے گئے، مزید نپے تلے اعداد وشمار لیں تو یہ 2597 بنتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ پاکستان کے اندر تو مسلسل کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

یہ بات مگر یاد رکھیں کہ پاکستان میں اب ٹی ٹی پی وغیرہ کے دہشت گرد ادھر سے اُدھر مسلسل بھاگتے رہتے۔ ایک رات کسی علاقے میں، دوسری کسی علاقے میں۔ اس لئے یہاں انٹیلی جنس بیسڈ ریڈ وغیرہ ہی ہوسکتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہاں پر کسی جگہ ان کا کوئی ٹریننگ سنٹر ہو یا رہائشی کمپاونڈ جسے نشانہ بنایا جا سکے۔ مسئلہ یہ آ رہا ہے کہ زیادہ تر دہشت گرد افغان سرحدی علاقوں سے آ کر آپریشن کرتے اور واپس افغانستان بھاگ جاتے ہیں۔ افغانستان ان کا بیس کیمپ ہے۔ وہاں سیف ہاوسز، رہائشی کمپاونڈ، ٹریننگ سنٹر اور ریکروٹنگ سنٹرز ہیں۔ جب تک ان پر ضرب نہ لگائی جائے، ان دہشت گرد گروپوں کے مرکزی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ یہ سرجیکل سٹرائیکس اسی لئے کرنا پڑیں تاکہ ان دہشت گردوں کے سیف ہیون یعنی محفوظ ٹھکانوں کو بھی ان کے لئے دہکا ہوا جہنم بنایا جائے۔ رات کو سوتے ہوئے بھی یہ ڈریں کہ کسی وقت کوئی میزائل انہیں آ دبوچے گا۔

پاکستان ہی نے یہ طالبان بنائے، اب بھگتے، یہ الزام صریحاً غلط ہے۔ افغان طالبان افغانستان کے حالات نے پیدا کئے۔ وہاں پر چار سالہ خانہ جنگی سے تنگ آ کر مدارس کے طلبہ کھڑے ہوئے اور پریشان حال عوام ان کے ساتھ ملتے چلے گئے۔ پاکستان نے جو خانہ جنگی سے نالاں تھا، ان کی حمایت کی، جس طرح سعودی عرب وغیرہ نے بھی کی۔ ایسا نہیں کہ افغان طالبان پاکستان نے پیدا کئے۔

جہاں تک ٹی ٹی پی کا تعلق ہے، یہ تو دراصل مقامی قبائلی لڑاکے یا جرائم پیشہ افراد تھے جنہوں نے القاعدہ کی حمایت کی۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد القاعدہ کے یہ عرب، ازبک، چیچن وغیرہ بھاگ کر پاکستانی قبائلی علاقوں میں آ بسے، مقامی لوگوں سے انہوں نے رشتے داریاں بھی کیں اور پیسے کی طاقت سے بھی ان کی حمایت خریدی۔ قبائلی علاقوں میں کچے مکانات بھی کئی سو ڈالر ماہانہ کرایے پر عرب لیتے تھے یعنی جو پانچ سات ہزار میں مل سکتے، انہیں چالیس پچاس ہزار کرایہ پر تاکہ مقامی قبائلی خوش ہو کر ساتھ مل جائیں۔

پاکستان نے بعد میں تنگ آ کر عرب جنگجووں کو پاکستان سے نکالنے کی کوشش کی کہ اپنے آبائی ملکوں میں جاو، تب ان کے حامی یہ قبائلی جن میں بیت اللہ محسود کے زیر اثر محسود قبائلی سرفہرست تھے، وہ پاکستانی فوج سے لڑنے لگے۔ یوں ٹی ٹی پی بنی۔ بیت اللہ محسود پہلا امیر تھا۔ القاعدہ کے بعض تکفیری سکالرز شیخ عیسیٰ وغیرہ کے تحت ٹی ٹی پی نے خود کش بمبار بنائے اور ملک میں بم دھماکے ہونے لگے۔ یوں دیگر آپریش بھی ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج تو اس ٹی ٹی پی سے پچھلے بیس بلکہ بائیس تیئس سال سے جنگ لڑ رہی ہے۔ اسی ٹی ٹی پی نے ہزاروں جوانوں، افسروں بلکہ اعلیٰ افسروں کو شہید کیا، اداروں کی اہم عمارتوں پر حملے کئے، فوجی مساجد میں خودکش حملے کئے، ایک کور کمانڈر کا بیٹا تک شہید ہوا۔ اپنے قاتل ان ٹی ٹی پی والوں سے فوج کیسے دوستی کر سکتی تھی؟

گڈ طالبان بیڈ طالبان: یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے یہ تقسیم نہیں کی۔ دراصل قبائلی علاقوں سے بعض قبائلی گروپس(ملا نذیر وغیرہ) پاکستانی حکومت کے خلاف نہیں لڑتے تھے، ان کا تمام تر فوکس افغان طالبان کے ساتھ افغانستان جا کر غیر ملکی افواج کے قبضے کے خلاف مزاحمت کرنا تھا۔ اس اصولی بات سے پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں تھا، اس لئے پاکستانی فورسز بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تھی۔ انگریزی اخبارات میں صحافیوں نے انہیں گڈ طالبان کہنا شروع کر دیا۔ جبکہ دوسرے ٹی ٹی پی کے لوگ تھے جو خود کو پاکستانی طالبان کہتے تھے، یہ فورسز اور عام پاکستانیوں پر حملے کرتے تھے، اسے انگلش پریس نے بیڈ طالبان کہنا شروع کر دیا۔ تو یہ گڈ طالبان، بیڈ طالبان کے الفاظ پاکستانی انگریزی اخبارات اور عالمی میڈیا کے دئیے ہیں، ان میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں۔

پاکستان نے افغان طالبان کا ساتھ کیوں دیاتھا؟ اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں۔ افغان طالبان تب مظلوم تھے، ان کے وطن پر غیر ملکی افواج کا قبضہ تھا۔ وہ مزاحمت کر رہے تھے۔ ان کی حمایت کرنا اصولی طور پر ٹھیک، جائز اور درست تھا۔ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔ میرے جیسے پاکستانی رائٹسٹ صحافی اور لکھاریوں نے افغان طالبان کے حق میں سینکڑوں تحریریں لکھیں۔ وہ سب اصولی حمایت تھی، درست اور جائز۔ پاکستانی اخبارات نے اقبال کا شعر "افغان باقی، کہسار باقی۔۔ "دو عشرے چھاپے رکھا، وہ بھی درست تھا۔ مظلوم کی حمایت کرنا بنتی تھی۔ غلطی اور زیادتی تو اس فریق کی ہے جو کل مظلوم تھا، آج وہ اقتدار میں ہے تو وہ خود ظالم بن گیا۔

وہی افغان طالبان جو کل مظلوم تھے، آج وہ اقتدار میں آ کر ظالم، سفاک، بے رحم ہونے کے ساتھ احسان فراموش، جھوٹے، بدعہد، خائن نکلے۔ اپنے محسن پاکستانیوں کے خلاف دہشت گردی کرائی اور ہزاروں جانوں کا خون انہی افغان طالبان، ان کے امیر ملا ہبت اللہ اور دیگر رہنمائوں پر ہے۔ سوال تو ان سے پوچھا جانا چاہیے۔ ہم لوگوں نے تو تب حق کا ساتھ دیا تھا، اصول کی خاطر سٹینڈ لیا، ہم سے سوال پوچھنا بنتا ہی نہیں۔ سوالات تو سب افغان طالبان حکومت سے پوچھے جانے ہیں۔ تاریخ نے انہیں کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہیں جواب دینا ہی پڑے گا۔

Check Also

Afghanistan Strikes: 4 Aham Sawal Aur Unke Jawab

By Amir Khakwani