Jamia Sindh Jamshoro
جامعہ سندھ جام شورو
پاکستان کی کئی ایسی جامعات ہیں جن میں اردو پڑھائی جاتی ہے۔ یعنی ان جامعات میں ادب سے محبت رکھنے والے لوگ بستے ہیں جو کہ فروغِ ادب کے لیے محبت کے جذبے سے انتھک محنت کرتے ہیں اردو کی نشونما کو برقرار رکھتے ہیں۔ لہذا پاکستان کی وہ جامعات جن میں شعبہ اردو کے نام سے ادب کے سنسار بستے ہیں ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں۔ "جامعہ سندھ"، "جامعہ کراچی"، "جامعہ لاہور"، "جامعہ پشاور"، "جامعہ ڈھاکہ" اور "جامعہ پنجاب" ان تمام میں سے میرے زیرِ تکمیل مقالے کا عنوان جامعہ سندھ کے شعبے اردو کے گرد گھومتا ہے۔ لیکن شعبہ اردو کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے سے پہلے میں آپ کے سامنے جامعہ سندھ کا ایک مختصر سا تعارف پیش کرنا چاہوں گی۔
جامعہ سندھ پاکستان کی قدیم جامعات میں سے ایک ہے لہذا یہ "جامعہ پنجاب" اور "اورینٹل کالج" کے بعد پاکستان کی دوسری قدیم جامعہ ہے۔ اِس لیے اس کا شمار بڑی بڑی جامعات میں ہوتا ہے۔ کیونکہ درس و تدریس کے علاوہ علمی ادبی اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے اس کی خدمات پاکستان کی کئی جامعات کے مقابلے میں نمایاں قرار دی جا سکتی ہیں اس کے علاوہ جدید سندھ کی تعلیمی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی تاریخ میں بھی اسے نمایاں مقام حاصل ہے1934ء میں انڈیا اور پاکستان ایک ہی ملک تھا لیکن 1935ء میں سندھ صوبہ بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کیا گیا جہاں صرف چند ہائی اس کو اور تقریباََ نصف درجن کالج موجود تھے جو کہ قیامِ پاکستان تک ممبئی یونیورسٹی کے زیر اہتمام تھے۔ اس لیے جو لوگ اخراجات برداشت کر سکتے تھے ان کو اعلی تعلیم کے لیے دور دراز جگہوں پر جیسے علی گڑھ یا یورپ جانا پڑتا تھا۔
ظاہر ہے کہ یہ حالات تشفی بخش نہ تھے اور یہ عام طور سے محسوس کیا جاتا تھا کہ جب تک صوبے کے پاس اپنی یونیورسٹی نہ ہو یہاں کے لوگ اعلی تعلیم کے میدان میں پیچھے رہیں گے اور جس کے نتیجے میں ان کے لیے دوسرے میدانوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی، لہذا اس وقت صوبے سندھ میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور قانونی شک نمبر 18 کے تحت یونیورسٹی آف سندھ کے نام سے ایک بل قانون ساز اسمبلی میں پاس ہوا اور اس کمیٹی میں گورنمنٹ کے آگے سندھ یونیورسٹی کی بنیاد کی پیشکش کی گئی۔
1940ء میں اس کمیٹی کا نام سندھی یونیورسٹی کمیٹی رکھا گیا اس کمیٹی نے سندھ یونیورسٹی کی ایک مکمل رپورٹ 1942ء میں پیش کر دی تھی اور اس کو زیادہ قوت تب ملی جب 1943ء میں قائد اعظم نے مسلم لیگ کی ایک تعلیمی کمیٹی کا تقرر کیا۔ لہذا اس پر عمل درآمد 1947ء میں ہوا۔ 8 اور 13 اپریل 1947ء میں جامعہ سندھ کی بنیاد کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن میں "پیر الھی بخش" ٹیچر ٹریننگ اسکول میں رکھی گئی۔
1950 میں وفاقی دارالحکومت نے کراچی یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے یہ ضروری ہوا کہ جام سندھ کو حیدراباد منتقل کر دیا جائے اور پھر مئی 1951ء میں جامعہ سندھ کو کراچی سے حیدرآباد منتقل کیا گیا سندھ کا گورنر سرفرانس موڈی اس جامعہ کا پہلا چانسلر بنا اور سرغلام حسین ہدایت اللہ پرو چانسلر بنے اور اے بی حلیم پہلے وائس چانسلر اور آغا تاج محمد پہلے رجسٹرار مقرر ہوئے۔
1951ء میں جامعہ سندھ میں تدریسی کام کی ابتداء ہوئی اور پہلا شعبہ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن قائم ہوا جو کہ اب فیکلٹی آف ایجوکیشن بن گیا اور پھر جب جامعہ سندھ میں تعلیمی نظام سرگرم ہوا تو اس میں دیگر شعبے بھی قائم کیے گئے اور جامعہ میں ایک اور کیمپس بنانے کی ضرورت پیش آئی تو جامشورو میں علامہ امداد علی قاضی کے نام سے ایک اور کیپس قائم کیا گیا جس کے لیے جامعہ نے1950/51 میں تقریباََ 7 ہزار ایکڑ زمین جامشورو میں حاصل کی یہ زمین حیدراباد سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں نئے اِقامتی کیمپس کی بنیاد رکھ دی گئی سائنس کے شعبوں کو نئے کیمپس میں منتقل کر دیا گیا۔ جس کا عہدۂِ وائس چانسلر 19 اپریل 1951ء میں علامہ امداد علی قاضی نے سنبھالا۔
ابتدائی دور میں جامعہ سندھ کو کئیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ان میں سے ایک سنگین دشواری جس کی وجہ سے جامعہ کو ابتدائی مراحل میں سخت نقصان اٹھانا پڑا وہ مالی دشواری تھی لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامعہ نے اپنی ترقیاتی اور تنظیم کے کام میں غیر ملکی ماہرین اور مشرکین سے کبھی کوئی مدد نہیں لی اور نہ ہی وہ کسی غیر ملکی امدادی ادارے کے تعاون کے پروگرام سے متعلق رہی اور اب جامعہ سندھ پورے دو ڈویژنوں کے لیے جو کہ دس اضلاع پر مشتمل ہیں جن میں سات لاکھ سے زیادہ لوگ بستے ہیں کام کرتی ہے اور اس طرح ترقی کی راہوں پر چلتے چلتے جامعہ سندھ نے بہت سے پیشاورانہ مضامین کے لیے ڈپلومہ کورسز کا بھی آغاز کیا جن میں آڈیٹ اینڈ اکاؤنٹس، بزنس ایڈمنسٹریشن کاپریشن، سوشل ویلفیئر، ووکیشنل گائیڈنس وغیرہ شامل ہیں۔
جامعہ سندھ اس وقت ڈاکٹر محمد فتح مری کی سرپرستی میں ترقی کی راہوں پر رواں دواں ہے اور کئی شہروں میں اس کے کیمپسز بھی بنائے گئے ہیں جن میں حیدرآباد اور کیمپس کے علاوہ۔ جامشورو دادو کیمپس ٹھٹا کیمپس بدین کیمپس نوشیرو فیروز کیمپس بھی قابل ذکر ہیں۔ جامعہ سندھ جامشورو مین کیمپس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس میں اس وقت بیچلر تھرڈ ایر کے تحت 55 پروگرام چل رہے ہیں اور بیچلر پروگرام کے تحت 71 شعبے کارِ فرما ہیں۔ جن میں شعبے اردو کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ جو کہ تدریسی عمل کے ساتھ ساتھ تحقیق کی راہوں پر بھی اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔

