Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zaigham Qadeer

Transgender Act Ke Muzmirat

ٹرانس جینڈر ایکٹ کی متنازعہ شقوں پہ ہم چپ کرکے سارا تماشہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ اصل مزہ تب آنا ہے جب کوئی ٹرانس جینڈر مرد جس کی سیلف پریسیوڈ شناخت عورت ہوگی وہ کسی عورتوں والی جگہ پہ لڑکیوں کو ہراس کرتا ہوا پکڑا گیا۔

کیونکہ ایسا کینیڈا جیسے مہذب ملک میں بھی ہو چکا ہے مگر چونکہ وہ لوگ شریف ہیں سو الٹا اس شخص نے ہی عورتوں پہ کیس کر دیا تھا۔

ہوا یہ تھا کہ ایک بائیولوجیکل مرد جو کینیڈا کے بل سی 16 کے تحت خود کو عورت کے طور پہ شناخت کرواتا تھا اور وہ ایک عورتوں کے سیلون میں اپنے پرائیوٹ پارٹس کی ویکسنگ کروانے چلا گیا تھا۔

اب وہاں پہ موجود خاتون عملے نے معذرت کر لی، مگر اس بات سے ان حضرت کے 'جذبات' کو ٹھیس پہنچ گئی اور انہوں نے عدالت میں کیس کیا اور کیس جیت کر اس عورت کے سیلون کو فقط اس الزام پہ بند کروا دیا کہ اس عورت نے اس کی جنس کی توہین کرکے اس کو ہراس کیا ہے جبکہ چاہیے یہ تھا کہ وہ اس کے جنسی اعضاء کو دیکھے بغیر اس کی بات مان کر اس ذہنی مریض کی ویکسنگ کرتی۔

اب کینیڈا ہماری نسبت نسبتاً ایک شریف ملک ہے تو یہ ٹھرکی زہنی مریض با آسانی بچ گیا اور الٹا ہرجانہ بھی جیتا اور سیلون بھی بند کروا دیا۔

یہی حال پاکستان میں بھی شروع ہونے والا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ اس بل پر غیر ضروری بحث ہو رہی ہے کل کو جب اس جینڈر کی شناخت اور اس کے پروناؤنز کی وجہ سے کسی ایسے ذہنی مریض شخص کی وجہ سے ہراسمنٹ کیس میں پھنسے تب ان کو سمجھ آئے گی کہ یہ بل متنازعہ کیونکر ہے۔

وہیں پہلے پیرا گراف میں میں نے ایک جملہ لکھا ہے کہ 'تب مزہ آئے گا'

اس جملے کا بیک گراؤنڈ ہمارا کلچر ہے۔ مزہ اس لئے کہ جینڈر ڈسفوریا کے شکار ڈاکٹر معیز جیسے ذہنی مریض یہاں پہ اپنی جینڈر تو تبدیل کروا سکیں گے مگر وہیں اگر کینیڈا جیسی الٹی حرکت یہاں پبلک میں کی تو اس بل کی بتی بنا کر لوگوں نے ان کو واپس دے دینی ہے سو تب مزہ آئے گا۔

ٹرانس رائٹس اور انٹر سیکس رائٹس میں فرق رکھنا چاہیے۔ پاکستان اگر قانونی طور پہ ہم جنس پرستی سے پاک ملک ہی رہتا تو اچھا تھا مگر اب جبکہ اس کو قانونی راستہ مل چکا ہے تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہاں اگر کل کو اوپر والے کیس کی طرح کسی ٹرانس شخص نے کسی دیسی بندے کے ساتھ الٹی حرکت کی تو پھر وہ بتا دیں گے کہ بل پاس ہونے اور گراؤنڈ رئیلٹی میں کیا فرق ہوتا ہے۔

وہیں ہم مخنثوں سمیت ہر طرح کے انسانوں کی عزت کرتے ہیں لیکن ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک مکمل بائیولوجیکل مرد کل کو خود کی بطور عورت شناخت کروا کر ہماری بچیوں کے درمیان کھڑا ہو، ان کیساتھ مقابلوں میں حصہ لے یا انکی پرائیویسی کو بریچ کرے۔ سو آج یا کل، اس بل میں ترمیم ہونا ناگزیر بن جائے گی وہیں اگر کسی حادثے یا سانحے کے بعد ترمیم کرنا پڑی تو پھر بل پیش کرنے والی تمام جماعتیں اور پاس کرانے والی تمام جماعتیں چار حروف کی مستحق ہونگی۔

Check Also

Farq

By Hania Irmiya