Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zaigham Qadeer

Left Aur Right

کسی زمانے میں رائٹ کا سادہ سا مطلب مرد و عورت کو الگ سمجھنا، اقلیتوں کو ایکسپلائٹ کرنا، مخالف نظریات کو قبول نا کرنا، نظریات میں لچک نا دکھانا اور نئی سوچ کو فالو نا کرنا کہلاتا تھا جبکہ لیفٹ کا مقصد سب کو یہی معلوم تھا کہ یہ جنسوں کی برابری، اقلیتوں کے حقوق، مخالف و نئے نظریات کو قبول، برداشت کا سبق اور فری سپیچ کی حامی ہے۔

لیکن یہ سب ہمارے جوان ہونے سے پہلے ہی بدلنا شروع ہوگا۔ ہمارے جوان ہونے کا مطلب سنہ 2016، 17 سے پہلے ہی، تقریباََ 2008، 9 سے شروع ہوا یہ تسلسل یہاں پاکستان میں بھی 15، 2014 تک پہنچ گیا تھا جس میں لیفٹ لیفٹ کی بجائے فار لیفٹ کی طرف چل دیا تھا۔ اس وجہ سے اب ہم خود کو لیفٹ کا کہتے ہوئے بھی شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہم شخصی آزادی و انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں مگر انسانوں کو ایذاء پہنچانا لیفٹ کا مقصد کبھی نہیں تھا مگر اب بن گیا ہے۔

جہاں لیفٹ فری سپیچ کا حامی تھا وہیں یہ اب اس فری سپیچ کا حامی بن گیا تھا جسے یہ فری سپیچ سمجھتا تھا۔ اس بات کی ایک نہایت موٹی اور جنرلائزڈ مثال یہ دیکھ لیں کہ امریکی ٹی وی چینلز میں آپ اب کسی کو "موٹا" کہیں گے تو وہ شخص آپ پہ با آسانی باڈی شیمنگ کا الزام لگا سکتا ہے لیکن وہیں آپ اگر پتلے ہیں تو آپ کے جسمانی خدوخال پہ روسٹ کیا جا سکتا ہے اور ایسا کئی شوز میں ہو چکا ہے۔ یہ تو جنرلائزڈ مثال تھی۔ لیفٹ کے فار لیفٹ جانے کی ہزاروں مثالیں ہیں۔

کچھ ماہ پہلے جو روگن جو کہ ایک بہت مشہور شو ہوسٹ ہیں ان پہ لیفٹ کی طرف سے ہیٹ سپیچ کا الزام لگانا شروع کر دیا، وجہ کیا بنی؟ یہ کہ جو روگن نے این لفظ بولا جس سے این کمیونٹی کی دل آزاری ہوئی ہے۔ اب چونکہ اس کے شو میں تاریخ سے لےکر سماجیات تک سب کچھ ڈسکس ہوتا ہے تو اس تاریخ کے ذکر کے دوران این لفظ اس نے بارہا بولا مگر لیفٹ نے اس کی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرکے اس کو کینسل کرنے کی کمپین چلائی مگر جو روگن نے سب کو ناکوں چنے چبوا دئیے کیونکہ وہ کافی اثرورسوخ کا مالک تھا۔

مگر کینیڈا کا ایک بیوٹی سیلون اتنا اثر و رسوخ نہیں رکھتا تھا۔ شائد سنہ 2017، 18 کی بات ہے جب ایک ٹرانس شخص عورتوں کے سیلون میں چلا گیا۔ یہ ٹرانس فیمیل ٹرانس نہیں بلکہ ایک میل ٹرانس تھا مطلب اس کے پاس مردوں والے جنسی اعضاء تھے۔ اب اس نے کہا کہ آپ میری ویکس کریں۔ سیلون کی مالک نے معذرت کر لی لیکن اس بات کو اس نے کورٹ میں چیلنج کر دیا کہ اس کے "جمہوری و انسانی" حقوق کی تلفی ہوئی ہے اس لئے یہ سیلون بند کیا جائے اور بعد میں وہ سیلون اس لئے بند کر دیا گیا کہ اس نے ایک ٹرانس شخص کو ویکس کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

صرف ان مثالوں پہ بات نہیں رکتی۔ نیٹ فلکس کے آفس چلے آئیں۔ یہاں پہ ایک قانون پاس ہوا کہ آپ کسی بھی فیمیل کو ورکر کےساتھ پانچ سیکنڈ سے زیادہ نظر نہیں ملا سکتے۔ جی! جونہی آپ اس لمٹ سے اوپر نظر ملائیں گے تو آپ پہ ہراسمنٹ چارجز لگا کر آپ کو جاب سے نکال دیا جائے گا کیونکہ آپ ایک خاتون کو ہراس کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی؟ ایسا جملہ سوچنے سے پہلے آپ کو مزید بتاتا چلوں کہ کیسے لیفٹ لیفٹ سے فار لیفٹ بن گیا ہے۔

آپ پاکستان چلے آئیں۔ می ٹو موؤمنٹ نئی نئی آئی ہے۔ میشا شفیع جو کہ ایک خاصے مضبوط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں وہ خود پہ ہراسمنٹ کا الزام لگاتی ہیں اب یہ الزام محض الزام ہی تھا مگر علی ظفر کے لئے یہ الزام اس کے بدکردار ہونے کی دلیل بن گیا تھا۔ اس کو سوشل میڈیا پہ منظم کمپینز چلا کر ڈی فیم کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کی کردار کشی کی گئی، فقط اس لئے کہ ایک عورت نے اس پر الزام لگایا تھا اور چونکہ عورت نے الزام لگایا تھا اس لئے اب علی ظفر کا بچنا ناممکن تھا۔

ابھی بھی عدالت کے فیصلے کے باوجود بہت سے لوگ جو کہ لیفٹ سے ہیں میشاء کو ہی درست سمجھتے ہیں لیکن وہ ہے ہی غلط مگر چونکہ لیفٹ سے تھی اور عورت تھی اس لئے وہ بالکل درست تھی اور رہے گی۔

مغرب واپس چلتے ہیں۔ امبر ہیڈ اور جونی ڈیپ کا fiasco دیکھتے ہیں۔ امبر جونی پہ الزام لگاتی ہے کہ اس نے تشدد کیا اور اس کےساتھ غلط کیا۔ میڈیا نے جونی کا کیرئر خراب کر دیا۔ اس ہفتے کئی ماہ کیس چلنے کے بعد جونی نے عدالت میں یہ وائس نوٹ فراہم کیا کہ امبر نے اس کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ چونکہ تم گوری چمڑی والے مرد ہو اس لئے تم خود کو کہیں بھی بےگناہ ثابت نہیں کر سکتے اگر کر سکتے ہو تو دکھاؤ۔

اور یوں جونی جو کہ اب بےگناہ ثابت ہو رہا ہے اگر الٹا لٹک بھی جائے ساری عمر اس الزام کی وجہ سے سینیما میں اس طرح سے واپس نہیں آ سکتا۔ واپس اپنے ملک آتے ہیں ملک میں سالوں سے دہشت گردی چل رہی ہے۔ ایسے میں ہر کوئی ماسوائے فار رائٹ کو نکال کے، خودکش حملوں کو غلط کہہ رہا ہے اور وہ ہیں بھی سب کے نزدیک غلط، مگر ایکدم سے کراچی میں ایک یونیورسٹی کی طالبہ یہ کام کرتی ہے۔

اب چونکہ اس طالبہ کے ٹوئیٹر ہینڈل پہ رچرڈ ڈاکنز اور اروندھتی کی کتب کی پکچر تھی سو لیفٹ سے تعلق جا ملتا ہے اور لیفٹ تو پھر لیفٹ ہے یہ ہوگئے شروع کہ یہ بمبار عورت کیسے معصوم ہے؟ اور کیسے اس کا اس سب کو کرنا جسٹیفائڈ ہے اور کیسے اس نے اپنی آزادی کی خاطر "درست" راہ چنی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ لیفٹ سے تھی اس لئے لیفٹ کا اسے درست کہنا بنتا تھا۔ اب لیفٹ کے نزدیک بندے مارنا بھی جسٹیفائڈ ہے۔

اس کے علاوہ بھی حال میں چل رہی کافی مثالیں سامنے ہیں اور ماضی بھی، کہ لیفٹ فکری شدت پسندی کی طرف نکل کر اب بہت دور جا پہنچا ہے۔ جہاں سے اب واپسی نا ممکن ہے۔ یہ اب اتنے فکری طور پہ شدت پسند ہو چکے ہیں کہ ان کا مخالف اگر غیر مذہبی لوگوں کی حمایت کرے گا تو یہ مذہبی بن جائیں گے اور اس کو غلط ثابت کرنے کی کمپین کا حصہ بننے کی خاطر خود کو سب سے بڑا مذہبی ظاہر کرائیں گے۔ یہ چلن آپ کل کا دیکھ بھی چکے ہوں گے۔

جینڈر گیپ، جینڈر ڈسفوریا، پروناؤنز کی بحث، صنفی حقوق سمیت بہت سی مثالیں بھی ہیں لیکن وہ سب فیس ٹو فیس ڈسکشن میں ہی دی جا سکتی ہیں لیکن ابھی صرف یہ کہنا مقصود تھا کہ اب لیفٹ بھی اتنا ہی زیادہ شدت پسند بن چکا ہے جتنا رائٹ کبھی ہو سکتا تھا۔ اس وقت لیفٹ حد سے زیادہ لیفٹ میں جا چکا ہے جبکہ رائٹ ونگ ابھی بھی اپنی پرانی جگہ پہ ہی کھڑا ہے شائد ہلکا سے رائٹ گیا ہے۔

ایسی بحث ہمارے ہاں بہت کم ہوتی ہے مگر اس پہ بات ہونا ضروری ہے اور عام شخص کو کم ازکم یہ تفریق بتانی ضروری ہے کہ اس وقت اگر وہ خود کو لیفٹ کا حامی کہتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے، رائٹ کے حامی کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ نظریاتی اختلاف کیونکر شدت پسندی کی طرف چلا گیا ہے۔

Check Also

Roshni Jaisi Larkiyan

By Zaara Mazhar