Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zahra Javed
  4. Na Kehna Seekho, Yei Sab Se Bari Kamyabi Hai

Na Kehna Seekho, Yei Sab Se Bari Kamyabi Hai

نہ کہنا سیکھو، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے

آپ نے زندگی میں سب سے زیادہ مشکلات خود اپنے لیے پیدا کی ہیں، ہر ایک کو "ہاں" کہہ کر۔ جب بھی کوئی کام کہتا، "نہ" کہنا آپ کو یوں محسوس ہوتا جیسے آپ سامنے والے کی بے عزتی کر رہے ہیں اور اس شرم میں، لوگوں نے آپ کا بہت فائدہ اٹھایا۔

یہ سمجھنا ضروری ہےکہ ہر کام آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آپ ایک انسان ہیں کوئی روبوٹ نہیں۔ ہر کام کرنے سے نہ آپ بہترین انسان بنیں گے، نہ روبوٹ۔ تو جب آپ سب کچھ کرکے بھی "انسان" ہی رہیں گے، تو خود کو اتنا ہلکان کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

ہر جگہ، ہر ایک کے ساتھ ہونا، نہ آپ کی ضرورت ہے، نہ آپ کا فرض۔

آپ لوگوں کے چاہے جتنے بھی کام آ جائیں، وہ آپ کو کبھی وہ عزت نہیں دیں گے جو وہ خود کی کرتے ہیں۔ تو آپ کے لیے بھی ضروری ہے کہ پہلے آپ اپنی ذات کو عزت دیں، اپنی اہمیت سمجھیں اور خود کو وہ مقام دیں جس کے آپ حقدار ہیں۔

جب تک آپ خود کی عزت کرنا نہیں سیکھیں گے، لوگوں کی نظر میں بھی وہ عزت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

اپنی حدود بنانا سیکھیں۔ جہاں کوئی آپ کی حد کو پار کرنے لگے تو اسے احساس دلائیں کہ وہ آپ کی self-respect سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ لوگوں کی توہین کریں، بلکہ انہیں حد سے آگے بڑھنے نہ دیں اور یہ تب ممکن ہوگا جب آپ خود کو اپنی اوّلین ترجیح بنائیں گے۔

آپ لازماً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کسی کے کام آنا، آخر اس میں کیا برائی ہے؟ تو ایک بار خود اپنا موازنہ کریں۔

مثال کے طور پر، ایک وقت میں آپ کے اپنے بھی کام ہیں اور کوئی آ کر آپ کو اپنا کام کہتا ہے۔ آپ اس کی ہمدردی میں فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔ اب سوچیں، پہلے آپ اس کا کام کریں گے یا اپنا؟ سامنے والا ہمیشہ چاہے گا کہ آپ پہلے اس کا کام کریں اور اگر آپ نے کیا، تو دن کے اختتام پر آپ کے بہت سے کام ادھورے رہیں گے۔ صرف کام ہی نہیں، آپ کی energy لگی، آپ کا دماغ لگا، آپ کا وقت لگا اور یہ سب صرف ایک "شکریہ" کے لیے؟

ہاں، کچھ لوگ واقعی آپ کے قریبی ہوتے ہیں، ان کی مدد کرنی چاہیے۔ کبھی کبھی انجان کی بھی مدد کر دینی چاہیے۔ لیکن صرف اتنی مدد کریں جتنی آپ خود کو نقصان پہنچائے بغیر کر سکتے ہیں۔

کبھی ایسا ہوگا کہ آپ کا کوئی اپنا پریشان ہوگا اور آپ اس کے لیے دعا کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو ان کے لیے دعا کریں نہ کہ ان کے دکھ کو اپنے سر پر سوار کرکے خود کو نڈھال کر لیں اور کبھی ایسا ہوگا کہ سامنے والا اپنا کام آپ کو دے دے گا، اس کی مدد کرنے سے پہلے ذرا سوچیے گا: آپ کے اپنے بھی کام ہیں اور آپ کے پاس آپ کے علاوہ کوئی نہیں جو آپ کا کام کرے۔

تو اب فیصلہ آپ کا ہے، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نہیں؟ اور دوسروں کی مدد کرنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں واقعی آپ کی مدد کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ آپ صرف ایک بار، کسی بھی ایسے کام کو "نہ" کہہ کر دیکھیں جو نہ آپ پر فرض ہے، نہ آپ کے لیے ضروری۔

آپ کو آپ کی ہر شرم اور ہر احساس کا جواب خود مل جائے گا۔

Check Also

Sifarish, Ka Nasoor Aur Kam Zarf Ki Hukumrani

By Peer Intizar Hussain Musawir