Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Asad Muhammad Khan Ka Afsana Ghus Baithiya: Takneek Ka Ajooba

Asad Muhammad Khan Ka Afsana Ghus Baithiya: Takneek Ka Ajooba

اسد محمد خاں کا افسانہ "گھس بیٹھیا": تکنیک کا عجوبہ

"کاسٹ آئرن اور لکڑی سے بنی مضبوط بینچ" کے نیچے لیٹا ببر یار خاں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، جو ظاہر ہے اس کی زندگی کا سب سے اہم اور سب سے ہولناک واقعہ ہے، لیکن مرتے مرتے اس پر اس سے بھی زیادہ ہولناک انکشاف ہوتا ہے کہ وہ کلمۂ شہادت ہی بھول گیا ہے اور اسے خطرہ ہے کہ کہیں حرام کی موت نہ مر جائے۔

اور یوں آغاز ہوتا ہے اسد محمد خاں کے افسانے "گھس بیٹھیا" کا۔ کوئی تصور کر سکتا ہے کہ کسی افسانے، کسی ناول، کسی ڈرامے کا اس سے زیادہ دہلا دینے والا آغاز ممکن ہے؟

لیکن پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔

ببر خاں کو مرتے مرتے کلمۂ شہادت بھولنے کے علاوہ ایک اور غم بھی کھائے جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ "کاسٹ آئرن اور مضبوط لکڑی سے بنی" اسی بینچ کے اوپر ڈلیچن لکھیرا بھی خرخراتے ہوئے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ وہ ہندو ہے اور ببر یار خاں کو غم ہے کہ اس حادثاتی موت کی وجہ سے شہر بھر میں جو ہزاروں آدمی مر رہے ہیں ان میں سے مسلمان تو سیدھے شہادت کے رتبے پر فائز ہو جائیں گے، مگر یہ "سالا چتکبرا" سیدھا جہنم میں جائے گا۔ ببر خاں دعا مانگتا ہے، "اسے مسلمان کر دے مولا! یہ جہنم میں کہاں مارا مارا پھرے گا، اکیلا ہے سسرا"۔

یہ سب لوگ مکھیوں کی طرح کیوں مر رہے ہیں؟ اس لیے کہ 1984 میں بھوپال (اسد محمد خاں کی جنم بھومی) میں ایک امریکی فیکٹری سے زہرآلود گیس لیک ہونے سے دنیا کا بدترین صنعتی حادثہ رونما ہوا تھا جو ڈلیچن لکھیرے اور ببر یار خاں سمیت سولہ ہزار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار گیا تھا۔

لیکن نہ ڈلیچن لکھیرے کو، نہ ببر یار خاں کو ان تفصیلات کا علم ہے۔ وہ تو بس گیسی دھند کے "غراتے دریا" کی زد میں آ کر بےموت مارے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ببر خاں کو سالے لکھیرے کا غم ہے تو "سالا سسرا" ڈلیچن لکھیرا نزع کے عالم میں سوچتا ہے، "میں تو کرونامئے گریجا پتی کا بھگت ہوں، سیدھا سورگ میں جاؤں گا، مگر اس اندھے کا کیا بنے گا، یہ تو مسلمان ہے۔ " وہ بنتی کرتا ہے، "ہے پرمیشور، اگر یہ یم راج کی پددھونی ہے تو اب اس مسلمان کی بھی رکھچا کر دے، یہ اندھا نرک اندھکار میں اکیلا کہاں مارا مارے پھرے گا۔ روشنی دکھا دے اسے بھی پربھو!"

آپ نے دیکھا کہ ایک ہی پیراگراف میں مصنف ببر خاں کے دماغ میں بھی جاتا ہے اور ڈلیچن لکھیرا کے بھی۔ اگر آپ فکشن رائٹنگ کی کلاسوں میں ایسا کریں تو اس پر سرخ لکیر پھیر کر مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایک باب ایک ہی کردار کے پوائنٹ آف ویو سے لکھیں۔ لیکن اسد محمد خاں نے یہ اصول توڑ کر بتا دیا کہ اصول بڑے ادیب کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلتے ہیں۔ انہوں نے قاری کو ایک ہی پیراگراف میں دونوں مرتے ہوئے کرداروں کے شعور تک رسائی دے کر انہیں یوں آپس میں گھول دیا ہے جیسے گلاس میں شکر اور پانی۔ کری ایٹو رائٹنگ کے اصولوں کی لکیر پر چلتے ہوئے یہ کام ممکن نہ تھا۔

یہ کام ایک ساتھ کرنا اور ایک پیراگراف میں کرنا، اسد محمد خاں جیسے نابغے ہی کا جگرا تھا (نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ Don't try this at home)۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل کا سارا افسانہ ببر خاں کے نقطۂ نظر سے لکھا گیا ہے اور لکھیرا کو صرف باہر سے ایک معاشرے کے دھتکارے ہوئے کریہہ صورت انسان دکھایا گیا ہے، جس کو لوگ جذامی سمجھ کر اس سے دور بھاگتے ہیں اور یہ دونوں ایک متروک قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یم دوت (موت کے فرشتہ) کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے لکھیرا کے اندر کے انسان کا حسن ایسے چھلک پڑتا ہے کہ پورے بنی نوع آدم کے لیے بھی کفایت کر سکتا ہے۔

عام انسانی معاشرے کی نظر سے دیکھیں تو ببر خاں میں بھی لاکھ برائیاں ہیں۔ اسے ولد الحرام سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں افسانے میں پانچ بار ایک ہی فقرہ دہرایا گیا ہے اور ہر بار الگ معنویت کے ساتھ: "مزے کر، مزے کر، مزے کر، کر مزے حرامی سالے!" وہ چور چکاری کرتا ہے، بھیک مانگتا ہے، پولیس میں بستہ الف کا بدمعاش ہے، مخبری کرتا ہے، دلالی کرتا ہے، مگر اس ببر خاں میں اتنی انسانیت ہے کہ اسے مرتے وقت خود سے زیادہ اس بات کی تڑپ ہے کہ معاشرے کی حدوں سے دھتکارے ہوئے ڈلیچن لکھیرا کا انجام بخیر ہو۔

میں پورے افسانے پر بات نہیں کر رہا کیوں کہ اس طرح تحریر دس گنا لمبی ہو جائے گی، صرف شروع اور آخر کے پیراگراف میرا موضوع ہیں اور اس میں خاص طور میں تکنیک پر بات کر رہا ہوں، باقی مسائل نقادوں کے حوالے۔

افسانے کا پہلا فقرہ دیکھیں: "ببر یار خاں نے کاسٹ آئرن اور لکڑی سے بنی ہوئی مضبوط بینچ کے نیچے پڑے پڑے آسودگی سے ٹانگیں پھیلائیں اور جان دے دی"۔

اس فقرے میں ایک جہان آباد ہے، مگر میں آپ کی توجہ اس میں پیوست امیج کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ اگر میری طرح کا ادھ کچا پکا ادیب ہوتا تو وہ "لوہے کی بینچ" یا "لکڑی کی بینچ" کہہ کر آگے بڑھ جاتا، مگر "کاسٹ آئرن اور لکڑی سے بنی مضبوط بینچ"؟ اس مخصوص امیج کا اسد محمد خاں کو اس قدر احساس ہے کہ نہ صرف افسانہ اسی سے شروع کیا ہے بلکہ 13 صفحے کے افسانے میں اسے چار بار دہرایا ہے۔ کیوں؟

ادب میں امیج کی بےحد اہمیت ہے۔ علامت، تشبیہہ، استعارے سے زیادہ، کیوں کہ علامت، تشبیہہ، استعارہ قاری کو متن سے باہر لے جاتا ہے، امیج اس کے برعکس متن کے اندر لے جاتا ہے اور امیج بھی ایسا ٹھوس اور کنکریٹ جو بیک وقت بصری بھی ہے اور لمسی بھی (کاسٹ آئرن لوہے کا لمس)۔ بینچ بھی عام بینچ نہیں، مضبوط بینچ۔ لکڑی اور لوہے دونوں سے مل کر بنی ہوئی۔

یہ بینچ اس لیے اہم ہے کہ یہ وہ سٹیج ہے جس پر افسانے کا ڈراما کھیلا گیا ہے کہ اس کے اوپر اور نیچے دونوں مرکزی کردار موت کی دلدل میں دھنس رہے ہیں، اس لیے مصنف چاہتا ہے کہ آپ اس بینچ کی سختی، مضبوطی، لوہے کی ٹھنڈک اور لکڑی کی پالش محسوس کریں۔ یہ بینچ نہیں اڑن رتھ ہے جس پر سوار ہو کر سماج کے روندے ہوئے، دھتکارے ہوئے "گھس بیٹھیے" اور "حرام خور" دو کردار "ایک دوسرے کی سنگت میں کھانستے ہوئے خدا کے ابدی مرغزار" کی طرف پرواز کر رہے ہیں۔

بات لمبی نہ ہو جائے، اس لیے اس دعوے پر ختم کرتا ہوں کہ تکنیک اور فن پر گرفت کے معاملے میں اردو ادب میں کوئی اسد محمد خاں کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ اس کا ایک زندہ نمونہ 13 صفحوں کا یہ افسانہ ہے جس میں نئے (اور بہت سے پرانے) لکھنے والوں کے لیے اتنے سبق موجود ہیں کہ وہ اس سے قطبی ستارے کا کام لے سکتے ہیں۔

Check Also

Sach Ka Tanha Musafir Aur Jhoot Ki Patriyon Par Dagmagati Pakistan Railway

By Muhammad Anwar Bhatti