Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Iqbal Wattoo
  4. Physical Model

Physical Model

فزیکل ماڈل

ڈیم انجینیئرنگ میں ایک دلچسپ عمل "فزیکل ماڈل" ہوتا ہے۔ یہ ویڈیو بلوچستان کے ضلع تربت کے ایک ڈیم کی نندی پور ریسرچ اسٹیشن میں آج فزیکل ماڈل سٹڈی کے دوران مختلف ٹیسٹ کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ آج اس کا پہلا ٹیسٹ رَن شروع ہوا۔ اگلے تین چار ماہ تک اس ماڈل پر بڑے دلچسپ ٹیسٹ ہونے والے ہیں۔

سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ کسی ڈیم انجینیئر کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ آجائے اور وہ چراغ کے جن کو حکم دے کہ مستقبل میں بلوچستان میں بننے والے دو سو فٹ بلند اور ہزاروں فٹ لمبے ڈیم کو اس کی پہاڑیوں، ڈیم، سپل وے، ندی اور جھیل سمیت ایک طشتری میں اٹھا کر گوجرانوالا کے مضافات میں واقع "نندی پور اری گیشن ریسرچ سنٹر" کی ایک 200 فٹ چوڑی ٹرے میں آکر سجا دو تاکہ میں اس کے اوپر تجربات کرکے مستقبل میں اس ڈیم کے ساتھ پیش آنے والے حالات واقعات کا ابھی سے جائزہ لے سکوں۔ اس کی خوبیوں اور خامیوں کو جانچ سکوں اور بہتری کی تجاویز دے سکوں۔ ڈیزائن کو بہتر بنا سکوں۔

فزیکل ماڈل بڑے ڈیموں کے پراجیکٹ کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔ بڑے دریاؤں پر بننے والے بیراجوں اور سڑک کے پلوں کے لئے بھی فزیکل ماڈل بنایا جاتا ہے۔ یہ چھ ماہ سے ایک سال پر مشتمل عمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو نندی پور ریسرچ سنٹر کے ریسرچرز اور ماہرین اپنے علم اور تجربہ کو سٹیشن کے کاریگروں کے ذہن اور ہاتھوں کی مہارت سے بروئے کار لاتے ہوئے 200 فٹ کے پلاٹ میں کسی بھی پہاڑی یا میدانی علاقے کے طبعی خدوخال اور زمینی ساخت کو منی ایچر آرٹ کی طرح بنا کر سجا دیتے ہیں تاکہ منصوبے کی زمینی تعمیر سے پہلے اس کی تجرباتی تعمیر کرکے اس کے ڈیزائن کی خوبیوں خامیوں کو جانچا جا سکے۔

ماڈل مکمل ہونے کے بعد اس میں مختلف تجربات کیے جاتے ہیں تاکہ ہر قسم کی سیلابی صورت حال میں ڈیم کے مختلف حصوں کی مضبوطی کو جانچا جاسکے اور اس کے ڈیزائن کی خامیوں کو دور کیا جاسکے۔

نندی پور کا ریسرچ اسٹیشن اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا ریسرچ اسٹیشن ہے۔ مجھے اس طرح کے اسٹیشن جرمنی، ہالینڈ، نیپال اور انڈونیشیا میں دیکھنے کا موقع ملا لیکن تمام اسٹیشن مل کر بھی نندی پور ریسرچ اسٹیشن کے برابر نہیں بنتے۔ ضرورت صرف نندی پور اسٹیشن کو آپ گریڈ کرنے کی ہے اور یہاں کمپیوٹر ماڈلنگ کی سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔

Check Also

Sakoon Ki Talash

By Muhammad Zeashan Butt