Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zafar Iqbal Wattoo/
  4. Cholistan Ke Liye Zair e Zameen Tobey

Cholistan Ke Liye Zair e Zameen Tobey

عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں جب کہ غفلت کے مرتکب نشان عبرت بنا دئیے جاتے ہیں۔ مصر کا صحرائے سینائی ہو، اسرائیل کا صحرائے نقب ہو، چین کا صحرائے گوبی ہو یا پھر پڑوسیوں کا راجستھان، ہر طرف نشانیاں بکھری پڑی ہیں لیکن ہماری عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں کے جلسوں اور قومی لیڈرشپ کے بیانات ہمارے نشانِ عبرت بنائے جانے کا نقیب ہیں جہاں روہی کے پیاسے باسیوں کے لئے کسی پلیٹ فارم پر تسلی کے دو بول بھی نہیں۔

پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 17 فی صد سے زیادہ صحراؤں پر مشتمل ہے جس میں تھل، چولستان، تھر اور خاران شامل ہیں۔ ہر جگہ صورت حال روہی سے ملتی جلتی ہے لیکن کبھی ادھر توجہ نہیں دی گئی۔ آج کل صحرائے چولستان ایک انسانی المئے سے دوچار ہے جہاں کبھی گھگرا اور ہکڑا دریا بہتے تھے لیکن پھر ان کے منہ موڑنے سے ان دریاؤں کے کناروں پر قائم پرانی تہذیب درہم برہم ہو گئی۔ پتہ نہیں یہ موسمیاتی تبدیلی تھی یا کچھ اور؟

بہرحال شمال سے آنے والے برہمائی پانی منہ موڑ گئے اور سات دریاؤں کی سر زمین پانچ تک محدود ہو گئی جو کہ سندھ طاس معاہدے کے بعد عملی طور پر دو دریاؤں کی سر زمین بن کر رہ گئی ہے۔ چولستان کے پیاسے ٹوبوں میں پانی کے ٹینکر ڈلوانے سے دل کو وقتی تسلی تو دی جا سکتی ہے کہ پیاسے انسانوں اور جانوروں تک پانی پہنچ گیا لیکن یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی فاقہ کش انسان تک ایک وقت کا کھانا پہنچانا یا پھر کسی کان میں پھنسے کان کن تک ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے ہوا پہنچانا۔

جب تک دستیاب وسائل اور حالات کے مطابق اس بحران کے کوئی فوری، وسط مدتی اور طویل مدتی حل نہیں ڈھونڈے جاتے یہ ہر سال چلتا رہے گا اور شدید سے شدید تر ہوتا جائے گا۔ چولستان میں پانی کا سارا دارومدار بارش پر ہے اور یہ بارش ہر سال کم ہوتی ہے یا پھر بہت کم۔ تاہم پھر بھی سالانہ اوسطاََ جتنی بارش چولستان میں ہوتی ہے اس سے کہیں کم دنیا کے دوسرے صحراؤں میں ہوتی ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

لیکن وہاں قطراتی نظام آب پاشی بلکہ آنسو نظام آب پاشی تک کی تکنیک اپنا کر پانی کی کمی کو پورا کیا گیا ہے۔ اب ہماری شاہ خرچی ملاحظہ کریں کہ جن ٹوبوں میں پانی کے ٹینکر ڈالے جا رہے ہیں انہیں غور سے دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ ڈالا گیا پانی کتنی جلدی ریتلی زمین میں جذب ہو رہا ہے۔ ہم اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ ان ٹوبوں کے اندر پلاسٹک کی شیٹ یا کوئی پکی مٹی کا لیپ ہی کر دیں تاکہ یہ پانی ضائع نہ ہو۔

پانی پہنچانے والے رضاکاروں اور تنظیموں کے جذبے کو سلام لیکن جیسے ہی یہ کرائسز سوشل میڈیا سے غائب ہوا، یہ ٹوبے پھر خشک رہ جائیں گے۔ لہٰذا جہاں ٹینکرز پہنچائے جا رہے ہیں وہیں ان خطوط پر بھی سوچا جائے کہ مستقبل میں اس بحران سے کیسے بچا جائے؟ پانی کا ایک ایک قطرہ سنبھالنے اور اس کا بہتر سے بہتر استعمال کرنے والی سوچ پر کام کرنا ہو گا۔ چولستان تک پہنچنے والی نہروں سے زائد پانی ان ٹوبوں اور کنڈوں تک پہنچانا ہو گا۔

دریائے سندھ کے زائد سیلابی پانیوں کو چولستان کی طرف موڑنا ہو گا جس کے لئے ایک فریم ورک کچھ دن پہلے کی پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں (سیلابی پانیوں کی چولستان تک روانی)۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم چولستان میں بارشی پانی کو زیر زمین ٹوبوں میں منتقل کرنا ہو گا تاکہ نہ تو یہ پانی دھوپ سے بخارات بن سکے اور نہ یہ زیر زمین ریتلی مٹی میں جذب ہو کر غائب ہو جائے۔

آج کل ایسی جدید تکنیکس آ گئی ہیں جن کی مدد سے بارش کے پانی کے بہاؤ اور ممکنہ نشیبی جگہوں کا اندازہ کرکے زیر زمین ٹوبوں یا ریتلے ٹوبوں کے لئے جگہیں ڈھونڈی جاسکتی ہیں۔ اسرائیل کے صحرائے نقب کی طرز پر اس ٹوبے کے کیچمنٹ کو مٹی ڈال کر نہ صرف فصلیں تیار کی جاسکتی ہیں بلکہ اس سطح کے اوپر بہنے والے بارش کے پانی کو بھی ریت میں جذب ہونے سے بچا کر زیر زمین ٹوبے تک لایا جا سکتا ہے۔

یہ ٹوبا ایک ایسا تالاب ہو گا جس کا سائز بارش سے جمع ہونے والے پانی کی مقدار اور مقامی ضروریات کے مطابق طے کیا جائے گا۔ اس میں سے ریت نکال کر پہلے اس کے فرش پر پکی مٹی کی تہہ اور اطراف پر پکی مٹی کی دیوار بنا دی جائے تاکہ جمع ہونے والا پانی ریتلی زمین میں نہ تو نیچے جائے اور نہ ہی سائڈوں پر لیک ہو سکے۔ اس ٹوبے کو دوبارہ کھردری ریت سے بھر لیا جائے جس کے اندر اپنے حجم کے 50 سے 85 فی صد تک سوراخ ہوتے ہیں جن کے اندر بارش کے موسم میں پانی چلا جائے گا۔

ریت کے اندر کا یہ پانی نہ تو دھوپ سے بھاپ بنے گا اور نہ ہی پکی مٹی کی دیواروں اور تہہ کی وجہ سے نیچے جائے گا اور سب سے اہم بات کہ یہ پانی آلودہ بھی نہیں ہو گا۔ اس کے ساتھ ہینڈ پمپ لگا کر ایک حوض بنا دیا جائے جہاں سے حسب ضرورت انسان اور جانور کے پینے کے لئے پانی نکال لیا جائے۔ پانی کی مقدار اور ضرورت کے مطابق ان ٹوبوں کی تعداد اور سائز متعین کیا جاسکتا ہے۔ نہری اور دریائی علاقوں سے قریب کے ٹوبوں کو سیلابی پانی سے بھی سال میں ایک دو دفعہ بھرا جا سکتا ہے۔

بارش کی صورت حال اور پیٹرن کو دیکھتے ہوئے ان ٹوبوں کا ایک جال بچھایا جا سکتا ہے اور ان کو باہم ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا بھی جا سکتا ہے تاکہ زیادہ استعمال ہونے والی جگہ پر دوسرے ٹوبوں سے پانی زیر زمین پائپوں سے آ سکے۔ اور سب سے اہم بات کہ یہ ٹوبے کم وسائل میں مقامی میٹیرئیل اور مقامی لیبر تیار کر سکتی ہے اور عام ٹوبوں کے مقابلے میں ان کا پانی دوگنا وقت تک استعمال کیا جا سکے گا۔ بات صرف نیک نیتی سے عمل کرنے کی ہے۔

Check Also

Hazrat Ayesha (1)

By Saleem Zaman