Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Iqbal Wattoo
  4. Bulawa

Bulawa

بُلاوہ

دریائے نیل پر نہری نظام کے منصوبے کا ہیڈ آفس خرطوم میں تھا۔ میں اپنے ڈیسک پر بیٹھا کمپیوٹر ماڈل چیک کررہا تھا جب ظہور صاحب نے میرے کمرے میں اینٹری ماری۔ وہ کچھ متذبذب لگ رہے تھے۔ مجھے کہنے لگے کہ دعا کرو بلاوہ آجائے۔ آج سرکاری حج سکیم کی قرعہ اندازی ہے اور میں پچھلے چار پانچ سال سے درخواست دے رہاہوں مگر ٹھُکرا دی جاتی ہے لیکن اس دفعہ میں نے بھی تہیہ کیا ہوا ہے کہ ہر صورت حج پر جانا ہے چاہے کئی گُنا زیادہ خرچ کرکے پرائیویٹ سکیم سے ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

بہرحال اس دفعہ بھی قرعہ اندازی میں ان کے نام کا قرعہ نہ نکل سکا۔ وہ دو تین دن تو کافی پریشان رہے پھر اپنے آپ کو سنبھالا اور متبادل پر کام شروع کردیا۔ تاہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ خود سوڈان بیٹھے تھے اور پرائیویٹ حج آپریٹر ز کو ان کا پاسپورٹ چاہئے تھا جس کے لیے انہیں پاکستان واپس آبا پڑتا اور اتنی لمبی چھٹی دفتر سے نہیں مل سکتی تھی۔

انہوں نے سوڈانی حج کوٹے سے بھی اپلائی کرنے کی کوشش کی مگر کام نہیں بنا۔ شاید ان کا بُلاوہ ابھی نہیں آیا تھا۔ ان کی پریشانی دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ وہ بہت دُکھی نظر آتے اور اُٹھتے بیٹھتے اپنی بدقسمتی کا ذِکر کرتے۔

سوڈان میں ہم ایک جرمن کمپنی کے ساتھ کام کررہے تھے۔ ظہور صاحب ہمارے چیف ڈیزائن انجینئر تھے اور جرمن انہیں دوتین ماہ کی رخصت نہ دیتے۔ جیسے جیسے دن گزر رہے تھے ان کی پریشانی بڑھ رہی تھی۔ ان کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے ایک پاکستانی دوست کو فون کیا جو اس زمانے میں حج عمرہ آپریٹر کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کے ذمے یہ کام لگایا کہ کوئی ایسا انتظام کرو کہ ظہور صاحب کی حج درخواست اور ویزہ وغیرہ اپلائی ہوجائے لیکن پاسپورٹ وہ حج سے صرف ہفتہ دس دن پہلے ہی پاکستان آکر حوالے کریں گے اس سے پہلے ان کا پاکستان آنا ممکن نہیں۔

چونکہ اس زمانے سمارٹ فون اور واٹس ایپ وغیرہ کا رجحان نہیں تھا اس لئے ہماری زیادہ تر بات فون پر ہوتی۔ میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے دوست کو فون پر فالو کررہا تھا اور ظہور صاحب کو حوصلہ دیتا کہ اللہ تعالیٰ ضرور کوئی سبیل بنائے گا۔ دن گزرتے جارہے تھے۔ اس سال (2012) میں حکومت نے پرائیویٹ ٹور آپریٹر ز کا کوٹہ بھی نصف کم کردیا تھا جس کی وجہ سے مسئلہ اور گھمبیر ہوگیا لیکن ہماری کوششیں جاری تھیں۔

حج جب قریب ہی تھا تو ایک دن پاکستان سے اسی دوست کا فون آیا کہ ایک ٹور آپریٹر کے پاس دوتین سیٹیں اچانک خالی ہوئی ہیں وہ سرکاری پیکیج سے تین چار گنا زیادہ پیسے مانگ رہا ہے اگر ظہور صاحب راضی ہیں تو ابھی مجھے کنفرم کریں میں ان کا بندوبست کروادیتا ہوں۔ میں نے انہیں پاسپورٹ والی شرط یاد کروائی انہوں نے حامی بھرلی ظہور صاحب سے بات کی تو وہ تو ہر قیمت پر اس سال حج کرنے پر تُلے ہوئے تھے لہٰذا چند گھنٹوں میں ہی معاملات طے پاگئے۔ دوست کے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کیے، ظہور صاحب کے پاسپورٹ کی کاپی بھیجی اور رات کے کھانے پر ظہور صاحب چہک رہے تھے ان کا بلاوہ آگیا تھا۔ ہم ان کی خوشی پر خوش تھے۔

رات سونے کے لیے جب میں اپنے بستر پر لیٹا تو بھی یہی خیالات ذہن میں چل رہے تھے کہ اچانک خیال آیا کہ یار میں کتنا لاپرواہ ہوں کہ دوسروں کے لیے اتنی کوشش کررہا ہوں اور اپنا خیال تک نہیں آیا کہ میں بھی حج کرلوں۔ شاید میرا بُلاوہ ابھی نہیں آیا؟ یہ خیال آتے ہی دل کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہوگیئں۔ خیالات کی یلغار ہوگئی اور نیند آنکھوں سے دور بھاگ گئی۔ میں نے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنا شروع کردیا۔ دفتر گھر کی کئی مصروفیات یاد آگیں لیکن کیا میرا بُلاوہ ابھی نہیں آیا تھا جو میں اپنے ہاتھ سے دوسروں کو حج پر بھجوا کر خود اس دن ڈیزائن آفس بیٹھا ہوں گا۔ انہی خیالات میں ایک قطعی فیصلہ کرتے ہوئے میں نے پاکستان میں دوست کا فون ملا دیا۔

میرے دوست کو رات کے اس پہر میرے اس اچانک فیصلے سے کی پہلے تو سمجھ نہیں آئی لیکن میرے زور دینے پر اس نے حامی بھر لی کہ وہ صبح اُٹھ کر پہلا کام ہی یہی کرے گا لیکن وقت گزر گیا ہے شاید اب تک سیٹیں ختم ہو چکی ہوں۔ فون بند کرنے کے بعد میں دعاوں میں لگ گیا اور خُدا خُدا کرکے صبح ہوئی اور میں صبح ہوتے ہی دوست کے سر پر سوار ہوگیا۔ وہ لمحہ انتہائی مسرت آمیز تھا جب اس نے دوپہر کو بتایا کہ آخری سیٹ پر میری بھی درخواست جمع ہوگئی ہے۔ میں نے پیسے ٹرانسفر کیے پاسپورٹ کی کاپی جمع کرائی۔ میرا بُلاوہ بھی آگیا تھا۔

اکتوبر 2012 کے دوسرے ہفتے کی ایک مقدس صبح ہم دفتر کے چار دوست جدہ ایئرپورٹ پر احرام باندھے حج کے لیے اُتر رہے تھے۔ انجینیئرز کا یہ سفرِ حج کس طرح منفرد اور یادگار تھا۔ اس پر انشااللہ کل لکھوں گا۔

Check Also

Pyase Be Zuban Tawajah Chahte Hain

By Javed Ayaz Khan