Sardiyoun Ki Chutiyan Hamari Taraf
سردیوں کی چھٹیاں ہماری طرف
سردیوں کی چھٹیاں ہماری طرف ہر سال نہایت خاموشی سے آتی ہیں، مگر آتے ہی گھروں کے معمولات، نظام الاوقات اور حتیٰ کہ سوچنے سمجھنے کے انداز کو بھی بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی بچوں کے چہروں پر ایسی روشنی پھیل جاتی ہے جیسے ابھی ابھی کسی بڑی خوشخبری کا اعلان ہوا ہو۔ دوسری طرف والدین اس خوشی میں شامل تو ہوتے ہیں، مگر دل ہی دل میں آنے والے دنوں کی منصوبہ بندی بھی شروع کر دیتے ہیں۔
چھٹیوں کا سب سے پہلا وار صبح کے معمول پر پڑتا ہے۔ اب نہ الارم کی ضرورت رہتی ہے اور نہ جلدی اٹھنے کی مجبوری۔ بچے دوپہر کے قریب آنکھ کھولتے ہیں اور پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ "آج ناشتہ کیا ہے؟" حالانکہ اس وقت تک ناشتہ لنچ میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ مائیں کنفیوژن کا شکار رہتی ہیں کہ کھانا گرم کریں یا بچوں کی نیند۔
ہماری طرف سردیوں میں کمبل اور رضائیاں محض لحاف نہیں رہتیں بلکہ جذباتی سہارا بن جاتی ہیں۔ ایک بار اگر کوئی کمبل میں گھس جائے تو اسے باہر نکالنے کے لیے باقاعدہ قائل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہیٹر ایسے فخر سے جلایا جاتا ہے جیسے ہم کسی برفانی وادی کے مکین ہوں، حالانکہ باہر دھوپ پوری آب و تاب سے موجود ہوتی ہے۔
سردیوں کی چھٹیاں کھانے پینے کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ چائے اس موسم کی غیر اعلانیہ قومی مشروب بن جاتی ہے۔ ہر کچھ دیر بعد ایک ہی سوال گونجتا ہے: "چائے بن رہی ہے؟" مونگ پھلی، پکوڑے اور سوپ کی بہار آ جاتی ہے اور وزن بڑھنے کا خیال مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کا حساب کتاب ہمیشہ بہار کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
البتہ چھٹیوں میں ہوم ورک ایک ایسا موضوع ہے جس پر سب خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بچوں کا ماننا ہوتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، جبکہ والدین جانتے ہیں کہ یہ "بہت وقت" آخری دن اچانک ختم ہو جائے گا۔ پھر رات گئے کاپیوں، کتابوں اور والدین کے صبر کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
یوں سردیوں کی چھٹیاں ہماری طرف وقتی سستی، گھریلو محفلیں، قہقہے اور یادوں کا سرمایہ لے کر آتی ہیں۔ یہ چھٹیاں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی انہی سادہ لمحات میں پوشیدہ ہے، جو کمبل، چائے اور اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر گزارے جائیں۔

