Tuesday, 20 April 2021
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Umar Farooq/
  4. Librarian Abaad Kaeni Hongi

Librarian Abaad Kaeni Hongi

حالت یہ کہ کتابوں سے منہ موڑ کر ہم پوری دنیا میں "یتیمی" کا شکار ہیں، نہ کوئی ہمارے سر پہ ہاتھ رکھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی ہمارے ساتھ چلنے کو تیار، پوری دنیا ہمیں نالائق سمجھتی ہے، ہماری لائبریریاں زبوں حالی کا شکار ہیں، ملک میں آدھے سے زیادہ آبادی پڑھنا لکھنا نہیں جانتی، لوگوں کے دماغ منجمد ہو چکے ہیں، دوسروں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا ہر کوئی اپنا فرض سمجھتا ہے، لوگوں کو کتابیں خریدنا جرم لگتا ہے، صورت حال کس قدر خوفناک اور شرمناک ہے اس کا اندازہ ISBN's (انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ رجسٹر نمبر) سے کرلیجئے، 2013(ایک سال میں) میں چائنہ کے اندر چار لاکھ پچاس ہزار کتابیں چھاپی گئیں، 2019(ایک سال میں) کے آخر میں یہی تعداد پانچ لاکھ بیس ہزار تھی، چائنہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں امریکہ میں شائع ہوئیں جو 2017 میں دو ملین اور 2019 کے آخر تک چار ملین تھیں، اس کے بعد سب سے زیادہ کتابیں فرانس، انڈیا، برازیل، اسپین، آسٹریلیا اور ترکی میں شائع ہوئیں جبکہ مملکت خداداد میں 2013 کے اندر 3500 کتابیں شائع کی گئیں اور بڑی محنت سے ہم نے یہ تعداد بھی کم کردی، ہمارے پبلیشرز کتابیں چھاپنے سے ڈرتے ہیں، لکھاری کو کتاب چھپوانے کے لیے بھی اپنی جیب سے پیسے دینے پڑتے ہیں، اپنے لکھے سے گزر بسر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پاکستان میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے "لاہوریے لکھتے ہیں، لاہوریے چھاپتے ہیں اور لاہوریے ہی اپنی کتابیں خود پڑھتے ہیں، چناں چہ پورے ملک میں جہالت کے انبار لگے ہوئے ہیں۔

آخر ہم کتابوں سے دور کیوں ہوگئے۔۔؟ کیا ہم شروع سے ہی ایسے تھے۔۔۔؟ جی نہیں! آج سے بارہ سو سال قبل ایسے نہیں تھا، ہمارے دن کتابوں کے سائے میں ڈھلتے اور ہم کتابوں کی آغوش میں بیدار ہوا کرتے تھے، ہمارے حکمرانوں، بادشاہوں، وزیروں، مشیروں اور رعایا کی اپنی ذاتی لائبریری ہوا کرتی تھیں، ہم نے جس طرف رخ کیا وہاں اپنی قابلیت اپنے علم و ہنر کے جھنڈے گاڑ دیے، ہم نے دنیا کو آنکھ کی ہیئت سے روشناس کروایا، آلات جراحی ایجاد کیے، علم نجوم، علم کیمیا، علم طب، اور فلسفے کو بام عروج تک پہنچایا، ہماری لائبریریوں کی کیٹلاگ پچاس پچاس جلدوں پر مشتمل ہوا کرتے تھے، بغداد، غرناطہ، قرطبہ اور بخارا پوری دنیا میں علمی مراکز ہوا کرتے تھے، ہم یونانی کتابوں کا دھڑا دھڑ مقامی زبانوں میں ترجمہ کررہے تھے اور یورپ اپنے ناموں کے ہجو سے الجھا ہوا تھا لیکن پھر ہم کتابوں اور لائبریریوں سے دور ہوگئے اور آج جن ممالک میں سب سے زیادہ کتابیں لکھی، پڑھی اور شائع کی جاتی ہیں وہ آپ کو اخلاقی، مالی، اور تعلیمی لحاظ سے آگے بھی دکھائی دیں گے، وہاں پر عزت، شہرت، دولت اور پیسہ بھی ہے، وہاں کے لوگ پرسکون اور خوشحال زندگی بھی گزار رہے ہیں اور جہاں کتابیں شیلفوں کی زینت بن کر رہ گئیں، ان ممالک میں دنیا جہاں کی مصیبتوں، بداخلاقیوں اور ضلالتوں کے ڈھیر ہیں، کتابوں کے ساتھ جو سلوک ہم نے کرنا تھا سو تو کیا مگر آپ لائبریریوں کی حالت بھی ملاحظہ کرلیجئے: مجھے چند دن پہلے گوجرانوالہ کی معروف لائبریری شیخ دین محمد کا وزٹ کرنے کا موقع ملا، لائبریری میں دھول اڑ رہی تھی، ریکس کا برا حال تھا، بارش کی صورت میں چھت سے پانی ٹپکنے لگتا ہے، کتابیں دھول سے اٹی پڑی تھیں جبکہ لائبریری کے سامنے ٹھیلے اور چھابڑی والوں نے ڈیرہ جما رکھا تھا۔

ظاہری سی بات ہے جب ملک میں 75 فیصد آبادی پڑھنا لکھنا ہی نہیں جانتی وہاں لائبریریوں کا یہی حال ہوگا، ڈائریکٹری آف لائبریری کے مطابق پورے ملک میں تین سو پبلک لائبریریاں ہیں، وہ بھی برباد، ویران اور بدحال، دنیا میں سب سے زیادہ پبلک لائبریریاں چائنہ میں ہیں جن کی تعداد 52 ہزار ہے، اس کے بعد روس 40000 اور انڈیا میں 30000 پبلک لائبریریاں ہیں، کمال کی بات یہ کہ دنیا کی سب سے عقلمندی اور ہوشیار قوم سے 300 لائبریریاں بھی سنبھالی نہیں جاتیں، کتابیں پڑھنے کے حوالے سے ہمارے اور دنیا کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے آپ صرف اس ایک بات سے اندازہ کرلیجئے، ہماری نیشنل لائبریری میں تین لاکھ کتابیں، 178 افراد پر مشتمل اسٹاف اور 60 ملین روپے سالانہ خرچہ ہے جبکہ امریکہ کے ایک شہر واشنگٹن ڈی سی کی "دی لائبریری آف کانگریس" نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی سب سے بڑی لائبریری ہے، اس میں 38 ملین کتابیں، 5.5 ملین نقشے، 8.1 ملین مختلف شیٹوں اور میوزک کے ٹکڑے جبکہ 70ملین مینوسکرپٹ ہیں، لائبریری کا سالانہ بجٹ 684.04 ملین ڈالر ہے جبکہ واشنگٹن میں اس سے ملتی جلتی 26 مختلف لائبریریاں اور بھی ہیں، نہ ہم کتابیں پڑھتے ہیں، نہ ہم نئی لائبریریاں بنا پاتے ہیں اور نہ ہی ہم سے پرانی لائبریریاں سنبھالی جاتی ہیں چناں چہ پوری دنیا ہمیں جوتے مار رہی ہے، ہم جس وقت کتابوں سے جڑے تھے تب پوری دنیا کو لیڈ کررہے تھے، ہم نے کتابوں سے منہ موڑا تو پوری دنیا میں رسوا ٹھہرے، آج جو ملک کتابوں سے جڑے ہیں جہاں علم کی مشعلیں روشن ہیں وہ دنیا کو چلا رہے ہیں، دنیا میں جب جب کسی قوم نے سر اٹھایا کتابوں اور علم سے جڑ کر سر اٹھایا اور یہ یاد رکھیں ہم جب بھی آگے بڑھیں گے ہم جب بھی اپنی ترقی کا سفر شروع کریں گے اپنی لائبریریاں آباد اور کتابوں سے رشتہ جوڑ کر ہی کریں گے۔

Check Also

Naye Daur Ke Naye Ghulam

By Zahir Akhter Bedi