Tuesday, 20 April 2021
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Umar Farooq/
  4. Kutub Beeni Par Aik Baithak

Kutub Beeni Par Aik Baithak

عتیق انور راجہ صاحب سے میری پہلی ملاقات لاہور کے سفر کے دوران ہوئی، میں ملاقات سے پہلے بھی راجہ صاحب سے آشنا تھا، راجہ صاحب کے کالمز میری نظروں سے گزرتے رہتے تھے لیکن اصل تعارف سفر کے دوران ہوا، مجھے پتا چلا: پنجاب، پنجابی کلچر اور پنجابی زبان راجہ صاحب میں رچی بسی ہے، یہ دلوں کو جوڑنے اور لوگوں کو ایک ساتھ بٹھانے کا ہنر بھی جانتے ہیں، انہیں خود غرضی، مفادات اور اناؤں کے اس زمانے میں محبتیں بانٹنا اور محبتیں لٹانا بھی آتا ہے، راجہ صاحب نوائے وقت میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں، سوشل ایکٹیوسٹ اور گوجرانوالہ کے متحرک شخص ہیں، "سائبان ویلفیئر سوسائٹی" کے بانی و سربراہ ہیں، گزشتہ دنوں سائبان کے زیراہتمام کتب بینی پر ایک ادبی بیٹھک کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی لیکن حیرت انگیز طور پر سب کا ادب سے دلی لگاؤ اور دلچسپی تھی۔

یہ ایک حقیقت ہے "ہمارے معاشرے میں کتابیں پڑھنے کا رجحان خوفناک حد تک کم ہوتا چلا جا رہا ہے" اور یہ بھی ایک حقیقت ہے "جن قوموں نے کتابوں کا دامن تھامے رکھا اور تھامے ہوئی ہیں وہ ہمیشہ تاریخ کے دھارے میں دوسروں سے آگے رہیں اور جہاں کتابوں کو ردی، چھان بورے اور پکوڑوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا وہاں جہالت، کم فہمی، کم عقلی، ضلالت اور گمراہیوں نے ڈیرے ڈال لیے" آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ خود دنیا کی ان قوموں کی فہرست نکال کر دیکھ لیجئے جہاں سب سے زیادہ کتاب پڑھیں اور شائع کی جاتی ہیں آپ کو وہ قومیں اقتصادی، مالی اور اخلاقی لحاظ سے کتابیں نہ پڑھنے والی قوموں سے ہزار گنا آگے دکھائی دیں گی۔ ہمارے یہاں کیا صورتحال ہے آپ اس کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگا لیجئے مجھے چند دن پہلے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹوریل پیج کے انچارج صاحب کہنے لگے "ملک میں مطالعہ کی صورتحال یہ ہے کہ اخبار میں چھپنے والے کالمز صرف میں اور خود کالم نگار پڑتا ہے" اور یہی وہ خوفناک صورتحال ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے راجہ صاحب نے عثمان اشرف صاحب کے مشورے پر اس بیٹھک کا اہتمام کیا، بیٹھک کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ ہر ایک کو کتب بینی پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر رائے دینے کا موقع بھی دیا گیا، راجہ صاحب کا کہنا تھا "ہم نے ہمیشہ سیکھنے اور نئی نئی چیزوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ان کی مخالفت کی ہے، ہم نے کبھی تصویر، کبھی مائیک، کبھی سوشل میڈیا اور کبھی پرنٹنگ پریس کو برا بھلا کہا اور کبھی ٹیکنالوجی کو شیطانی اور دجالی ہتھکنڈوں سے منسوب کرتے رہے، ہم کیونکہ کتابیں نہیں پڑھتے چناں چہ ہر نئی ایجاد کی جاہلانہ حد تک ڈھٹائی کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں، حکمران تعلیم کی اہمیت سے ناآشنا ہیں، لائبریریاں دم توڑتی جارہی ہیں، سکول کالجز، یونیورسٹیاں سائنسدان، فلاسفر، موجد، اور بڑے بڑے دماغ پیدا کرنے کے بجائے "نوکر" پیدا کررہی ہیں، پورا معاشرہ اپنے دماغوں کی آبیاری کرنے کے بجائے انہیں بدبودار گٹڑوں میں دھکیل رہا ہے۔

باقی دوستوں نے بھی اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا، عثمان اشرف صاحب کا خیال تھا "ہمارا دماغ ہر روز 65 ہزار سوالات جنریٹ کرتا ہے اگر دماغ کو ان سوالات کے جواب نہ ملیں تو یہ بری طرح ابلنے لگتا ہے جو بعد میں ڈپریشن، اینگزائٹی، سٹریس اور پریشانی کا سبب بنتا ہے، آپ چاہیں تو پورے معاشرے کی صورتحال دیکھ لیں، سہیل بشیر صاحب کا ماننا تھا "دنیا میں بڑے دماغ وہ تھے جو کتابوں سے جڑے رہے، انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی آگے وہی ہوگا جو نئی نئی چیزیں سیکھنے اور مطالعہ کرنے کا شوقین ہوگا" عرفانہ صاحبہ نے اپنی باری آنے پر کہا "ہمارے بچپن میں والدین کتابیں پڑھتے بھی تھے اور اپنے بچوں کو نئی نئی کتابیں، رسالے اور ڈائجسٹ خرید کر بھی دیتے تھے اس سے ان کی نا صرف ذہنی نشوونما ہوتی تھی بلکہ ان میں نئی چیزیں سیکھنے کا شوق بھی پیدا ہوتا تھا" اسی طرح بعض دوستوں کا خیال تھا "ہمیں مطالعہ کرنے کی ابتداء قرآن کریم سے کرنی چاہیے اور قرآن مجید کو سمجھ سمجھ کر پڑھنا چاہیے"۔

آخر میں ڈاکٹر محمد اکرم ورک صاحب کا کہنا تھا "ہم جب تک کتابوں سے جڑے رہے تب تک دنیا ہمارے اشاروں پر چلتی رہی لیکن جس دن ہم نے کتابوں کو پیٹھ دکھانا شروع کر دی کشکول اور در در کی ٹھوکریں ہمارا مقدر بن گئیں، بیٹھک میں اساتذہ کرام کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تاکہ وہ طلباء میں کتب بینی کا شوق پیدا کرسکیں، لائبریریاں آباد کی جائیں، کتاب اور کتاب دوستی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنایا جائے، سب کا متفقہ خیال تھا "مساجد اور علماء کرام بھی اس معاملے میں خصوصی کردار ادا کر سکتے ہیں " ہم سب کو تہیہ کرنا ہوگا "کتب بینی کو فروغ دینے کے لیے ہم اپنی اپنی سطح پر جو کچھ کر سکتے ہیں، جتنا بھی کردار ادا کر سکتے ہیں، ہم کریں گے" ہم نے اگر اب بھی اپنی لائبریریاں آباد نہ کیں، اپنی نسلوں میں کتابوں کا شوق پیدا نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ہم تاریخ میں اپنا آپ ڈھونڈتے پھریں گے مگر کوئی بتانے والا نہیں ہوگا۔

Check Also

Insaf Hone To Dain

By Rasul Bakhsh Rais