Tuesday, 20 April 2021
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Umar Farooq/
  4. Kaash

Kaash

برونی ویئر آسٹریلین نرس اور مصنفہ ہیں، یہ مصنفہ بننے سے پہلے زندگی کی آخری سٹیج پر موجود لوگوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، ان کا زیادہ تر وقت ان لوگوں کے ساتھ گزرتا تھا، ان میں زیادہ تعداد بوڑھے مرد وحضرات کی تھی، مریضوں کی دیکھ بھال کرتے کرتے ان کے درمیان اجنبیت کی دیوار ڈہ گئیں اور یہ ان سے خوش گپیاں کرنے لگیں، یہ ان سے ان کی گزشتہ زندگی سے متعلق دریافت کرتیں، ان سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھتی جو وہ اپنی زندگی میں کرنا چاہتے تھے، ان میں سے اکثر لوگ جو جواب دیتے اس میں "حسرت وندامت" کا مادہ غالب ہوتا تھا، حیرت انگیز طور پر یہ چیزیں بھی ایک جیسی ہوتی تھی، برونی ویئر نے ان چیزوں کو اکٹھا کیا اور 2009 میں ایک مضمون کی شکل میں شائع کر دیا، یہ مضمون پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر پڑھا اور سراہا گیا، مریضوں میں سے چند مریض برونی ویئر کے دل کے بہت قریب تھے، انھوں نے مضمون کو کتابی شکل میں ڈھالنے کا مشورہ دیا اور یوں 2012 میں "The Top Five Regrets of the Dying" کے نام سے کتاب منظر عام پر آگئی، یہ کتاب پوری دنیا میں پڑھی گئی، یہ آج بھی بیسٹ سیلر ہے، اس کا 32 مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، اس میں مرنے والوں کا نوحہ ہے، اس میں مرنے والوں کی حسرتیں ہیں، ادھوری خواہشیں، پچھتاوے اور غم ہیں۔

وہ چیزیں کیا ہے؟ برونی ویئر لکھتی ہیں مرنے والوں کا سب سے پہلا اور بڑا پچھتاوا یہ تھا "کاش میں اپنی زندگی اپنے انداز سے جیتا نا کہ وہ زندگی گزارتا جیسی لوگ چاہتے تھے" یہ ایک حقیقت ہے ہم میں سے بیشتر لوگ وہ زندگی جی رہے ہوتے ہیں جو ہماری اپنی نہیں ہوتی، جس پر ہمارا خود کا اختیار نہیں ہوتا، ہم اپنے معاشرے اور لوگوں کی عطا کردہ زندگیاں گزار رہے ہوتے ہیں، ہمیں شریکے کا ڈر ہوتا ہے، ہم برادریوں میں جکڑے ہوتے ہیں، ان سے باہر نکلیں تو ہمارے سامنے یہ الفاظ ہوتے ہیں "لوگ کیا کہیں گے" ہم کچھ اور کرنے کے متمنی ہوتے ہیں جبکہ ہمارے بڑے ہم سے کسی اور چیز کی خواہش کا اظہار کر دیتے ہیں، یہ سب کرتے کرتے ہم اس اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں کہ ایک روز زور سے "کاش" نکلتا ہے اور موت ہمیں گلے لگا لیتی ہے، آرنلڈ شیوارزنگر کے والدین چاہتے تھے کہ یہ آسٹریا میں رہ کر ایک نارمل زندگی گزارے مگر یہ بڑے خواب دیکھتا تھا، اس نے اپنے انداز سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور پھر کمال کردیا، یہ آج بھی کہتا ہے میری زندگی کے دو اصول ہیں "اپنی فطرت سے مطابقت رکھتے ہوئے بامقصد زندگی گزارو اور لوگوں کی آوازوں پر کبھی دھیان نہ دو" لہذا زندگی ویسی ہی گزاریں جیسے آپ ہیں نا کہ ویسی جیسی لوگ چاہتے ہیں۔

"کاش میں زیادہ کام نہ کرتا" برونی ویئر کہتی ہیں "یہ لوگ بھری آنکھوں سے کہتے تھے کاش ہم اتنا زیادہ کام نہ کرتے، ہم نے تھوڑا ٹائم اپنے بچوں کے لیے بھی مختص کیا ہوتا، ان کی گالوں پر بوسے دیے ہوتے، اپنی بیوی، رشتہ دار، اپنے والدین کو ٹائم دیا ہوتا، ہم کام میں ایسے پھنسے کہ جو لوگ ہماری زندگی کا اصل اثاثہ تھے ان سے ہی دور ہوگئے، ہم نے نا جی بھر کر کھانے کھائے اور نا ہی قدرت کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوئے، ہم ساری عمر بہتر زندگی کی خاطر کام کرتے رہے مگر جب اس سے لطف اندوز ہونے کا وقت آیا "موت" نے دروازے پر دستک دے دی، کاش ہمیں بروقت پتا چل جاتا "ہم نے صرف کام ہی نہیں کرنا بلکہ کام کے ساتھ ساتھ قدرت کی نعمتوں سے بھی لطف اندوز ہونا ہے"۔

برونی ویئر کہتی ہیں، یہ لوگ کہتے تھے "کاش ہم نے اپنی زندگی میں اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہوتا، ہم بلا جھجک اپنی نفرت کا اظہار کردیتے تھے مگر تعریف کے معاملے میں بخل سے کام لیتے تھے" آپ لوگوں کو بتائیں "اگر کسی کی تعریف کرنے کا موقع ملے تو دل کھول کر اس کی تعریف کریں، کسی سے محبت ہے تو اس کا کھل کر اظہار کردیں، کسی کو تھپکی دے دیں، کسی کو سینے سے لگالیں مگر چپ نہ رہیں، یہ بڑی زیادتی ہوگی کہ آپ نفرت کا تو بے باکی سے اظہار کردیں مگر پاکیزہ جذبات کو سینے میں دبائے اس دنیا سے رخصت ہوجائیں۔

چوتھی چیز جو بیان کی گئی وہ یہ تھی "کاش ہم نے اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم رکھا ہوتا" برونی لکھتی ہیں یہ لوگ مجھ سے کہتے تھے، ہم سے وعدہ کرو کہ تم لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچاؤ گی، لوگو اپنی دوستی خراب نا کر بیٹھنا، اپنی اناؤں کو اپنی دوستیوں پر کبھی ترجیح نہ دینا، انھیں قربان کردینا، زندگی کی بہاریں، زندگی کے رنگ دوستوں سے قائم ہیں، یہ موج مستیاں ان کی مرہون منت ہیں، اپنی دوستیاں خراب نہ کرنا، دوست بنالو تو پھر اس کی برائی کو بھی قبول کرلینا، اس کے تلخ لہجے کو بھی برداشت کرجانا لیکن دوست بچالینا، بے شمار لوگوں میں سے چند ایک لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی قربت آپ کو اچھی محسوس ہوتی ہے کیوں؟ کیوں کہ یہ دل کو چھوجاتے ہیں اور دل کے رشتوں کی خوبصورتی ان کی سلامتی میں ہے۔

آخری پچھتاوا جو مرنے والوں کی زبان پر تھا "کاش ہم نے اپنے آپ کو خوش رہنے دیا ہوتا" ہم اپنی ہی حماقتوں سے خوشیوں کا ستیاناس کردیتے تھے، ہم ساری عمر بلاوجہ کے اندیشوں میں گھرے رہے، منفی سوچیں ہمیشہ ہمارے دماغوں پر مسلط رہتی تھیں، ہم خوشی کے لمحات کو ترستے رہتے تھے مگر جب ہمیں یہ لمحہ نصیب ہوتا تھا ہم اس کا بھی عاشورہ بنا دیتے تھے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے"ہم اپنی خوشیوں کے بذات خود قاتل ہوتے ہیں، ہم اگر چاہیں تو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو انجوائے کر سکتے ہیں، ہم جتنا مشکل اپنی زندگی کو ڈر، وسوسوں، وہموں اور اندیشوں میں گھیر کر بنالیتے ہیں اس سے زیادہ مطمئن خود کو ان سے آزاد کرکہ بناسکتے ہیں، میری آپ سے درخواست ہے آپ یہ فیصلہ کرلیں "کل میں جب بستر مرگ پر پڑا ہوں گا، مجھے کوئی غم، کوئی پچھتاوا، کوئی حسرت نہیں ہوگی، موت میرے دروازے پر دستک دے گی اور میں مسکرا کر اسے گلے لگالوں گا۔

Check Also

Roti Nahi To Sona Bhi Mitti

By Farooq Adil