Fitrat Ya Tarbiat?
فطرت یا تربیت؟

دو جڑواں بچے ایک ہی ماں کے پیٹ سے، ایک ہی گھر میں پلے، ایک ڈاکٹر بنا، دوسرا جیل میں ہے۔ ایک ہی ڈی این اے، ایک ہی ماحول، ایک ہی والدین پھر یہ فرق کیوں؟
یہ سوال نفسیات کی سب سے پرانی اور سب سے گرم بحث کا مرکز ہے۔ کیا ہم وہ ہیں جو ہمارے جین ہمیں بناتے ہیں؟ یا ہم وہ ہیں جو زندگی نے ہمیں بنایا؟ کیا آپ کی شخصیت آپ کی پیدائش سے پہلے لکھ دی گئی تھی یا یہ آپ کے آس پاس کے لوگوں، تجربات اور حالات نے بنائی؟ ماہرِین نفسیات اسے "فطرت بمقابلہ تربیت" کی بحث کہتے ہیں اور یہ بحث آج بھی طے نہیں ہوئی۔ آج ہم دونوں طرف کی دلیلیں سنیں گے اور آپ خود فیصلہ کریں گے کہ صحیح کون ہے اور مضمون کے آخر میں ہمیں بتائیں گے کہ آپ کی زندگی کو کس نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ آپ کے جینز نے یا آپ کے ماحول نے؟
1979 میں ایک واقعہ ہیش آیا جو سائنس کی دنیا میں آج بھی مشہور ہے۔ جم لیوس اور جم سپرینگر دو بھائی جنہیں پیدائش کے فوراً بعد الگ الگ گھرانوں میں دے دیا گیا تھا۔ جب 39 سال بعد ملے یہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ دوسرا بھائی موجود ہے۔ یہ دونوں جب ملے تو جو انکشافات ہوئے وہ ماہرین کو بھی حیران کر گئے: دونوں کا نام جم تھا۔ دونوں نے اپنے کتے کا نام "ٹوائی" رکھا تھا۔ دونوں نے اپنی بیوی کا نام لنڈا رکھا تھا۔ دونوں کو لکڑی کا کام پسند تھا۔ دونوں گاڑیاں چلاتے وقت ناخن چباتے تھے اور دونوں کو بالکل ایک ہی قسم کا سردرد ہوتا تھا۔ الگ الگ ماحول، الگ الگ گھر، الگ الگ زندگیاں مگر ایک ہی جیسی عادتیں، ایک ہی پسند، ایک ہی جیسے رویے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ یہ جینیات کا کرشمہ تھا۔ ہزاروں جڑواں بچوں پر کیے گئے پچاس سال کے تحقیقی جائزے بتاتے ہیں کہ ہماری شخصیت کی خصوصیات ذہانت، جذبات پر قابو، میل جول کی صلاحیت ان سب میں جینیات کا حصہ تقریباً پچاس فیصد ہے۔ ڈپریشن کا خطرہ؟ چالیس سے پچاس فیصد جینیاتی ہوتا ہے۔ شیزوفرینیا کا خطرہ؟ اسّی فیصد۔ آپ کی ذہانت کا پیمانہ؟
تحقیق بتاتی ہے کہ اس میں بھی پچاس سے ستّر فیصد حصہ جینیات کا ہے۔ حیاتیات اس سے بھی آگے جاتی ہے۔ آپ کے دماغ میں ڈوپامین کے جذب ہونے کا طریقہ، سیروٹونن کی سطح، امیگڈالا کی حساسیت یہ سب پیدائش سے پہلے طے ہو جاتے ہیں۔ جس بچے کا دماغ زیادہ حساس ہے وہ ایک ہی واقعے سے نفسیاتی صدمہ اٹھا لے گا جس بچے کا دماغ کم حساس ہے وہ وہی واقعہ آسانی سے بھول جائے گا۔ ایک ہی کمرے میں، ایک ہی واقعے کا سامنا مگر دو بالکل مختلف نتائج۔ کیوں؟ کیونکہ جسم مختلف تھا، دماغ مختلف تھا، جین مختلف تھے۔
لیکن رکیے۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے اصل موڑ آتا ہے۔
1993 میں ہالینڈ کے ایک خاندان کی کہانی سامنے آئی۔ اس خاندان کے مردوں میں نسل در نسل انتہائی جارحانہ رویہ کا رواج تھا۔ جرائم، تشدد، بے قابو غصہ۔ جینیاتی تحقیق نے بتایا کہ ان سب میں ایم اے، او اے جین کی ایک خاص قسم تھی جسے بعد میں بعض لوگ "جارحیت کا جین" کہنے لگے۔ خبریں پھیل گئیں: کہ "سائنسدانوں نے جرم کا جین دریافت کر لیا ہے!" لیکن پھر تحقیق نے الگ موڑ لیا، بات آگے بڑھی اور ایک اہم بات سامنے آئی: یہی جین دنیا میں لاکھوں لوگوں میں موجود ہے اور وہ سب جارح نہیں ہیں۔ جارحیت تب آئی جب یہ جین بچپن کے صدمے کے ساتھ ملا۔ بچپن میں تشدد دیکھنا، بے توجہی، غربت۔ ان لوگوں میں جین تھا مگر جین اکیلا کافی نہیں تھا۔ ماحول نے اسے جگایا تھا۔ یہی "ایپی جینیٹکس" کا معجزہ ہے ایک ایسی سائنس جس نے فطرت اور تربیت کی پوری بحث پلٹ دی۔
ایپی جینیٹکس کہتی ہے: ڈی این اے ہمارے وجود کو بتاتا ہے کہ ٹشوز اور خلیے کیسے بنیں گے اورکیسے کام کریں گے اور یہ کہ ہم کیسے دکھیں گے مگر ڈی این اے کے کوڈ کی کون سی لائن پڑھی جائے گی، کون سی روک دی جائے گی یہ ماحول طے کرتا ہے۔ ایک بچہ جس نے بچپن میں مسلسل تناؤ دیکھا۔ اس کے جینز میں سچ میں کیمیائی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔ ڈی این اے پر مخصوص مادے جُڑ جاتے ہیں جو کچھ جینز کو بند اور کچھ کو کھلا رکھتے ہیں اور یہ تبدیلیاں اگلی نسل کو بھی منتقل ہو سکتی ہیں۔ یعنی آپ کی دادی کا صدمہ آپ کے جسم میں لکھا ہو سکتا ہے اور یہ "فطرت" نہیں، تربیت اور ماحول کا اثر ہے۔
اور دماغ؟ سائنس دان اسے "نیورو پلاسٹیسٹی" کہتے ہیں یعنی دماغ بدل سکتا ہے۔ یہ بات اب ثابت شدہ ہے کہ: لندن کے ٹیکسی ڈرائیور جو سالوں تک پیچیدہ سڑکیں یاد کرتے ہیں ان کے دماغ کا یادداشت والا حصہ جسمانی طور پر بڑا ہو جاتا ہے۔ ایم آر آئی میں نظر آنے والا یہ فرق جنم سے ایسا نہیں تھا۔ ان ڈرائیوروں کے دماغ کے اس مخصوص حصے میں تبدیلی روز مرہ کے تجربات کا نتیجہ تھی۔ نفسیاتی علاج بھی انھیں اصولوں پر کام کرتے ہیں؟ دو درجن سے زائد ایم آر آئی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ صرف تھیراپیز کے ذریعے لوگوں کے خیالات بدلنے سے، دماغ کی ساخت بدل جاتی ہے۔ جین نہیں بدلے مگر دماغ بدل گیا۔ تو پھر جواب کیا ہے؟ فطرت جیتی یا تربیت؟
جواب یہ ہے: دونوں غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔ یہ مقابلہ نہیں یہ گفتگو ہے۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ فطرت اور تربیت ایک دوسرے کے خلاف نہیں وہ ایک ہی تانے بانے کے دو دھاگے ہیں۔ 2024 میں UNSW آسٹریلیا کی ایک اہم تحقیق جس میں 175 یکساں اور 88 غیر یکساں جڑواں بچوں کے ایف ایم آر آئی اسکین نے ثابت کیا کہ دماغ کے مختلف کام، مختلف تناسب میں جینیاتی اور ماحولیاتی دونوں عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔ کوئی کام سو فیصد جینیاتی نہیں اور کوئی کام سو فیصد ماحولیاتی نہیں۔
ایک بیج کی طرح سوچیے۔ گندم کا بیج ہو تو گندم اگے گی۔ آم نہیں۔ یہ فطرت ہے۔ یہ بدل نہیں سکتی لیکن وہی بیج اچھی زمین میں ڈالیں تو بڑا پودا جنم لے گا جبکہ پتھریلی زمین بیج کا قد کاٹھ چھوٹا کردے گی۔ دونوں بیج گندم کے ہیں مگر ایک قدآور، ایک کمزور۔ انسانی شخصیت بھی ایسی ہی ہے: جین بیج ہے، ماحول زمین ہے اور نتیجہ دونوں کا امتزاج۔
پاکستانی تناظر میں سوچیں تو یہ بحث اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ ہمارے اکثر لوگ کہتے ہیں: ذہنی دباؤ، غصہ، شراب نوشی خاندانی بیماری ہے۔ ایسے لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ آدھا سچ ہے۔ بیماری کے جین ہو سکتے ہیں مگر ایپی جینیٹکس بتاتی ہے کہ ماحول، علاج، محبت اور تربیت ان جینز کو بدل سکتے ہیں یا کم از کم ان کی آواز دبا سکتے ہیں۔ یعنی "خاندانی بیماری" کا مطلب "لاعلاج" ہونا نہیں بس اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اور زیادہ توجہ سے اپنا ماحول اور علاج منتخب کرنا ہے اور سب سے اہم نتیجہ؟ یہ کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے جینز کا غلام نہیں۔ وہ اپنے ماحول کو چُن سکتا ہے، اپنی سوچ بدل سکتا ہے، علاج لے سکتا ہے، نئے تجربات کر سکتا ہے اور اس طرح اپنے دماغ کو اور اپنے آپ کو بدل سکتا ہے۔ یہی آزادی نفسیاتی علاج کی بنیاد ہے، یہی امید کی بنیاد ہے اور یہی وہ سچ ہے جو فطرت اور تربیت دونوں مل کر ہمیں بتاتے ہیں۔

