Taraqi Ke Shor Mein Gum Insan
ترقی کے شور میں گم انسان

آج دنیا بے حد تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ہر روز نئی ٹیکنالوجی متعارف ہو رہی ہے، مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے کئی کام آسان بنا رہی ہے اور سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک اسکرین تک محدود کر دیا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان پہلے سے زیادہ جدید، زیادہ طاقتور اور زیادہ مصروف ہو چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ترقی کے شور میں انسان کہیں کھو سا گیا ہے۔
آج کا انسان مشینوں کے قریب اور انسانوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد گھنٹوں موبائل فون استعمال کرتے ہیں مگر ایک دوسرے سے چند لمحے بات نہیں کرتے۔ رشتوں میں محبت کم اور مصروفیات زیادہ ہوگئی ہیں۔ لوگ اپنی اصل زندگی سے زیادہ اپنی "آن لائن زندگی" کو خوبصورت بنانے میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص خوش، کامیاب اور مطمئن دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں بے شمار لوگ ذہنی دباؤ، تنہائی اور مایوسی کا شکار ہیں۔
خاص طور پر نوجوان نسل اس مصنوعی دنیا سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ وہ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ پسندیدگی اور مداحوں کی تعداد اب خود اعتمادی کا معیار بنتی جا رہی ہے۔ اگر کسی کی تصویر یا ویڈیو کو کم توجہ ملے تو وہ خود کو غیر اہم محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ خاموش دباؤ نوجوانوں کو ذہنی بیماریوں، بے چینی اور ڈپریشن کی طرف دھکیل رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب بھی ذہنی صحت کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔
دوسری جانب مہنگائی اور بے روزگاری نے متوسط طبقے کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ملازمت کے لیے دربدر پھرتا ہے۔ والدین کی امیدیں، معاشرے کا دباؤ اور مستقبل کا خوف اس کے ذہن کو مسلسل تھکا دیتے ہیں۔ لوگ باہر سے مضبوط نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اندر سے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی یقیناً ضروری ہے، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی اصل شناخت، سکون اور تعلقات کھو بیٹھے۔ ہم نے ترقی کو صرف عمارتوں، موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی رفتار سے ناپنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان ذہنی طور پر پرسکون، اخلاقی طور پر مضبوط اور جذباتی طور پر محفوظ ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدیدیت کے ساتھ انسانیت کو بھی اہمیت دیں۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف کامیابی کا نہیں بلکہ ذہنی سکون، برداشت اور حقیقی زندگی کا درس بھی دینا ہوگا۔ کیونکہ اگر ترقی انسان کو انسان سے دور کر دے، تو ایسی ترقی صرف شور پیدا کرتی ہے، سکون نہیں۔

