Power Connection
پاور کنکشن

عشاء کی نماز سے کچھ دیر قبل موبائل فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف صاحبِ مکان (لینڈ لارڈ) تھے۔ کہنے لگے کہ گھر کی بجلی چلی گئی ہے تو اگر آ کے دیکھ سکو تو مہربانی ہوگی۔ جیسے تھے کی حالت ہی میں نکل پڑا۔ موقع پہ پہلے ہی سے تین سے چار سرکاری ہرکارے موجود تھے اور وہ اپنے حصے تک کا کام دیکھ چکے تھے اور مطمعن تھے کہ مسئلہ گھر کے اندر ہے اور گھر کے اندر کے بجلی کی معاملات ہماری حدود و قیود سے باہر ہے۔ چند ثانئے میں انہوں نے وہاں سے کھسک لینا ہی بہتر سمجھا۔ صاحبِ مکان کو پریشانی تھی کی بغیر بجلی کے رتّیا کیسے کٹے گی۔
انہیں تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں اور اپنے معمول کے کام کارج دیکھیں، میں اس کا کوئی جگاڑ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ دو تین ٹیلی فون کالیں کھڑکائیں اور اگلے آدھ گھنٹے میں دو احباب موقع پہ آن پہنچے۔ ان کے آنے سے قبل مطلوبہ اوزار اور سازوسامان اکٹھا کیا جا چکا تھا۔ گھر کے باہر میٹر والا ڈبہ کھولا تو چند منٹ میں بہت سے عقدے کھل گئے کہ کون سی تار (کیبل) کہاں اور کس تسلسل و ترتیب (سیکوئینس) سے لگی ہوئی ہے۔ اپنی فہم کے مطابق منصوبہ مرتب کیا اور ایک ایک کرکے تاریں جوڑنا شروع کیں۔ جیسے جیسے تاریں جڑ رہی تھیں ویسے ویسے گھر کے مختلف حصوں میں بجلی کے قمقمے روشن ہو رہے تھے۔
تیسری تار کو اس کی متعلقہ جگہ پہ لگانے کا معاملہ رہ گیا تھا۔ ابھی پہلا ہی فیز لگانا چاہا کہ آنے والی بجلی بھی جاتی رہی۔ معلوم ہوا کہ اسی آخری تار میں کوئی مسئلہ ہے۔ بغور معائنے سے پتا چلا کہ اس تار کی بیرونی انسولیشن خراب ہو چکی ہے۔ اس کی ضروری مرمت درکار تھی ورنہ گھر میں بجلی کا نظام بحال نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسے تیسے کرکے ٹیپ لگائی کہ آج کی رات گزر جائے تو صبح اس سب کو مناسب اور درست طریقے سے بحال کر دیا جائے گا۔ صاحبِ مکان تو اسی کاروائی پہ ہی نہال تھے کہ رات اندھیرے میں گزرنے سے بچ گئی تو ہم نے بھی رخصت کی اجازت چاہی۔
اس سارے معاملے کو نپٹا کے جب گھر کی راہ لی تو ایک اور خیال کوندا کہ اگر سارا نظام درست بھی کام کرتا رہے تو صرف ایک تار کا شارٹ سرکٹ بھی تمام تر روشنی اور قمقمے بند کرنے کو کافی ہے۔ ایک درست تار اپنی اصل اورصحیح جگہ پہ لگ کے ہی بجلی کے نظام کو موثر اور فعال بنا سکتی ہے۔
ایسا ہی تاروں کے جڑنے جیسا معاملہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ بھی ہے۔ جس طرح بجلی کا تار اپنے منبع سے جدا ہو کر محض ایک بے جان دھات کا ٹکڑا ہی رہ جاتا ہے، اسی طرح انسان بھی اپنے رب سے کٹ کر اندر سے خالی اور بے نور ہو جاتا ہے۔ دانائے راز کے نزدیک اصل زندگی اسی تعلقِ باطن میں پوشیدہ ہے، کیونکہ رب کی ذات ہی ہمارے لئے حقیقی منبع، سرچشمۂ نور اور مستند آسرا ہے۔ اسی منبع سے آنے والی رشد و ہدایت کی روشنی دلوں کو منور کرتی اور روح کو سکون عطا کرتی ہے اور یہی روشنی انسان کو تاریکیِ نفس سے نکال کر معرفت کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
اس تعلق کو "وصل" سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، جہاں بندہ اپنی خودی کو مٹا کر حقیقتِ مطلق سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ ذکر، فکر اور محبت وہ ذرائع ہیں جو اس رشتے کو مضبوط بناتے ہیں اور دل کو زندہ رکھتے ہیں۔ جب انسان خواہشات کے شور سے نکل کر خاموشیِ دل میں اترتا ہے تو اسی نور کی جھلک اسے اپنے باطن میں دکھائی دیتی ہے، جو کبھی صبر، کبھی شکر اور کبھی امید کی صورت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ جڑنے ہی میں حضرتِ انسان کی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہی قرب اسے اندرونی ویرانی سے نکال کر روحانی کمال اور حقیقی زندگی سے ہمکنار کرتا ہے۔

