Saturday, 11 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Tauseef Rehmat
  4. Manfi Ya Man Fi

Manfi Ya Man Fi

منفی یا من فی

کچھ کام، کچھ نام، کچھ جام، کچھ دام، کچھ گام، کچھ گانے اور کچھ سُر اپنے خالق اور اپنے فنکار کے ساتھ ہی امر ہو جاتے ہیں۔ دم مست قلندر قوالی جس کی بھی سن لیں لیکن نصرت فتح علی خان صاحب کے رنگ کا مزہ نہیں ملے گا۔ اسی طرح خواجہ غلام فرید کا کلام "پیلو پکیاں وے، آ چنڑوں رل یار" کئی گلوکاروں نے گایا، مگر جو سوز، مٹھاس اور روحانیت ثریا ملتانیکر کی آواز میں ہے، وہی اس کلام کا اصل رنگ بن کر دل میں اترتی ہے۔ ایسے کسی روز اپنے ہم نفسوں، ہم رکابوں، ہم رقصوں کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھے اپنے حصے کی "پیلو چنٹر" رہے تھے کہ ایک حکایت سننے کے بعد ذہن میں ایک سوال کوندا۔

سوال کوندا تو فٹ تو پوچھ بھی لیا کہ حکایات میں بیان کردہ یہ جتنے بھی چور اُچکے ہوتے ہیں ان کی کایا یک لخت کیسے پلٹ جاتی ہے؟ یہاں دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی احباب مدتوں جوتیاں گھساتے رہے، بعض تو جوتیاں سیدھی بھی کرتے رہے، بلکہ چند ایک تو نفس کی اصلاح کو جوتیاں کھاتے بھی رہے لیکن کوئی 'تند' سیدھی نہ پڑی۔ تو آخر ہم ایسا کیا کریں کہ جس سے ان چوروں کی طرح یا سو بندوں والے اس وارداتیے کی طرح ایک لمحے میں سب ماضی بدل جائے، سب نتارہ (صفائی) ہو جائے، سب تونڑے تُپ (کام سیدھے ہو) جائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بھی نگاہِ آئینہ ساز میں معتبر ٹھہریں۔

تصوف کی مسند پہ فائز، شیخِ کریم نے کیا خوب مستند توجیہہ بیان کی۔ فرمانے لگے کہ مجلس میں بیٹھے تمام احباب سے زیادہ آپ کو اس بات کی سمجھ سب سے بہتر اور اچھے سے آئے گی کہ آپ الجبرا پڑھنے کی تہمت اپنے ذمے لئے بیٹھیں ہیں اور اسی الجبرے کے فلسفے سے آج آپ پہ ظاہر و باطن کے اختلاط کا عقدہ کھُل جائے گا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، پوری محفل ہی ہمہ تن گوش اور پوری توجہ سے بات سننے لگی۔

فرمانے لگے: نیک ہونے اور نیک دِکھنے میں فرق ہے۔ ظاہر میں نیک ہونا اور باطن میں نیک ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ حکایات میں بیان کردہ سب چور اچکے، ڈاکو، راہزن، لٹیرے یہ سب ظاہراً بھی برے کردار کے مالک تھے (منفی) اور اپنے آپ کو باطنی طور پر بھی برا ہی سمجھتے تھے (منفی)۔ جو ان کے من فی (میں) تھا وہی باہر کی حالت سے ظاہر ہوتا تھا۔ یعنی یہ ظاہر و باطن میں منفی لوگ تھے۔ یہ جہاں بھی آتے جاتے، اپنے آپ کو اپنی اصل روش پہ ہی رکھتے۔

اس کے برعکس دوسری طرز کے بھی لوگ مل جاتے ہیں کہ جو بظاہر تو نیک و پارسا، متقی اور محراب زدہ معلوم ہوتے ہیں لیکن باطن میں انیک اور پاسے کھیلنے والے، شیطانی اور بارلی چیزوں کے مقتدی اور نفس زدہ ہوتے ہیں۔ ان کی یہ اندر اور باہر کی دونوں حالتیں ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتیں۔ باہر کچھ ہے اور بھیتر کچھ ہے یعنی من فی (میں) کچھ اور ہے (منفی) اور دنیاداری کے دکھانے کو کچھ اور ہے (مثبت)۔

اب الجبرے کا کلیہ لگاوَ: جب دو ایک جیسی علامات منفی، منفی یا مثبت، مثبت کو آپس میں ضرب دی جائے تو جواب ہمیشہ مثبت آتا ہے اور اگر دو مختلف علامات یعنی ایک منفی اور ایک مثبت کو آپس میں ضرب دی جائے تو جواب ہمیشہ منفی آتا ہے۔ عددِ صحیح (کوفیشنٹ) جتنا بھی بڑا ہو جواب لیکن منفی ہی آئے گا۔ بلکہ بڑے عددِ صحیح (کوفیشنٹ) سے تو منفی کا درجہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔

وہ لوگ جن کا اندر اور باہر، ظاہر اور باطن ایک جیسا تھا، خواہ وہ ظاہری طور پر منفی ہی کیوں نہ رہے ہوں، مگر ان کی ذات میں کوئی دہرا پن نہ تھا، کوئی ریاکاری نہ تھی، کوئی ظاہر داری اور پردہ داری نہ تھی۔ وہ جیسے دِکھتے تھے ویسے ہی تھے اور جیسے تھے ویسے ہی دِکھتے تھے اور جیسے ہی کسی دانائے راز کے بتائی ہوئی ضرب لگی تو نتیجتاً جواب مثبت مل گیا اور پھر ایسی کایا پلٹ ہوئی کہ سننے والے حسرت و یاس سے اس کایا پلٹ کی خواہش کرتے ہیں۔

ضرب تو صرف ایک ذریعہ ہے، اصل شرط ہے ظاہر و باطن کا یکساں ہونا۔ وہ لوگ جن کا اندر وہی ہے جو باہر ہے، جن کا قال وہی ہے جو حال ہے، جن کی نیّت وہی ہے جو ان کا عمل ہے تو پھر انہی پہ دانائے راز کی ضرب کارگر ثابت ہوگی، انہی کے مسئلے کا جواب مثبت آئے گا اور انہی کی کایا پلٹ ہوگی۔ اوردوگانگی والے ظاہر کچھ، باطن کچھ، زبان کچھ، دل کچھ، دعا کچھ، مدعا کچھ ان پر جتنی بھی ضربیں لگا لو، جتنی بھی تقسیم کرلو، جتنے بھی طریق آزماؤ، جتنے بھی مجاہدے کرو، جواب کبھی مثبت نہیں آئے گا۔ وارث شاہ صاحب کا کہا بھی کیا خوب ہے کہ:

دنیا تے کدی سکھ نہیں پاندا، جیہڑا دو پاسے دا سانجھا
اِکو پاسا رکھ لے ہیرے، یاں کھیڑے یاں رانجھا

Check Also

Amnesty Scheme Ki Ashad Zaroorat Hai

By Rao Manzar Hayat