Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Tauseef Rehmat
  4. Haye Maa Tology (2)

Haye Maa Tology (2)

ہائے ماں ٹالو جی (ھیماٹالوجی) (2)

یوں ترقی کے اس سفر سے سہولت تو ملی لیکن ساتھ میں انسانی رشتوں کی نوعیت بھی خاموشی سے بدلتی رہی۔ ماں کے ایک چولہے کے گرد بیٹھ کے کھانے والے اپنے الگ الگ چولہے کی جستجو میں نا صرف الگ ہی ہوئے بلکہ کئی ایک تو بکھر بھی گئے۔ کچھ ملکوں ملکوں بکھرے تو کچھ اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کے بکھر گئے اور یوں ہماری معاشرتی، عائلی اور خاندانی اقدار کے ناپید ہونے کا آغاز ہوا۔ رفتہ رفتہ گھروں کے صحنوں کی رونقیں کمروں تک اور پھر کمروں کی محفلیں اپنے اپنے پورشنز تک محدود ہوگئیں۔

لوگوں کے کارزانت (پروفیشنل) ہو جانے سے پہلے کبھی کبھار ہمسایوں سے نمک مانگ لیا جاتا تھا کہ جب کبھی انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو انہیں مانگنے میں ہچکچاہٹ نہ ہو۔ پھر بقالیاتی (گروسری) دور کا زمانہ آیا۔ ہر کوئی اپنی فریج کو بقدرِ ضرورت سے کچھ زیادہ بھرنے لگا کہ سارا سازوسامان گھر ہی میں مل جائے اور آس پڑوس سے کچھ لینا نہ پڑے۔ اپنے آپ ہی میں خوش رہنے کے فلسفے نے اس سارے عمل کو دو آتشہ کر دیا اور یوں حرمیت (پرائیویسی) کے نام پہ ایسا ننگا ناچ ہوا کہ ایک عمارت میں رہنے والے اپنے گھر کے سامنے والے دروازے سے بھی واقف نہیں کہ دروازے کے پار انساں بستے ہیں یا یہ دورازہ کسی اوپری منزل (فلور) کی سیڑھیاں ہیں۔

حالیہ دنوں میں ڈاکٹر احمد لطیف کی موت کا واقعہ اس مردم بیزاری کا ایک اور ثبوت ہے۔ ڈاکٹر صاحب یقیناً کسی بستی میں رہائش پذیر ہوں گے اور غالب امکان ہے کہ اس بستی میں زیادہ تر رہائشی لوگ پڑھے لکھے اور متوسط سے کچھ اوپر کے طبقے میں شمار ہوتے ہوں گے۔ ڈاکٹر صاحب جمعہ کی نماز کے لئے بھی کسی قریبی مسجد میں جاتے ہوں گے۔ صبح یا شام کے اوقات میں چہل قدمی کا شغل بھی فرمایا کرتے ہوں گے۔ اگر گھر پہ کھانے کی سہولت نہ تھی تو کسی مطعم (ریسٹورنٹ) میں باقاعدہ جاتے ہوں گے اور سب سے آخر میں یہ کہ ہسپتال کے کلینک پہ ساتھ کام کرنے والے اور کام سے متعلقہ لوگوں سے تو روز ہی صاحب سلامت ہوتی ہوگی۔

ڈاکٹر صاحب تین دن کے لئے اس دنیا میں کہیں روپوش ہوئے۔ تمام پڑوسی، محلے کی مسجد کے نمازی، پارک میں نوکری کرنے والے مالی، ہسپتال میں ہر روز کے ساتھ کام کرنے والا عملہ اور حتیٰ کے ڈاکٹر صاحب کے اپنے گھر والے بھی اس روپوشی اور اس روپوشی کے محرکات سے لاعلم رہے۔ شاید تنخواہ ملنے کے دن نزدیک تھے اور ڈاکٹر صاحب مل نہیں رہے تھے تو گھر والوں کو فکر ہوئی اور یوں ڈاکٹر صاحب کی تلاش کے لئے ڈھونڈیا مچی۔ بات پولیس تک گئی تو ہماری قابل پولیس فوراً حرکت میں آئی اور "آپریشن برائے تلاشِ ڈاکٹر" لانچ کر دیا گیا۔

ڈاکٹر صاحب کو نہیں ملنا تھا نہیں ملے۔ وہ اپنے مسائل کے حل کی جستجو میں کوئی کندھا ڈھونڈتے رہے لیکن جب کوئی بھی اپنا، کوئی پرایا، کوئی دوست، کوئی بیگانہ، کوئی دلبر، کوئی غمخار ان تک نہیں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب واقعی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے کہ اب مستقل نیند کی آغوش ہی ان کی آخری منزل تھی۔

ہسپتال کی پارکنگ میں آتے جاتے لوگ بھی ڈاکٹر صاحب سے نابلد ہی رہے۔ گیٹ پہ کھڑا چوکیدار بھی سمجھ نہ پایا کہ ڈاکٹر صاحب کی گاڑی کئی روز سے آئی نہیں یا باہر نہیں گئی تو پتا ہی کیا جائے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے کسی زیاں کار کا اس دن وہ فون گھر بھول آیا تھا تو ایک گاڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے موصوف کو بدبو کا احساس ہوا۔ گاڑی میں جھانکنے پہ دیدہ زیب کپڑوں میں ملبوس لاش دکھائی دی۔ موقع کے تعین کے بعد پولیس فوراً جائے وقوعہ پہ پہنچی اور حالات و واقعات کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹر احمد لطیف کی ذہنی حالت، مالی بوجھ، گھریلو مسائل، دفتری کام کا دباوَ اور اس جیسے بہت ست موضوعات زیرِ غور آئے ہوں گے۔

لیکن اس سارے معاملے میں اصل مسئلہ انسان سے انسان کی دوری اور کسی حد تک بیزاری کی طرف شاید کسی کا دھیان نہ گیا ہو۔ مردم بیزار معاشرے میں ایسے واقعات عام ملیں گے۔ افراتفری کے اس دور میں چند ایک تعلقات ایسے ضرور رکھنے چاہیئیں کہ جن کو آپ کی غیر حاضری محسوس ہو، جو آپ کے نہ آنے پہ فکرمند ہوں، جو آپ کو نہ دیکھیں تو خود سے رابطہ کرنے میں پہل کریں، جو آپ کی آواز سننے کے مشتاق رہیں، جو آپ کو اپنی زندگی میں شامل رکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک یا دو تعلقات ایسے ضرور رکھیں کہ جو آپ کو اپنی دعاوَں میں ایسے یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی میں کبھی بھی ڈاکٹر احمد لطیف کی موت جیسے سانحات اور وہاں تک پہنچانے والے حالات نہ آئیں۔

Check Also

Munafiqat Ka Mausam Aur Atomi Siasat

By Wusat Ullah Khan