Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Taskeen Ashraf
  4. Miaad Aur Bunyad

Miaad Aur Bunyad

میعاد اور بنیاد

اسکرین اسکرول کرتے ہوئے ایک مختصر کلپ نظر سے گزرا جس میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اپنی تعریف کے جواب میں نہایت سادہ مگر گہری بات کہ رہے تھے کہ "اگر میری کوئی بنیاد ہے تو میں یاد رکھا جاؤں گا اور اگر میری حیثیت صرف ایک میعاد تک محدود ہے تو پھر ایکسپائر ہونے کے بعد میرا ذکر بھی باقی نہیں رہے گا"۔ ان کی یہ بات دل میں اترتی ہے اور ایک سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر میعاد اور بنیاد کا آپس میں تعلق کیا ہے؟ میعاد کے بنیاد کا حد تک ضروری ہے۔

زندگی ابتداء سے ہی ایک طے شدہ میعاد کے ساتھ ہمارے حوالے کی جاتی ہے۔ یہ میعاد خاموشی سے چلتی رہتی ہے، نہ کسی کو خبر دیتی ہے نہ مہلت بڑھاتی ہے۔ انسان بچپن کی معصومیت سے گزرتا ہوا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، جہاں خواب، خواہشیں اور جدوجہد اس کا مقدر بنتی ہیں۔ پھر یہی جوانی آہستہ آہستہ ادھیڑ عمر میں ڈھلتی ہے اور بالآخر بڑھاپے کی تھکن میں زندگی کی رفتار مدھم پڑ جاتی ہے اور پھر ہم اس دنیا سے منتقل کر دیے جاتے ہیں یوں ایک مکمل سفر طے ہو کر انسان اپنی میعاد پوری کر لیتا ہے۔ یہ ایک ایسا اصولِ زندگی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

مگر سوال وہی رہتا ہے کہ اس میعاد کے دوران ہم نے کیا بنیاد رکھی؟ محض جینا، وقت گزارنا اور آخرکار ختم ہو جانا ہی زندگی کا مقصد نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی محدود میعاد میں کون سی ایسی بنیادیں قائم کرتا ہے جو اس کے بعد بھی باقی رہیں۔ عام لوگ اپنی میعاد پوری کرکے خاموشی سے گزر جاتے ہیں، ان کے نام وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اپنے کردار، اپنے کام اور اپنی سوچ سے کوئی مضبوط بنیاد رکھ جاتے ہیں، وہ وقت کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو محض گزارا نہیں بلکہ اسے معنی دیا۔ کسی نے علم کی شمع جلائی، کسی نے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور کسی نے حق کی آواز بلند کرکے اپنے نام کو زندہ جاوید کر لیا۔ ایسے افراد کی زندگی کی میعاد ختم ضرور ہوتی ہے، مگر ان کی بنیاد انہیں صدیوں تک زندہ رکھتی ہے۔ ان کے نقوش آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

آج کے دور میں جہاں زندگی کی رفتار تیز اور ترجیحات بدل چکی ہیں، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی میعاد کو کس طرح گزار رہے ہیں۔ کیا ہم صرف وقت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں یا کوئی ایسی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں جو ہمارے بعد بھی قائم رہے؟ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنی محدود میعاد کو ایک مضبوط بنیاد میں ڈھال دے، تاکہ اس کا وجود مٹنے کے بعد بھی اس کا اثر باقی رہے۔

آخرکار، میعاد ختم ہونا ایک فطری عمل ہے، مگر بنیاد قائم کرنا ایک انتخاب ہے اور یہی انتخاب انسان کو عام سے خاص اور وقتی سے دائمی بنا دیتا ہے۔

Check Also

Rasta Saamne Hai, Nazar Uthane Ki Dair Hai

By Zahra Javed