Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Tahira Kazmi
  4. TK Boutique

TK Boutique

ٹی کے بوتیک

انیس سو چھیانوے میں صاحب کی پوسٹنگ ملتان ہوئی، ملتان پہنچے اور ہماری باچھیں کھل گئیں۔ اچھے کپڑے پہننے کا بچپن سے شوق تھا اور کپڑوں پہ کڑھائی کا اس سے بھی زیادہ۔ امی اور باجی دونوں کو کڑھائی آتی تھی سو کبھی کبھار وہ گلے پہ کچھ پھول بنا دیتیں۔ مشینی کڑھائی کی مشینیں ہوتیں تھیں مگر ان کا کام بھی آؤٹ سٹینڈنگ نہیں تھا۔

برینڈز میں گل احمد کی لان اور اس کے خوبصورت پرنٹس تو تھے مگر ہمارے ذوق کے لیے کافی نہیں تھے۔ دوسرے ہمیں ڈیزائننگ کرنے کا بھی بہت شوق تھا کہ ایسا کپڑا پہنیں جو اور کسی کے پاس نہ ہو۔ ملتان میں ہماری ملاقات ان عورتوں سے ہوئی جو فنکار تھیں جن کی انگلیوں کی پوریں جب ٹانکہ لیتی تھیں تو یقین نہیں آتا تھا کہ اس قدر نفاست بھی ہو سکتی ہے۔

تب ہم نے شروع کیا ٹی کے بوتیک، یاد رہے کہ ہم گائینی پارٹ ٹو کے ٹرینی تھے۔ نشتر سے نکلتے تو تنگ سڑکوں سے ہوتے ہوئے بوہڑ گیٹ اور کالے منڈی کی پیچ دار گلیوں میں گھس جاتے جہاں ہر کپڑا بازار کے ریٹ سے سستا ملتا تھا۔ وہاں تک گاڑی لے جانا بھی ایک مسئلہ تھا مگر ہماری آلٹو تانگوں اور ریڑھیوں کے بیچ رینگتی ہوئی وہاں تک پہنچ ہی جاتی۔

دکان دکان پھرتے، بھاؤ تاؤ کرتے اور پھر طرح طرح کے رنگوں میں نفیس ملائم وائل خریدتے۔۔ واپسی بھی صدر کی چوڑی گلی میں گھس جاتے۔ ٹھپے والوں کے پاس بیٹھ کر ڈیزائن بناتے، ٹھپے ڈھونڈتے اور پھر ہماری ہدایات پہ چھاپہ لگتا، یہ پھول اس طرف، یہ پتے اُس طرف، ٹھپے لگوا کر دھاگے والے کے پاس روانہ ہو جاتے۔ بیسیوں لچھیاں نکلوا کر کپڑے پہ رکھتے، یہ یا وُہ، نہیں یہ زیادہ اچھا لگے گا، رنگوں کے ڈھیر سے یوں کھیلتے جیسے پینٹنگ بنانے جا رہے ہوں، شاید یہ سارا پراسس تو وہی تھا۔۔

من پسند دھاگوں اور کپڑوں کے تھیلے گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ لاد کر گھر پہنچتے۔ دوپہر ڈھل رہی ہوتی۔ صاحب خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے اور ہم ان عورتوں کو بلانے کی فکر میں ہوتے جنہوں نے ہمارے کپڑوں پہ نقش و نگار کاڑھنے تھے۔ بیٹ مین کو دوڑاتے کہ فلانی مائی کو بلا کر لاؤ۔

اپنی ان خدمات سے ہم نے اپنی بہنوں اور سہیلیوں کو بھی مستفید کیا جو ہمارے کپڑے دیکھ کر مچل جاتیں، بس ایسا ہی چاہیے۔ ہم پھر سے کالے منڈی روانہ ہو جاتے ناک بھوں چڑھائے بغیر، یہ ہنر ہم نے امی سے سیکھا تھا۔

کپڑا بن کر آتا تو اس کی پھبن ایسی ہوتی کہ ہم خود ہی صدقے واری جاتے۔ پھر بھاگے بھاگے چوڑی گلی پہنچتے، درزی کے حضور۔ ہماری اس تگ ودو کو چار چاند تب لگتے جب ہم نیا سوٹ پہن کر نشتر روانہ ہوتے اور ہر ڈاکٹر ہم سے پوچھتی کہ یہ کہاں سے لیا؟

ہمارا جواب، ٹی کے بوتیک۔

ہماری دوست فرح جو پیدا ہی ملتان میں ہوئی تھیں، ہم سے کہتیں، ہم آج تک بوہڑ گیٹ اور کالے منڈی نہیں گئے، یہ تم اکیلی کہاں پھرتی رہتی ہو۔۔ ہم ہنس کر کہتے۔۔ہم دنیا لور لور پھرنے کے لیے آئے ہیں سو ہم تو دیکھیں گے بھئی کہ اللہ کی زمین پہ کیا کیا ہے اور کدھر ہے؟

دو ہزار میں ہم نے ملتان چھوڑا۔ چلنے سے پہلے بیس پچیس جوڑوں پہ کڑھائی کروائی۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا طاہرہ کا جہیز تیار ہورہا ہے، ہاں بالکل، ملتان میکے جیسا ہی لگتا ہے سو ایسے تو ہم رخصت نہیں ہوں گے، ویسے جیب خود ہی ڈھیلی کی ہم نے، چھ ہزار تنخواہ تھی ہماری اور بچت۔۔ توبہ توبہ، کیوں بچت کرتے بھئی، عمر گزر جائے، ارمان دل میں رہ جائیں اور پیسہ بینک میں سڑتا رہے۔۔ نہ بابا نہ، مہنگا سودا ہے، پاؤ تے ہنڈاؤ۔۔

وہ بیس پچیس جوڑے کچھ پہنے، کچھ گُم ہوئے کہ ہم دنیا کھوجنے نکل چکے تھے اور سامان ادھر اُدھر رل رہا تھا۔

پھر ایک بکسہ ملا اور اس میں سے یہ نکل آیا، پیور وائل پہ تارکشی اور پھول، ہم ان دنوں میں واپس جا پہنچے جب طاہرہ طاہرہ تو تھی مگر یہ نہیں، یہ سوٹ ان سلا تھا، دوپٹّہ ڈال کر اے لائن کرتا بنوایا۔۔

جس زمانے میں یہ بنوایا تھا نہ انٹرنیٹ تھا نہ سمارٹ فون سو کالے منڈی سے خریدے جانے والے اس کپڑے کو کیا علم تھا کہ وقت کے سفر میں یہ کہاں کہاں سے گزرتا ہوا کہاں تک پہنچے گا۔

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام وہ پھر نہیں آتے، وہ پھر نہیں آتے۔

ہمیں یہ بہت عزیز ہے، ہم اسے بہت سنبھال سنبھال کر پہنتے ہیں۔۔ اس میں وہ وقت قید ہے، وہ وقت جب ہم قطعی نہیں جانتے تھے کہ زندگی ہمیں کہاں لے جائے گی۔

دیکھ لیجیے ٹی کے بوتیک سے بنا چھبیس برس پہلے کا جوڑا جس کی اب وتاب آج بھی ویسی ہی ہے جب بنوایا گیا تھا۔

Check Also

Banam Dr. Muhammad Raza DPO Murree

By Muhammad Idrees Abbasi