1.  Home
  2. Blog
  3. Tahira Kazmi
  4. Beti Ki Shadi Pe Likha Jaane Wala Pehla Aur Akhri Khat

Beti Ki Shadi Pe Likha Jaane Wala Pehla Aur Akhri Khat

بیٹی کی شادی پہ لکھا جانے والا پہلا اور آخری خط

"سنو بیٹی ہماری عزت کی لاج رکھنا۔ ہماری جگ ہنسوائی نہ کروانا، ہماری ناک نہ کٹنے دینا جہاں ڈولی میں بیٹھ کر جارہی ہو، وہاں سے ڈولے میں ہی نکلنا"

نئی زندگی کے آغاز پر بیٹی کے کان میں کہے جانے والے یہ بچھو نما الفاظ!

بیٹی کی شادی پہ ایسے زہریلے جملوں کا تحفہ؟ آخر کیا معنی ہیں ان الفاظ کے؟

یہی نا کہ شادی ہونے کے بعد اس گھر کے دروازے تم پر بند ہیں۔ تمہاری ذات سے ہم ہمیشہ کے لیے عہدہ برا ہو رہے ہیں۔ تمہیں اب نئے مالکان کے ساتھ جانا ہے۔ سسرال میں جو بھی ہو، صبر و ضبط کے ساتھ برداشت کرنا اور شوہر کا گھر چھوڑنے کے بارے میں مت سوچنا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ لڑکی کی شادی خانہ آبادی ہے یا پروانہ موت؟

ستّی کرنے کی جدید شکل ہی تو ہے یہ!

کیا محبت کرنے والے ماں باپ بیٹی کے ہاتھ میں کچھ ایسی امید نہیں پکڑا سکتے؟

جان سے پیاری بیٹی!

خط لکھنے کا مقصد تمہیں الوداع کہنا نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ باتیں تحریری شکل میں تم سے کہہ دیں تاکہ یہ خط ایک سند بن جائے۔ اس کا ایک ایک لفظ تمہیں کچھ بھی بھولنے نہ دے اور تمہیں کسی سراب کے پیچھے بھاگنا نہ پڑے۔

سنو جان عزیز، ہم نے کوشش کی ہے کہ تمہیں ایک ایسا ساتھی دے سکیں جو تمہارا خیال رکھے اور تم اس کا۔ زندگی ہنستے کھیلتے گزارنے کے لیے روحوں کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں دنیا کی سب خوشیاں ملیں، تمہاری آنکھیں کبھی نم نہ ہونے پائیں۔ تم ہمیں ہمیشہ مسکراتی ہوئی ملو، اپنی من چاہی منزلوں تک بنا کسی تکلیف کے پہنچو۔

ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ گھر عورت بناتی ہے اور اس کی بنیادوں میں تمہاری قربانیوں کا خون شامل ہونا چاہئیے۔

سنو بیٹی، گھر مرد اور عورت مل کر بناتے ہیں اور دونوں ہی اس گھر کو خوشیوں سے سجاتے ہیں۔ جب ذمہ داری کسی ایک کے شانوں پر ڈال دی جائے تو ایسے گھر کی چھت بارشوں اور طوفان کو نہیں روک سکتی۔ تباہی لازمی ہے، جلد یا بدیر!

بیٹی، ہمراہی کے اس سفر میں محبت کا ہونا ضروری تو ہے لیکن وہ محبت کاغذی پھول بن جاتی ہے اگر اس میں عزت کی مہک شامل نہ ہو تو۔ عزت کے بنا اس رشتے کو آگے لے کر مت چلنا۔ تمہاری عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ تمہارے شوہر کی۔ اس پہ کبھی مفاہمت نہ کرنا۔

اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ تہہ دل سے معافی کا خواستگار ہو تو معاف ضرور کرنا مگر ایک ہی بار۔ غلطی در غلطی اور معافی در معافی کا کھیل تمام عمر مت کھیلنا۔

ایک اور بات سمجھ لو۔ یہ آس لگانا کہ کوئی اپنی فطرت وقت کے ساتھ بدل لے گا، ایک احمقانہ خواہش ہے۔ ایسی امیدیں دیوانے کا خواب ہوتی ہیں۔ شعور کی منزل پہ پہنچنے تک لوگ جو کچھ بن چکے ہوتے ہیں، وہی ان کی مٹی اور وہی ان کا خمیر ہوتا ہے۔ محبت چاہے کتنی ہی کیوں نہ ہو، شخصیت کا بدلاؤ تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ قصور کسی کا نہیں ہوتا مگر پھر بھی تعلق میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ یوں سمجھو کہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کی ہر کسی سے مطابقت ہو سکے۔ ایک ہی ماں باپ کے گھر جنم لینے والے جب ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوئے دوری اختیار کر سکتے ہیں تو دو مختلف گھروں سے آنے والے علیحدہ کیوں نہیں ہو سکتے؟

قصور کس کا نکلتا ہے اور کس کا نہیں، یہ بحث بے معنی ہوتی ہے۔ بہت سے سوالوں کا جواب نہیں ہوتا اور بہت سی باتیں یونہی تشنہ طلب رہ جاتی ہیں۔ بس یہ سمجھ لو کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے ہوتے۔ ایک دوجے کو راکھ کرنے سے بہتر ہے، دونوں اپنی زندگی علیحدہ علیحدہ جی لیں۔

زندگی کی کڑواہٹ جب سانس نہ لینے دے، سفر جب پابہ زنجیر طے کرنا پڑے تو بیٹا ہمیں پکار لینا۔ یاد رکھو جب بھی تم محسوس کرو کہ تمہارا سفر تمہیں زندگی سے مایوس کر رہا ہے تو فورا لوٹ آنا۔ یہ دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا، ہم بھی تمہارے اور یہ گھر بھی تمہارا۔

تمہیں ہم نے اپنے خون جگر سے پالا ہے اور ہم قطعی نہیں یہ چاہیں گے کہ تم اس کا خراج دو۔ تمہیں اپنی خوشی سے ہم اس دنیا میں لائے، تمہیں پال پوس کر بڑا کرنا، تعلیم دلوانا اور شادی کرنا ہماری ذمہ داری تھی، کوئی احسان نہیں۔

تمہاری خوشی، تمہارا سکون، تمہاری مرضی اور تمہاری راحت ہمیں عزیز ہے، ہر حال میں، ہر قیمت پر۔ ہم نے تمہیں زندگی گزارنے کے لیے خوشیاں دینے کی کوشش کی ہے، تمہیں بیچا ہر گز نہیں کہ تم واپس نہ آ سکو۔

یاد رکھو ہمارا اور تمہارا رشتہ اٹوٹ ہے، آنول نال جیسا، جو کٹ کر بھی نشانی چھوڑ جاتی ہے۔ تم جہاں جا رہی ہو اس سے تمہارا تعلق قانونی ہے اور اس تعلق کو تب تک ہی قائم رہنا چاہئے جب تک تمہاری ذات اور تمہاری ہستی خوشی کے ہنڈولوں میں جھولتی رہے۔ جب بھی غم اور دکھ بیچ میں آ جائے، اس رشتے کو خُداحافِظ کہہ کر لوٹ آنا۔

آخری بات، ماں بننے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا۔ لیکن ماں بننے کے فیصلے کو اپنے پاؤں میں بیڑیاں مت سمجھنا۔ ماں بننے کے بعد بھی واپسی کے دروازے کھلے رہیں گے۔ تم بھی ہماری اور تمہاری اولاد بھی۔

اس خط کو سنبھال کر رکھنا۔ پرسکون، مطمئن اور بے خوف زندگی گزارنے کا یہ تحفہ ہے ہماری طرف سے۔ آخری مت سمجھنا۔

تمہارے اماں اور ابا!

Check Also

Madawa Kon Kare Ga?

By Dr. Ijaz Ahmad