1.  Home
  2. Blog
  3. Tahira Kazmi
  4. Akhir Kyun?

Akhir Kyun?

آخر کیوں؟

زندگی کو خدا حافظ کہہ دینے کے بعد پہلی رات، سائیں سائیں کرتا قبرستان، جنگلی جانوروں کی آوازیں، برف سا سرد جسم، قبر کی ٹھنڈی دیواریں، تنہائی، خاموشی، تاریکی، اپنوں سے بچھڑنے کا غم، قبر کی وحشت!

لیکن اس سنسان گوشے میں کچھ اور بھی ایسا تھا جو دل پہ گرفت کرتا تھا!

چپکے چپکے چلتے ہوئے کچھ سائے، کدالیں ہاتھ میں تھامے، اپنی خباثت پہ نازاں ایک عورت سے اس کے عورت ہونے کا خراج لینے کا احساس ان کے رگ وپے میں مستی بن کر دوڑتا تھا۔

وہ دنیا سے رخصت ہو چکی، سانس اور حرکت قلب کب سے تھم چکی، مگر پروا کسے تھی؟ جسم میں کچھ گداز اور کچھ لچک تو ہوگی نا، کھیلنے کے لئے ویجائنا چاہیے بے شک وہ قبر میں لیٹی ہوئی عورت ہی کی کیوں نہ ہو!

قبر کھودی جاتی ہے، بچی کی لاش نکالی جاتی ہے، کفن اتار کے ایک طرف رکھا جاتا ہے اور بربریت کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ایک مردہ بچی کو نوچنے کھسوٹنے کا کھیل، مردانگی پہ نازاں، طاقت کے نشے میں سرشار چند بدمست مرد اپنے آپ کو حاکم سمجھنے پہ بضد!

بے لباس بچی ساکت پڑی ہے، مردہ جسم داغدار ہو رہا ہے، بے بس چاند بادلوں کی اوٹ میں منہ چھپا چکا ہے۔ ستارے عورت کی اس ذلت پہ سسک رہے ہیں، آسمانوں کے اوپر سناٹا چھایا ہے، ہوس کے پجاری ناچ رہے ہیں۔

دور، کہیں بہت دور بچی کی روح اپنے جسم کی بے حرمتی پہ لرزاں سوچ رہی ہے کہ اس رات میں تو رب کی وحدانیت کا اقرار لینے کے لئے منکیر نکیر قبر میں آیا کرتے ہیں، یہ مجھے کس گناہ کی سزا ملی؟

غم سے بے حال والدین پہ رات بھاری ہے۔ وہ بچی جو کل تک ماں سے لپٹ کر سوتی تھی، اب شہر خموشاں میں تن تنہا جا لیٹی ہے۔ دکھ سے نڈھال بے بس ماں باپ چہیتی بیٹی کے پاس علی الصبح جا پہنچتے ہیں۔ قبر کھلی پڑی ہے اور لاش غائب ہے۔

اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچیے کہ ماں باپ پہ کیا گزری ہوگی؟ ان کی لخت جگر دنیا سے رخصت ہو کے بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ لاش زخم زخم حالت میں قریبی جھاڑیوں میں سے ملی۔ ظاہری ڈھانچہ قیامت گزرنے کی کہانی سناتا تھا اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اپنے الفاظ کی سنگینی سے آنکھیں چراتی تھی!

اخبار ہاتھ میں تھامے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں اور لرزتی آواز کے ساتھ ہماری بیٹی شکوہ کناں تھی۔

"اماں! کیوں؟ آخر کیوں؟ مرنے کے بعد بھی عورت کو اس عذاب سے کیوں گزرنا ہے آخر؟ وہ تو بچی تھی اماں پھر کیوں؟

وہ سب جو عورت کی آنکھ کا تنکا برداشت نہیں کرتے، جو ہر بے راہ روی کا ذمہ دار عورت کو ٹھہراتے ہیں، ان سے پوچھیے کہ قبر میں لیٹی ہوئی اس بچی نے ایسا کیا کیا کہ ریپ کرنے والے ایک مردہ جسم کے سامنے بھی اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے۔

اماں، میری وصیت ہے کہ مجھے مرنے کے بعد دفن کرنے کی بجائے میرے جسم کو راکھ میں بدل دیجیے گا تاکہ میرا مردہ جسم کسی ہوس کے مارے کا شکار نہ بنے" وہ رو رہی تھی۔

اضطراب، شرمندگی اور رنج وغم ہماری قوت گویائی سلب کر چکا تھا ورنہ ہم اسے کہتے کہ یہ خواہش تو ہماری بھی ہے۔ ہم بھی اپنے جسم کو بھیڑیوں کا شکار بننے سے بچانا چاہتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ خلق کرنے والا رب قادر ہے کہ ہماری راکھ کو سمیٹ کر جو چاہے، بنا دے۔

Check Also

Phoolon Aur Kaliyon Par Tashadud

By Javed Ayaz Khan