Aik Thappar Aur Kai Sawal
ایک تھپڑ اور کئی سوال
آج ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا۔ لیکن میرے دل میں ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے کند چھری سے اسے کاٹ کر ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہو۔ بات اتنی بڑی بھی نہیں تھی۔۔ کم از کم بظاہر تو نہیں۔
آج میری بہن کو ایک خاتون کی کال آئی۔ وہ ہمارے والد صاحب کے ایک قریبی جاننے والے کی اہلیہ ہیں۔ وہ صاحب خود بہت مہذب، باصلاحیت اور باذوق شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا انداز گفتگو، ان کی سوشل موجودگی، ان کی شخصیت۔۔ سب کچھ ایک refined انسان کا تاثر دیتا ہے۔ لیکن آج ان کی اہلیہ کی آواز میں refinement نہیں۔۔ شکستگی تھی۔
انہوں نے بتایا: "آج وہ بات بے بات غصہ کر رہے ہیں۔۔ مجھے تھپڑ مار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں گھر سے نکل جاؤ"۔
میں خاموش ہوگئی۔ 17 سال کی رفاقت۔۔ کتنے موسم دیکھے ہوں گے انہوں نے ساتھ۔ کتنی خوشیاں، کتنی آزمائشیں۔ لیکن میرا ذہن ایک ہی لفظ پر اٹک گیا: تھپڑ؟
اختلاف سمجھ آتا ہے۔ غصہ بھی سمجھ آتا ہے۔ انسان کامل نہیں ہوتے۔ لیکن ایک انسان دوسرے انسان پر ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کس لمحے میں کرتا ہے؟ وہ کون سا اندرونی دروازہ ہوتا ہے جو اس لمحے کھل جاتا ہے؟
اور میرے اندر ایک سوال اٹھا: اس کی اجازت کس نے دے دی؟ شوہر کو کون سی سند مل گئی؟ اور میں جانتی ہوں، اکثر لوگ فوراً کہیں گے: "قرآن بھی تو سورۃ نساء میں کہتا ہے کہ اگر بیوی نافرمانی کرے تو مارنے کی اجازت ہے"۔
لیکن میں ہمیشہ یہاں رک جاتی ہوں۔ کیونکہ قرآن نے نافرمانی کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا۔ نافرمانی کیلئے عربی میں لفظ عصیان آتا ہے۔ قرآن نے وہ لفظ استعمال نہیں کیا۔
قرآن نے کہا: نشوز اور یہی وہ لفظ ہے جسے ہم سمجھے بغیر فیصلے سنا دیتے ہیں۔
نشوز۔۔ یہ لفظ عربی میں ن ش ز سے ہے۔ اصل میں یہ زمین کے اس ابھار کو کہتے ہیں جو ہموار سطح سے اوپر اٹھ جائے۔ یعنی جہاں نرمی ہونی چاہیے تھی وہاں سختی آ جائے۔ جہاں توازن ہونا چاہیے تھا وہاں کھنچاؤ آ جائے۔
رشتوں میں نشوز کا مطلب کیا ہوا؟ یہ کہ جب تعلق کی زمین، جو سکون اور ہمواری کیلئے تھی، ego، سرد مہری، emotional distance یا طاقت کے اظہار کی وجہ سے uneven ہو جائے۔ یعنی نشوز صرف نافرمانی نہیں۔ نشوز دراصل relationship imbalance ہے۔
دل کا اکڑ جانا۔ لہجے کا سخت ہو جانا۔ احساس کا پیچھے ہٹ جانا۔ یا کبھی احترام کا کم ہو جانا اور یہاں ایک اور باریک فرق سمجھ آتا ہے: عصیان کیا ہے؟
عصیان کھلی نافرمانی ہے۔ جان بوجھ کر حکم توڑنا۔ بغاوت کا رویہ۔ لیکن نشوز کیا ہے؟ یہ ہمیشہ چیخ کر ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ کبھی tone میں آتا ہے۔ کبھی distance میں۔ کبھی care کے کم ہو جانے میں۔
یعنی ہر عصیان نشوز ہو سکتا ہے۔۔ لیکن ہر نشوز عصیان نہیں ہوتا۔
اسی لیے قرآن نے نشوز کہا۔۔ کیونکہ وہ relationship کے psychological decay کی بات کر رہا ہے، صرف قانونی نافرمانی کی نہیں۔
پھر ایک اور سوال: نشوز کی حد کیا ہے؟ کیا ہر نوک جھونک نشوز ہے؟ نہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو دنیا کا کوئی رشتہ سلامت نہ رہتا۔ کیونکہ کون سا تعلق ہے جہاں کبھی اختلاف نہیں ہوتا؟ کون سا گھر ہے جہاں کبھی آواز اونچی نہیں ہوتی؟ کون سی رفاقت ہے جہاں کبھی misunderstanding نہیں ہوتی؟ نشوز کی اصل حد کیا ہے؟
وہ حد جہاں رشتہ ٹوٹنے کی طرف چل پڑے۔ یعنی جب اختلاف عادت بن جائے۔ جب احترام کم ہونے لگے۔ جب دل میں دوری مستقل ہو جائے۔ جب اصلاح کی کوشش ختم ہو جائے۔ جب ego محبت پر غالب آ جائے۔ یہ وہ stage ہے جہاں قرآن conflict management protocol دیتا ہے۔ یعنی قرآن casual arguments کیلئے نہیں۔۔ relationship breakdown کیلئے بات کر رہا ہے۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں: ہم روزمرہ کی ناراضگیوں کو بھی اسی category میں ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کا موضوع: marital emergency ہے۔ daily disagreement نہیں۔
بحر حال میں عام طور پر ایسی باتوں سے دور رہتی ہوں۔ کیونکہ ان کا اثر میرے دل پر بہت دیر تک رہتا ہے۔ کچھ لوگ خبریں سنتے ہیں۔ میں خبریں محسوس کرتی ہوں اور کبھی کبھی یہ صلاحیت نعمت کے بجائے بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
پھر میں نے امی سے پوچھا: "کیا اس نے ٹھیک کیا؟"
امی نے بڑی سادگی سے کہا: "ایسا تو نارمل ہوتا ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جائیں گے"۔
نارمل؟ یہ لفظ میرے اندر کہیں گونجتا رہا۔
میں نے ایک اور سوال کیا: "چلیں فرض کریں میرا شوہر مجھے مارے۔۔ تو وہ مجھے کتنا مارے کہ میں کسی کو بتاؤں کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے؟"
امی خاموش ہوگئیں۔ لیکن اس خاموشی نے ایک جواب دے دیا۔
شاید ہماری بیٹیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے: برداشت کرو۔ خاموش رہو۔ کیونکہ یہ تمہارے والدین کی عزت کا سوال ہے۔
یا شاید اصل جملہ یہ ہوتا ہے: تا عمر برداشت کر لینا۔
اسی لمحے میرے ذہن میں قرآن کی ایک آیت آئی: إِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيُكُمُ رَقِيبًا اور میں لفظ رقیب پر رک گئی۔
رقیب۔۔ وہ جو صرف دیکھتا نہیں۔۔ وہ جو قریب سے دیکھتا ہے۔ وہ جو نظر بھی رکھتا ہے اور نظر میں بھی رکھتا ہے۔
اور میں نے خود سے پوچھا: اگر اللہ واقعی رقیب ہے۔۔ تو کیا کسی ہاتھ کو اٹھنے سے پہلے نہیں رک جانا چاہیے؟
پھر ایک اور خیال آیا: شاید ہمیں رقیب سے ڈر اس لیے نہیں لگتا کیونکہ ہم اسے ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔۔ ایک زندہ حقیقت نہیں۔ اگر واقعی یقین ہو جائے کہ ہر سخت لفظ، ہر ذلت، ہر آنسو record ہو رہا ہے۔۔ تو شاید بہت سے گھروں کی فضا بدل جائے۔
پھر ایک اور اہم بات: رقیب صرف ظالم کیلئے warning نہیں ہوتا۔ رقیب مظلوم کیلئے consolation بھی ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی عورت خاموشی سے روتی ہے۔۔
اور دنیا کہتی ہے: یہ تو نارمل ہے۔۔
تو اللہ بھی quietly کہتا ہے: یہ سب میری نظر میں ہے۔
اور شاید رقیب کا سب سے خوبصورت مطلب یہی ہے: تمہاری تکلیف کبھی بھی unseen نہیں ہوتی۔
میں نے اس سارے واقعہ کے بعد ایک اور بات سمجھی: ہمیں صبر کا مطلب غلط سکھایا گیا ہے۔ صبر کا مطلب ظلم برداشت کرنا نہیں ہوتا۔ صبر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ظلم کو ظلم سمجھتے ہوئے بھی اپنے دل کو اندھا نہ ہونے دیا جائے۔ قرآن نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ظلم کو نارمل سمجھ لو۔
قرآن نے صرف یہ کہا: نہ ظلم کرو۔۔ نہ ظلم برداشت کرو اور شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ رشتے بچانے کی فکر میں انسان توڑ دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ نے رشتے سکون کیلئے بنائے تھے۔۔ آزمائش کیلئے نہیں۔
اس سارے واقعہ کے بعد میری بس یہی دعا ہے: یا اللہ۔۔ سب کے گھروں میں محبت رکھ دے۔ مردوں کے دلوں میں نرمی رکھ دے اور عورتوں کے دلوں میں اپنی قدر کا احساس زندہ رکھ دے اور اگر کبھی کسی گھر میں خاموشی سے کوئی آنسو گرے۔۔ تو اسے یہ یقین ضرور دے دے: کہ ایک رقیب ہے۔۔ جو صرف دیکھ نہیں رہا۔۔ انصاف بھی کرے گا۔

