Aik Maa Ki Diary Se
ایک ماں کی ڈائری سے
جب تک ہم صرف "اولاد" ہوتی ہیں، ماں کی دنیا ہمیں محض ایک منظرنامہ لگتی ہے۔ دسترخوان پر سجی روٹی، استری کیا ہوا یونیفارم، بستر پر لگا تازہ غلاف۔ ہمیں چیزوں کی تیاری نظر آتی ہے، تیاری کرنے والے ہاتھوں کی تھکاوٹ نہیں۔ ہمیں "ہو جانا" دکھائی دیتا ہے، "ہونے" کے پیچھے چھپی راتوں کی قربانی نہیں۔
پھر ایک دن ہم خود ماں بن جاتی ہیں اور یوں پردے اٹھنے لگتے ہیں۔ ہم دیکھتی ہیں کہ روٹی صرف آٹا اور پانی نہیں ہوتی وہ ماں کی اُس نیند کا عکس ہوتی ہے جو چولہے کے سامنے قربان ہوئی۔ یونیفارم محض کپڑا نہیں ہوتا وہ اُس دعا کا کفن ہوتا ہے جو ماں نے استری کرتے ہوئے پڑھی۔ بستر پر غلاف کی سلوٹیں صرف سجاوٹ نہیں ہوتیں وہ دن بھر کی تھکاوٹ کے باوجود ماں کے ہاتھوں کی آخری محبت ہوتی ہیں۔
تب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ صرف قرآن کا ایک لفظ نہیں یہ ماں کے وجود کی تعریف ہے۔ یہ محض ایک کیفیت کا بیان نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات کا نام ہے جس میں ہر ماں سانس لیتی ہے۔
آج جب میں اپنے بچوں کے درمیان کھڑی ہوتی ہوں تو شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ یہ آیت میری روزمرہ زندگی کی سچی تصویر ہے۔
جب سورج کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے تو میرا جسم بستر سے اٹھ تو جاتا ہے، مگر وہ پہلے ہی تھکا ہوا ہوتا ہے۔ رات بھر پانچ ماہ کی ننھی بیٹی کی بے چینی نیند کو ٹکڑوں میں بانٹ چکی ہوتی ہے۔ بڑے بیٹے کے انٹری ٹیسٹ کا خیال، دو سالہ بیٹی کا نیند میں کراہنا، یہ تھکاوٹ پرانی ہے۔۔ پرانی، مگر ہر صبح نئی۔
ناشتہ تیار کرتے وقت ہاتھ روٹی پکاتے ہیں مگر دل بٹ جاتا ہے۔ دماغ بڑے کے اسکول پروجیکٹ میں الجھا ہوتا ہے۔ ایک کان بچے کا سبق سنتا ہے، دوسرا کان چھوٹی کے رونے پر لگا رہتا ہے۔ دل اس نوٹ پر اٹکا ہوتا ہے جو کل ہی چھوٹے بیٹے کے اسکول بیگ میں رکھا تھا اور آج نہیں مل رہا۔ ہر منٹ میں دس کام، ہر کام کے ساتھ بیس فکریں یہی ہے وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ۔
دوپہر کے سنگم میں چھوٹی بیٹی جاگ جاتی ہے، بڑا اسکول سے آ جاتا ہے۔ کھانا کھلانا، ہوم ورک شروع کروانا، اسی دوران ننھی کو دودھ پلانا۔ ہاتھوں میں چمچ، کانوں میں ریاضی کے سوال، آنکھوں میں بچوں کے چہرے۔۔ یہ ایک ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا ہے۔
شام ڈھلتی ہے تو نہلانا، کپڑے بدلنا، کھانا بنانا اور وہ مقالہ جو ہفتوں سے الماری میں خاموش پڑا ہے۔ جسم ایک جگہ، ذہن چار جگہ، دل اَن گنت جگہوں پر۔
رات کے آخری پہر، جب سب سو جاتے ہیں، تب بھی سانس پوری نہیں اترتی۔ اب بچوں کے خوابوں کی فکر شروع ہوتی ہے: کیا بچی پلٹ کر سو رہی ہے؟ کہیں کوئی کمبل سے باہر تو نہیں؟ کل صبح کسی کا کوئی کام رہ تو نہیں گیا؟
تب سمجھ آتا ہے کہ وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ صرف جسمانی نہیں یہ دل کا وَهُن ہے۔ جب بچہ چل کر اسکول جانے لگتا ہے تو ماں کا دل اس کے ساتھ چلتا ہے۔ جب وہ جوان ہو کر دور چلا جاتا ہے تو ماں کی نیند اس کے ساتھ اڑ جاتی ہے۔ یہ وَهُن جاتا نہیں یہ بدلتا ہے، نئی شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔
مگر میں اس وَهُن کو صرف تھکاوٹ نہیں سمجھتی۔ میں اسے عبادت مانتی ہوں۔ ہر وَهُن کے ساتھ ایک دعا جڑی ہوتی ہے: اے اللہ! میری یہ تھکاوٹ میرے بچوں کی راہوں میں روشنی بن جائے۔ ہر تھکاوٹ کے ساتھ ایک امید وابستہ ہوتی ہے: شاید میری یہ کمزوریاں میری مغفرت کا سبب بن جائیں اور جب بہت تھک جاتی ہوں تو سورۂ لقمان کی یہ آیت پڑھ لیتی ہوں: وَوَصَّيُنَا الُإِنسَانَ بِوَالِدَيُهِ حَمَلَتُهُ أُمُّهُ وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ اور سوچتی ہوں اللہ نے ماں کی تکلیف کو گنا نہیں، اسے وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ کہا۔ شاید اس لیے کہ اس کی گنتی ممکن ہی نہیں اور جو تکلیف شمار سے باہر ہو، اس کا اجر بھی حساب سے پرے ہوتا ہے۔
انہی سب کے بیچ میرے دل میں ایک اور احساس جاگتا ہے احساسِ قرض۔ میں اپنی ماں کو یاد کرتی ہوں۔ وہ ہاتھ جو میرے زخموں پر مرہم رکھتے تھے، وہ آنکھیں جو میری خاموشی میں بھی میرا درد پڑھ لیتی تھیں، وہ دعائیں جو میری نیند میں بھی میرے ساتھ چلتی تھیں۔ تب مجھے سمجھ آتا ہے: میں نے جو کچھ پایا تھا، وہ فرض نہیں تھا وہ عشق تھا۔ جو مجھے عام لگا تھا، وہ معمول نہیں تھا وہ معجزہ تھا۔
اور یہ قرض؟ یہ ادا ہونے والا قرض نہیں۔ یہ آگے بڑھانے والی امانت ہے۔ میری ماں نے مجھے دیا، مجھے اپنے بچوں کو دینا ہے اور وہ اپنے بچوں کو دیں گے۔ یوں محبت کا یہ دائرہ ہر نسل کے ساتھ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔
آج جب میں اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر اسکول جاتی ہوں، تو اپنے کندھے پر اپنی ماں کا ہاتھ محسوس کرتی ہوں۔ جب رات کو بچوں کو سلانے کے لیے جاگتی ہوں، تو اپنی ماں کی وہ بے خوابیاں یاد آتی ہیں جو کبھی میرے لیے تھیں اور جب دعا میں ہاتھ اٹھاتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے میرے الفاظ میرے نہیں میری ماں کے سکھائے ہوئے ہیں۔
یہی تو ماں بننے کا راز ہے۔ یہ صرف ایک کردار نہیں یہ ایک وراثت ہے۔ ایسی میراث جو تھکاتی ہے مگر جگاتی ہے، دکھ دیتی ہے مگر سکھ سکھاتی ہے، توڑتی ہے مگر ہر ٹوٹنے کے بعد ایک نیا وجود تخلیق کرتی ہے۔
اور ہاں ماں کی قدر تب آتی ہے جب انسان جان لیتا ہے کہ وَهُنًا عَلَىٰ وَهُنٍ کہنا کتنا آسان اور اسے جینا کتنا کٹھن ہے۔ یہ ایک ایسا قرض ہے جو کبھی اتارا نہیں جا سکتا، بس انسان خود ماں بن کر اس مشقت کو آگے بڑھاتا ہے اور تب اپنی ماں کے ہر آنسو اور ہر مسکراہٹ کی قیمت سمجھ آتی ہے۔
اللہ ہر ماں کے وَهُن کو نور بنا دے، ہر تھکاوٹ کو ثواب کا ذریعہ بنا دے اور ہر بیٹی کو یہ بصیرت عطا فرمائے کہ اس کی ماں کی قربانیاں درحقیقت اس کے اپنے وجود کی بنیاد تھیں۔

