Ye Sahafat Nahi
یہ صحافت نہیں

یہ جو آج کل یوٹیوب پر انٹرویوز یا پوڈ کاسٹ کے نام پر ہو رہا ہے یہ صحافت نہیں، یہ سوال جواب نہیں، یہ سرِعام پھانسی ہے وہ بھی بغیر عدالت، بغیر ثبوت، بغیر اپیل۔ اس نئے سوشل میڈیا دور میں اینکر کا کام سوال پوچھنا نہیں رہا بلکہ اینکر اب جلاد ہے۔ مائیک اس کے ہاتھ میں تلوار ہے، کیمرہ جلوس اور ناظر وہ ہجوم جو ہر وار پر "واہ واہ" کرتا ہے۔
ایسا سوال بھی مہمان کی گردن پر رکھا جاتا ہے "آپ کو شرم نہیں آتی؟"۔ یہ سوال نہیں یہ فیصلہ ہے۔ پھر مہمان کو بولنے دیا جاتا ہے صرف اتنا کہ وہ اپنے ہی الفاظ میں اپنی قبر کھود لے۔ جیسے ہی بات ذرا پیچیدہ ہوئی اینکر بیچ میں کود پڑتا ہے "آپ گھما رہے ہیں "، "اب آپ کا پتہ لگ گیا ہے"۔ یعنی فیصلہ پہلے سوال بعد میں۔ یوٹیوب اینکر کو معلوم ہے کہ تذلیل غصے کو زندہ رکھتی ہے اور غصہ ویوز لاتا ہے۔ چنانچہ سوال کچھ یوں ہوتے ہیں "آپ نے یہ کیوں کہا؟"، "آپ نے وہ کیوں کہا؟"، "آپ نے اُس وقت چپ کیوں تھے؟"۔ یہ سوال نہیں، یہ تفتیشی جال ہوتے ہیں۔ جواب چاہے کچھ بھی ہو اینکرکے پاس اگلا جملہ تیار ہوتا ہے "یہ تو منافقت ہے"، "آپ کنفیوژ ہیں"، "یہی تو مسئلہ ہے آپ لوگوں کا"۔ یہ جملے دلیل یا سوال نہیں یہ کردار کُشی کے ہتھیار ہیں۔
یوٹیوبر ایک اسٹیج آرٹسٹ ہے۔ اس کا کام معلومات نکالنا نہیں، تماشا لگانا ہے۔ یہ اینکرز تحقیق نہیں کرتے یہ "مواد" تلاش کرتے ہیں۔ ایک جملہ، آدھا جملہ، یا بس ایک لفظ جسے کاٹ کر مصالحہ بنایا جا سکے۔ انٹرویو کے بعد ایڈیٹنگ روم میں مہمان کا اصل قتل ہوتا ہے۔ چہرے پر فریز فریم، آواز پر ایک سیکنڈ کی خاموشی اور نیچے چلتی سرخ پٹی میں لکھا جاتا ہے "دیکھیں، لاجواب ہو گئے!"۔ حالانکہ لاجواب مہمان نہیں ہوتا سوال ہوتا ہے۔
علم سوال کو کھولتا ہے تذلیل سوال کو بند کر دیتی ہے۔ علم سننے کی ہمت مانگتا ہے تذلیل بات ٹوک کر بیچ میں بولنے کا لائسنس دیتی ہے اور ناظر؟ وہ بھی اس کھیل کا حصہ بن چکا ہے۔ وہ علم نہیں مانگتا، وہ تذلیل مانگتا ہے۔ وہ یہ سمجھ کر خوش ہوتا ہے کہ بڑا کڑا سوال پوچھ لیا گیا، حالانکہ وہ ایک اور "پبلک ایگزیکیوشن" دیکھ کر اپنا چسکا پورا کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیاست دان نہیں بلکہ سوشل میڈیائی یوٹیوبرز طاقتور ہیں کیونکہ طاقت اب سوال میں نہیں کسی کو ذلت دکھانے میں ہے۔
اس زمانے میں سچ ایک کمزور چیز ہے۔ نہ شور مچاتا ہے، نہ وائرل ہوتا ہے، نہ اسپانسر لاتا ہے۔ اسی لیے یوٹیوب کے اس عہد میں سچ کو سائیڈ پر بٹھا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ریٹنگ نے لے لی ہے۔ بے رحم، چیختی، ناچتی ہوئی ریٹنگ۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا درست ہے؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا چلے گا؟
سچ اگر بور ہو تو وہ سماعتوں پر گراں گزرتا ہے۔ اگر سچ پیچیدہ ہو تو وہ قابلِ استعمال نہیں اور اگر سچ طاقتور کو ناگوار گزرے تو وہ جرم بن جاتا ہے۔ اسی لیے آج کے اینکرکے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک طرف سچ جو تحقیق مانگتا ہے، وقت مانگتا ہے اور خطرہ بھی مانگتا ہے۔ دوسری طرف ریٹنگ جو صرف ایک تیز جملہ مانگتی ہے، ایک تضحیک آمیز مسکراہٹ اور ایک ٹچی حرکت۔ دھیما بولنے والا، سچ بولنے والا، معتدل مزاج مہمان یوٹیوبر کے لیے مصیبت ہے۔ کیونکہ ایسا مہمان "کانٹینٹ" نہیں دیتا، سرخی نہیں دیتا اور "اف! مزہ آ گیا" والا مواد نہیں دیتا۔
یہ جو آج کل یوٹیوب پر صحافت ہو رہی ہے یہ علم کا شعبہ نہیں یہ تذلیل کی ایک مکمل انڈسٹری بن چکا ہے۔ یہ صحافت و علم کا قتل ہے اور تذلیل کی فتح۔ کیونکہ صحافت و علم سوال کرنا سکھاتا ہے اور تذلیل ویوز لینا جانتی ہے۔ یہاں سوال اس لیے نہیں پوچھا جاتا کہ جواب سمجھ میں آ سکے۔ سوال اس لیے پوچھا جاتا ہے کہ سامنے والے کو کم تر ثابت کیا جا سکے۔ یہ مکالمہ نہیں یہ لفظوں کی پبلک پٹائی ہے۔ انٹرویو کا مقصد کبھی سچ نکالنا تھا اب مقصد کلپ بنانا ہے اور جس دن کلپ وائرل ہو جائے اسی دن یوٹیوبر اپنا معاوضہ وصول پاتا ہے۔ یہ انٹرویو نہیں، یہ مکالمہ نہیں، ُ یہ اصلاح نہیں۔ یہ ریٹنگ کے لیے سرِعام پھانسی ہے اور جلاد آج کل خود کو اینکر/ صحافی/ پوڈکاسٹر کہلواتا ہے۔
کچھ "مہمان" بھی اتنے مہان ہیں وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایسوں کے پوڈکاسٹ میں شرکت کرتے ہیں۔ کچھ مہمانوں کو بھی اپنا اقبال بلند کرانے کا شوق ہے یا وہ اس دور میں ہر صورت خبروں کی زینت بنے رہنا چاہتے ہیں۔ کچھ پروگرام میں مہمان اور اینکر مل کر ناظر سے کھیلتے ہیں اور کچھ میں دونوں ایک جیسی ٹچی شخصیت ہونے کے سبب آپس میں الجھتے ہیں۔ دو دن قبل ایک ایسے ہی پوڈکاسٹر نے مجھے میسج بھیجا کہ وہ میرے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے۔ میں چونکہ اس کا نشانہ جانتا ہوں اور یہ بھی کہ اس کے ہاتھ یوٹیوب چینل کی ماچس ہے اور زبان تیلی، اس لیے معذرت کر لی۔ اگر یہی کچھ کرنا ہوتا تو میرا اپنا سٹوڈیو ہے۔ میرے پاس اپنا سٹیٹ آف دی آرٹ ایکوپمنٹ ہے۔ اگر ٹھان لوں کہ مجھے سب صحافتی اقدار کی بتی بنا کر سائیڈ پر رکھنا ہے اور یونہی کرنا ہے تو میں آئے روز اپنا سٹوڈیو کھول کر خود کو خود وائرل کر سکتا ہوں۔

