Masla Inteha Pasandi Hai
مسئلہ انتہاپسندی ہے

ایک ہندوستانی نے انگریزی زبان کی باریکیوں پر عبور حاصل کر لیا تھا۔ مغربی انداز میں رقص بھی سیکھ لیا تھا۔ چھری کانٹے سے کھانا کھانا بھی سیکھ لیا تھا۔ ان انگریزی آداب کے ساتھ اس نے انگلستان جا کر وکالت کی تعلیم بھی حاصل کی۔ یہ قانون دان سوٹ اور ٹائی زیب تن کیے ایک بار تاج برطانیہ کی جنوبی افریقہ کالونی میں ریل کے ڈبے سے باہر پھینک دیا گیا کیونکہ وہ درجہ سوم کی بجائے درجہ اول میں سفر کرنے پر مُصر تھا جبکہ اس جیسے گندمی رنگ والے افراد کو صرف درجہ سوم میں ہی سفر کرنے کی اجازت تھی۔ اس شخص کا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔
اس تذلیل نے گاندھی کی شخصیت بدل کر رکھ دی۔ وہ یہ زخم نہیں بھول پایا۔ اس نے کپڑے اتارے، ایک چادر اوڑھی اور عدم تشدد کے فلسفے کا پیروکار بن گیا۔ جناح صاحب کی داستان بھی کچھ مختلف نہیں۔ انگلستان سے وکالت، سوٹ ٹائی اور چھری کانٹے کا استعمال ہی لائف سٹائل رہا۔ دونوں کا سماجی مزاج مشترک ہونے کے باوجود دونوں کی شخصیت ایک دوسرے سے بہت مختلف تھی۔
ایک بھارت کا بابائے قوم کہلایا اور ایک پاکستان کا بابائے قوم۔ جبکہ دراصل برصغیر کے بابے وہی تھے جن سے یہ دونوں شخصیات اپنے ماضی میں متاثر رہیں اور ان کے رنگ ڈھنگ میں ڈھلیں۔ بھارت کو اپنے بابے پر فخر ہے اور ہمیں اپنے پر ناز ہے۔ دونوں طرف کے لوگوں کا اس پر یقین ہے کہ ان کے لیڈر نے انگریز سے آزادی حاصل کرکے الگ ملک کی بنیاد رکھی۔ یہ یقین ہونا اچھی بات ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہوں گا کہ جنگ عظیم دوم کے بعد تاجِ برطانیہ اپنی کالونیاں سمیٹنے پر مجبور ہو چکا تھا۔ بس کبھی کبھی ہسٹری پر نظر دوڑائیں تو بہت سے بیکار خیالات دماغ میں سے گزرنے لگتے ہیں۔
جیسے بھی ہوا، ہوگیا۔ دونوں طرف کے باشندوں کو اپنی اپنی آزادی مل گئی۔ مگر ریاستی سطح پر دونوں کی دشمنی ہی رہی۔ اس دشمنی نے تین روائیتی جنگیں اور ایک محدود جنگ لڑ لی۔ ان جنگوں کے جو بھی نتائج نکلے سو نکلے، وہ اب ماضی کا حصہ ہیں۔ گاندھی اور جناح نے جو بھی حاصل کیا، جیسے بھی کر لیا سو کر لیا۔ مگر اٹھہتر سالوں سے دونوں ریاستیں اسی موڑ پر کھڑے ایک دوسرے کی نقلیں اتارنے پر لگی ہوئیں ہیں۔ دونوں جانب انتہاپسندی کو فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ آر ایس ایس ہو، بجرنگ دل ہو، بی جے پی ہو۔ یا ہمارے ہاں مذہب کے نام پر مسلح لشکر اور پریشر گروپس ہوں یہ سارے سماج پر حاوی ہوتے جاتے ہیں اور دونوں جانب عقل و دانش سے کام لینے والے اس دھول مٹی کے غبار میں گم ہو جاتے ہیں۔
گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد کو بھارتی ریاست نے فراموش کر دیا اور جناح صاحب کی گیارہ اگست کی تقریر کو پاکستانی ریاست نے فراموش کر دیا۔ آج کا پاکستان دراصل قائد کی گیارہ اگست کی تقریر اور قرارداد مقاصد کی جبری شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مظلوم بچہ ہے اور آج کا بھارت گاندھی کی سیکولر سوچ کی بجائے مودی کی کٹر ہندوتوانہ سوچ کا عکاس ہے۔ دونوں جانب کا بڑا مسئلہ انتہاپسندی ہے جو آگے بڑھ کر جنگی جنون یا عسکریت پسندی میں ڈھل جاتی ہے۔
دس مئی کوئی ایک دن نہیں، یہ تاریخ میں پہلے بھی ہوتا رہا اور شاید آگے بھی کسی اور دن کی صورت آتا رہے گا۔ بدقسمتی کا چکر بھی بڑا عجب ہوتا ہے۔ دو دہائیوں قبل تک ہم عسکریت پسندی کو ریاستی سطح پر ہوا دیتے تھے اور جنگی جنونیت سماج پر طاری تھی۔ پاکستان کا کوئی چوک کوئی مارکیٹ ایسی نہ تھی جہاں لشکروں کے واسطے چندہ جمع کرنے کے لیے چندہ باکس نہ دھرے گئے ہوں۔ پھر ریاست نے زاویہ نگاہ بدلا۔ کچھ معاشی مجبوریوں نے قائل کیا کہ یہ راستہ بہتر نہیں اور کچھ عالمی دباؤ بالخصوص چائنہ نے محنت کی۔ مگر بدقسمتی دیکھیں جب ہم تائب ہوئے تب واجپائی اور من موہن سنگھ جا چکے تھے اور بھارت بجرنگ دل، آر ایس ایس اور ہندوتوانہ ذہنیت میں ڈھل چکا تھا۔ مودی اُبھر کر سامنے آ چکا تھا۔ وہی عسکریت پسند جس نے بطور وزیر اعلیٰ گجرات میں اپنا شوق پورا کیا تھا۔
بھارت میں سیکولر سوچ، سیکولر آوازیں، سیکولر جماعتیں ہندوتوانہ کے شور میں دب چکی ہیں۔ کانگریس گو کہ رفتہ رفتہ واپسی کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کا سفر طویل ہے۔ آج کا بھارت مودی سوچ کا حامل ہے جس کے اثرات دور تک پھیل چکے ہیں۔ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی اے کو بطور پراکسی ہتھیار بنا کر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت جب تک انتہاپسندی کی زنجیر سے بندھا رہے گا پاکستان بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پراکسی یا لشکروں کی سمت لوٹنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال عسکریت پسندوں کے لیے خوش آئند اور امن پسندوں کے لئے دل شکن ہے۔

