Line Siddhi Karo, Wakh Wakh Ho Ke
لین سدھی کرو، وخ وخ ہو کے

آپ مانیں یا نہ مانیں مگر سب سیکیورٹی ٹریننگز ایسی ہی ہوتیں ہیں جن کا زمینی حقائق سے کم ہی واسطہ ہوتا ہے۔ سنہ 2020 میں میری دو دن کی فزیکل ٹریننگ آ گئی جو فوج کے صوبیدار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے منسلک وہ تمام افراد جو فیلڈ مشن کرتے ہیں ان کے واسطے لازمی ہوتی ہے۔ اس میں اچانک حملے کی صورت میں بچاؤ کے طریقے، گن چلانا، وائرلیس سیٹ آپریٹ کرنا وغیرہ وغیرہ وغیرہ شامل ہے۔
اس ٹریننگ میں خوش آئند بات صرف یہ رہی کہ بہت ہی پیاری پیاری فارنرز میری ٹیم کا حصہ بنیں۔ سارے پاکستان سے فیلڈ سٹاف کو ٹریننگ کے واسطے اسلام آباد بلایا گیا تھا اور تمام حاضرین کے دو گروپس بنا دئیے گئے تھے۔ خوش قسمتی سے جو دو گروپ بنے وہ دس دس افراد پر مشتمل تھے اور میرے گروپ میں 3 گوریاں، 2 افریقیاں اور ایک میں اور چار عدد ایشئین مرد آئے۔ دو عدد گوریاں تو قاتل لُک دے رہی تھیں۔ انہی میں ایک ربیکا تھی جو میری فوٹوگرافی سے کافی متاثر تھی۔
ربیکا کو میں بتا رہا تھا کہ یہ تصویر میں نے کیسے پلان کرکے کتنی محنت سے لی اور کیسے کیسے سفر سے گزرتا اس لوکیشن تک پہنچا۔ وہ انتہائی انہماک کے ساتھ آدھ منہ کھولے سن رہی تھی۔ اس کی نسواری آنکھیں مارے حیرت کے پھیل چکی تھیں۔ جیسے ہی باہمی گفت و شنید کا رسمی سلسلہ آگے بڑھنے لگتا صوبیدار بیچ میں سیٹی مار دیتا اور کبھی کبھی تو انگریزی میں آ کر کہتا ہے کہ سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھو۔ شاید صوبیدار جیلس ہو رہا تھا۔
ربیکا سے گفتگو ہنسی مزاق میں ڈھلنے لگی۔ بے تکلفی بڑھنے لگی۔ ہم سب نے فوجی ہیلمٹس پہن رکھے تھے۔ اک بار تو ربیکا اتنا قریب آ کر ہنسی کہ ہمارے ہیلمٹس کے فرنٹ سرے آپس میں ٹکرا گئے اور "ٹن" کی آواز آئی مگر صوبیدار سے برداشت نہ ہوا۔ صوبیدار اسلم نے سیٹی ماری اور اپنے پہاڑی چکوالی لہجے میں بولا "لین سدھی کرو۔ وخ وخ ہو کے"۔۔ "وخ وخ" کی آواز وہ قاری صاحب کی طرح حلق سے گھول گھول گھما کے اور زور دے کر نکالتا۔ صوبیدار نے جب خاص مجھے سنانا ہوتا تھا تو پنجابی میں بولتا تھا۔
خیر، ہوا یہ کہ دو ٹیمیں بن گئیں۔ ہم سب کو جعلی ہتھیار دے دئیے گئے۔ ایک ٹیم دہشت گرد بنی اور ایک ٹیم حملے میں دفاع کرنے کو مختص ہوئی۔ میری ٹیم دفاع کرنے والی تھی۔ فوجیوں نے ٹریننگ گراؤنڈ میں خندقیں کھود رکھیں تھیں جن میں پانی بھر کر کیچڑ بنا دیا گیا تھا۔ ہتھیار بالکل جعلی تھے جن کو چلانے پر پٹاخے کی آواز آتی اور ساتھ ہی ان کے اندر سے ایک نرم ملائم سا کیپسول نکلتا جو دشمن پر لگ کر پھٹ جاتا اور سرخ رنگ کا لیکوئیڈ چھوڑتا۔ جس کا مطلب تھا کہ گولی لگ چکی ہے۔
میری ٹیم گزر رہی تھی کہ یکایک پلان کے مطابق "دہشتگردوں" نے حملہ کر دیا۔ میں نے موقعہ کو غنیمت جانا اور ربیکا کا بازو تھام کر دوڑ لگا دی اور اسے لے کر ایک خندق میں کود گیا۔ خندق میں ٹھنڈا یخ پانی بھرا تھا۔ کودتے ہی بدن میں سنسنی دوڑ گئی اور میں ٹھنڈا برف ہوگیا۔ ربیکا البتہ سر نیہوڑے ڈری سہمی بیٹھی تھی۔ باہر پٹاخوں کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔ میں نے ربیکا کو تسلی دینا چاہی مگر پانی مجھے ہر تھاں سے سُن کر چکا تھا۔ تسلی دینے کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا تو فیدہ۔
پانچ منٹ ہم دونوں خندق میں دبکے بھیگے بیٹھے رہے۔ ربیکا نے پھر انگریزی میں کہا کہ باہر نکل کر دیکھنا چاہئیے کہ کیا ہو رہا ہے۔ تم ذرا سر اٹھا کر چیک کرو۔ گولیوں کی آوازیں کم ہو چکی ہیں۔ کہیں سب لوگ ٹریننگ ختم کرکے واپس تو نہیں ہو لئے؟ سچی بات تو یہ ہے اس وقت چاہتا تھا ہمیں کوئی نہ ڈھونڈے
کوئی ڈھونڈنے بھی آئے تو ہمیں نہ ڈھونڈ پائے
تو مجھے کہیں چھپا دے، میں تجھے کہیں چھپا دوں
لیکن سکیورٹی ٹائٹ تھی۔ میں نے فوجی ہیلمٹ پہن رکھا تھا جو ضروری تھا۔ جیسے ہی خندق سے سری باہر نکال کر دیکھنا چاہا ایک پچکاری میرے ہیلمٹ پر آن لگی جس سے ہلکا سا جھٹکا بھی محسوس ہوا۔ میرا تراہ نکل گیا۔ میں واپس خندق میں دبک گیا۔
صوبیدار اسلم نجانے کہاں سے چیتے کی رفتار سے برآمد ہوا اور خندق کے اوپر کھڑے ہو کر چیخا "تم کو گولی لگ گئی ہے۔ باہر آ جاؤ تمہارا کام ختم ہو چکا ہے۔ سمجھایا بھی تھا کہ کیسے دشمن کو دیکھنا ہے مگر تم دو مرلے کا منہ لے کر خندق سے باہر منہ اوپر اٹھا کر ایسے دیکھ رہے تھے جیسے دشمن نہیں چاند کو دیکھنا ہو"۔ مجھے غصہ تو بہت آیا کہ یہ صوبیدار ہے یا فوجی بینڈ کا مراثی ہے۔ مگر شکر بھی ادا کیا کہ اردو میں بولا ہے انگریزی میں نہیں۔ میں اس خندق میں ربیکا کو تنہا چھوڑ کر ہرگز نہیں جانا چاہتا تھا مگر صوبیدار مجھے نفرت آمیز نظروں سے گھور رہا تھا۔
خیر، ٹریننگ ختم ہوئی۔ میں نے چونکہ سارا دن سگریٹ نہیں پیا تھا لہذا ایک سگریٹ پینے کو کار پارکنگ میں رک گیا۔ صوبیدار اور اس کی ٹیم سیکیورٹی آلات کو پیک کر رہے تھے۔ میں نے اسلم کو سگریٹ دیتے ہوئے کہا "صوبیدار! چنگی نئیں کیتی"۔ اس نے اپنی مونچھ کے کونوں کو مروڑا اور بولا "کل ہور ماڑی ہونی جے!" اور دوسرے روز اس نے مجھ سے کراؤلنگ کروائی اور فراگ جمپیں لگوائیں وہ بھی ربیکا کے سامنے۔ مجھے کریمپس پڑ گئے۔ ٹانگوں کی نسیں کھچ گئیں۔ اس رات میں ہلدی ملا دودھ پی کر سویا اور خواب میں ربیکا کے ساتھ مل کر خندق کھودتا رہا۔
اس ٹریننگ کے بعد اصولاً مجھے ایمرجنسی کی صورتحال کو ہینڈل کرنا آ جانا چاہئیے تھا مگر زمینی حقائق تو یکسر مختلف ہوا کرتے ہیں۔ ایک بار میں فیلڈ مشن پر بہاولنگر کے پاس کسی گاؤں میں کام کر رہا تھا کہ یکایک دھماکا سا سنائی دیا اور ساتھ ہی تڑ تڑ تڑ کی آوازیں آئیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ بس وہاں سے جس سمت کو منہ تھا اسی سمت چند قدم کو دوڑ لگا دی۔ مڑ کے دیکھا تو گلی کی نکڑ پر ایستادہ ٹرانسفارمر "پٹاکے" مار رہا تھا۔ رئیل سیچوئیشن میں ایسا ہی ہوتا ہے صاحبو۔
آج ربیکا ترقی پا کر پاپوا نیو گنی میں پوسٹ ہو چکی ہے۔ میں بھی ترقی پا چکا ہوں۔ صوبیدار اسلم چونکہ محبتوں کا دشمن ہے اس لیے وہ آج بھی صوبیدار ہے اور اسی گراؤنڈ میں ٹریننگ دیتا ہے۔

