Kya 1979 Mein Iran Ke Islami Inqilab Ke Peeche France Ka Hath Tha?
کیا 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کے پیچھے فرانس کا ہاتھ تھا؟

اکثر کم پڑھے لکھے، تحقیق کے بغیر سطحی گفتگو کرنے والے اور تاریخ سے نابلد افراد یہ کہتے نظر آئیں گے کہ ایران کے اسلامی انقلاب (بقول بعضے خمینی انقلاب) کے پیچھے فرانس کا ہاتھ تھا۔ دلیل ان کے پاس یہ ہوتی ہے کہ امام خمینی نے فرانس میں بیٹھ کر انقلاب برپا کیا تھا اور وہیں سے وہ ایران تشریف لائے تھے۔ اس کے ثبوت کے طور پر یہ تصویر عموماً پیش کرتے ہیں جس میں آپ Air France کے ایک طیّارے سے تہران واپس آ رہے ہیں اور جہاز کا فرانسیسی کپتان آپ کو سہارا دے رہا ہے۔
آئیے ہم آپ کو امام خمینی کی جلاوطنی کی تاریخ بتاتے ہیں جس سے خود ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا جس سے ان افراد کی تاریخ سے سطحی واقفیت خود بخود طشت از بام ہو جائے گی۔
امام خمینی کو شاہِ ایران نے سب سے پہلے 4 نومبر 1964 کو ترکی جلاوطن کیا تھا۔ آپ طویل عرصے سے شاہِ ایران کی پالیسیوں پر نقد کرتے آ رہے تھے۔ آپ کے مطابق اسلام میں شہنشاہیت کی گنجائش نہیں تھی، دوسرا شاہِ ایران حد سے زیادہ امریکہ نواز تھا اور اسرائیل کے ساتھ بہت قریبی تعلقات استوار کر رکھے تھے۔ علاوہ ازیں شاہ کی اسلام اور ایران مخالف پالیسیاں جیسے جدیدیت کے نام پر مغربیت کا فروغ، فحّاشی و عریانیت، حجاب اور روایتی لباس پر پابندی اس کے علاوہ تھیں۔
لیکن جو چیز آپ کی جلاوطنی کا باعث بنی وہ شاہِ ایران کے Capitulation Law پر آپ کی تنقید تھی جو 1964 میں منظور ہوا جس کے تحت ایران میں مُقیم امریکی فوجیوں، شہریوں اور اہلکاروں کو ایرانی قوانین سے مستثنی قرار دیا گیا یعنی امریکی شہری ایرانی عدالتوں کے اختیار سے ماورا ہوں گے۔ شاہ کے دور میں ہزاروں امریکی ایران میں مُقیم تھے۔ آپ نے اس قانون پر شدّت سے تنقید کی، آپ کا یہ قول معروف ہوا کہ اگر ایک امریکی باورچی کسی مرجع تقلید کو قتل کرے تو ایرانی عدالت کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اس سے قبل آپ شاہِ ایران کے سفید انقلاب (White Revolution) کے خلاف "15 خرداد" کی تحریک شروع کر چکے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ آپ کو راتوں رات قم میں ان کے گھر سے خاموشی سے گرفتار کرکے تہران ائیرپورٹ لے جایا گیا جہاں ایک فوجی طیّارے کے ذریعے انہیں ترکی منتقل کیا گيا۔ راتوں رات یہ عمل اس لئے کیا گیا تاکہ لوگوں کو خبر نہ ہو سکے اور کسی قسم کی مزاحمت نہ ہو۔ شاہ ایران نے ترکی کا انتخاب اس لئے کیا تھا کیونکہ وہاں فوجیوں کا کنٹرول تھا، ترکی ایک سیکولر ریاست تھی جہاں ایرانیوں سے دور "بُرصہ" نامی شہر میں انہیں مُکمّل نگرانی میں رکھا گیا۔ ترکی میں علماء کے لباس پر پابندی تھی اور درس و تدریس کا بھی کوئی سلسلہ نہ تھا۔ یہ ایک طرح کی ذہنی ٹارچر دینے کی پالیسی تھی۔
آپ لگ بھگ ایک سال ترکی میں یہ اذیتیں برداشت کرتے رہے۔ آپ کی شدید خواہش تھی کہ آپ عراق منتقل ہوں جہاں نجف کا آباد حوزہ موجود تھا، ایرانیوں کی کثیر تعداد وہاں مقیم تھی۔ شاہِ ایران نے ایرانی عُلماء و مراجع کی درخواست پر انہیں عراق جانے کی اجازت دے دی۔ اس کا ایک خیال یہ بھی تھا کہ امام خمینی نجف میں دیگر بڑے اور قدآور مراجع کے درمیان اپنا اثر کھو دیں گے کیونکہ اس وقت نجف اشرف عالمِ تشیّع کا علمی و فکری گڑھ تھا۔
چنانچہ آپ 1965 میں نجف اشرف، عراق منتقل ہوئے، جہاں مراجع بشمول آیت اللہ سید ابوالقاسم الخوئی (قدس سرہ) نے آپ سے ملاقات کی اور آپ کو خوش آمدید کہا۔ نجف میں آپ کا حلقۂ درس کافی معروف تھا، آپ نے پہلی دفعہ اسلام کے سیاسی پہلو پر خصوصی دروس کا سلسلہ کیا اور نظریۂ ولایت فقیہ کی بنیادیں مضبوط کیں۔
ابتدا میں عراق کی بعثی حکومت نے بھی آپ کی آمد کو ویلکم کیا کیونکہ ایران کے ساتھ ان کے تعلّقات اس وقت بھی خراب تھے۔ انہوں نے امام خمینی کو استعمال کرنا چاہا، لیکن آپ نے سرد مہری دکھائی، بلکہ کچھ عرصے بعد صدّام حسین کی آمریّت کو بھی للکارنا شروع کیا۔ 1975 کے بعد حالات بدل گئے، عراق اور شاہ ایران کے درمیان "الجزائر معاہدہ" طے پایا جس کے بعد صدّام حسین نے امام خمینی پر سختی شروع کر دی، طلّاب اور زائرین کی امام خمینی سے ملاقات کو محدود کر دیا۔ آپ کی تقریریں اور بیانات جو اس زمانے میں آڈیو کیسٹس کے ذریعے ایران منتقل ہوتی تھیں ان پر پابندی لگا دی۔
1978 میں ایران میں شاہ ایران کے خلاف مظاہرے زور پکڑنے لگے۔ صدّام حسین نے امام خمینی پر بے پناہ زور ڈالا کہ یا تو آپ خاموشی اختیار کریں یا پھر عراق چھوڑ دیں، کیونکہ اس کو عراق کے اندر خطرہ محسوس ہوا کہ عراق کی اکثریتی شیعہ آبادی امام خمینی کے زیر اثر اس کے خلاف بغاوت نہ کر دے۔ یاد رہے کہ صدام 1968 میں عراق کا نائب صدر بن چکا تھا اور اقتدار میں اسی کا فیصلہ تسلیم کیا جاتا تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ امام خمینی نے عراق چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ ہنگامی طور پر آپ نے کویت کا رخ کیا جس کے ساتھ عراق کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کویت میں ایک بڑی شیعہ آبادی تھی نیز عراق ساتھ ہی تھا لہذا آپ عراق اور ایران سے connected رہ سکتے تھے۔ نجف سے کچھ گھنٹوں کی مسافت پر بصرہ ہے اور ساتھ ہی کویت کی سرحد ہے۔ آپ کویت جانے کے لئے کویت کی سرحد پر تشریف لے گئے لیکن کویت حکومت نے آپ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی، بہانہ یہ تھا کہ کویت ایک چھوٹی ریاست ہے اور طاقتور ممالک کی مخالفت برداشت نہیں کر پائے گی۔
ہنگامی صورتحال میں آپ کے کچھ ساتھیوں نے فرانس کا مشورہ دیا جہاں ایرانیوں کے لئے اس زمانے میں ویزا کی ضرورت نہیں تھی۔ نیز فرانس میں اظہار رائے پر پابندی نہیں تھی اور ایرانیوں کی بڑی تعداد فرانس رہتی تھی (جیسے پاکستانی زیادہ تر برطانیہ رخ کرتے تھے ویسے ایرانی فرانس کا رخ کرتے تھے، ایران میں فرنچ میں بات کرنا بہت سعادت کی بات سمجھی جاتی تھی)۔ لہذا آپ کے ساتھیوں کو فرانس زیادہ موزوں لگا۔ آپ نے ان کی بات قبول کر لی اور یوں آپ نے فرانس کا رخ کیا۔
آپ نے فرانس میں صرف چار ماہ قیام کیا۔ اس وقت شہنشاہی نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا، عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تصادم جاری تھا۔ جس تحریک کو آپ 1964 سے چلا رہے تھے اس کی کامیابی کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ فرانس قیام سے برسوں قبل آپ نے یہ تحریک شروع کی تھی اور 14 سال مختلف ممالک خاص طور پر عراق سے اس تحریک کو منظّم کیا اور منطقی انجام تک پہنچایا۔
لہذا ہم بآسانی کہہ سکتے ہیں کہ فرانس جانے کا فیصلہ ہنگامی بنیادوں پر لیا گیا تھا، ایسا کوئی پلان نہیں تھا، آپ نے آخر وقت تک عراق اور اسلامی ممالک کو ترجیح دی لیکن کوئی بھی مسلم ریاست آپ کو پناہ دینے کی جرات نہیں کر سکی۔ فرانس آپ انتہائی مجبوری میں گئے اور وہ بھی صرف چار ماہ قیام کیا۔
آپ خود اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ جو افراد یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں ان کی بات کس قدر کمزور اور نہایت سطحی معلومات پر مشتمل ہے۔

