Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Iran Mein Ehtejaj Aik Tajzia

Iran Mein Ehtejaj Aik Tajzia

ایران میں احتجاج ایک تجزیہ

لاہور میں لمز میں تعینات ایک ایرانی نژاد امریکی پروفیسر "نوید زرّین نل" سے جب میں نے پوچھا کہ امریکا و مغربی ممالک ایران کی اسلامی رجیم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے مجھے کہا کہ ان کا ارادہ رجیم تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ ایران کو شام اور لیبیا بنانا چاہتے ہیں۔

ان کی یہ بات درست تھی، ٹرمپ نے بھی عندیہ دے دیا کہ وہ سو کالڈ مظاہرین کی مدد کریں گے یعنی اپوزیشن کو خوب اسلحہ دے کر ایران میں سرگرم کر دیا جائے گا یوں یہ ملک شدید انتشار کا شکار ہو جائے گا، ملک کے ایک حصّے میں جمہوری اسلامی حکومت رہے گی اور باقی ملک ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ بالکل شام والی صورتحال ہوگی۔ ایران جن جن ممالک میں گھسا ہے وہاں کے حالات پر نظر دوڑا لیں، آپ کو بات سمجھ آ جائے گی۔

یہ مظاہرے بظاہر معاشی صورتحال کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ حسب معمول مجھے امید ہے کہ اسلامی حکومت ان مظاہروں کو اس بار بھی دبا دے گی۔ لیکن ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف عالمی استعمار اب سرگرم ہو چکی ہے۔ حماس اور حزب اللہ کو بہت کمزور کیا جا چکا ہے، رہی سہی کسر حزب اللہ سے اسلحہ لینے کی کوشش سے پوری کی جائے گی۔ یمن کا گھیرا بھی تنگ کیا جا رہا ہے، یمن کے بالکل سامنے واقعے "صومالی لینڈ" نامی ملک کو جس کو اقوام عالم نے مسترد کر رکھا ہے، اسرائیل نے تسلیم کرکے وہاں اپنی جڑیں مضوبط کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ جلد امریکہ بھی اس کو تسلیم کرے گا اور وہاں امریکی و اسرائیلی اڈے بنیں گے تاکہ ایران کے اتحادی "انصار اللہ" کے وجود کو ختم کر دیا جائے۔

یہاں تک امریکا و اسرائیل کیسے پہنچے؟ بہت واضح ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔ آج ایران کہتے ہیں تو پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ حقارت سے پھنکارنے لگتا ہے۔ میں نے ایک خاص مسلک کے معتدل مزاج علماء کو بھی دیکھا ہے جو کہتے ہیں کہ ایران کی اسلامی رجیم ختم ہونی چاہیے کیونکہ شام وغیرہ میں ایران نے اہلسنت کی نسل کشی کی ہے۔

حالانکہ شام کا معاملہ محض پولیٹکل تھا جس کو ترکی اور عرب ممالک نے شیعہ سنّی مسئلہ بنا دیا تھا تاکہ عوامی حمایت حاصل کی جائے۔ یہی ایران سنّی حماس کی مالی و عسکری مدد کرتا رہا ہے اور خود بشّار الاسد کے ساتھ اہلسنت کی ایک بڑی تعداد فوج میں موجود تھی۔ پس مسئلہ شیعہ سنّی نہیں تھا لیکن بنا دیا گیا تاکہ اسرائیل کو محفوظ بنایا جائے۔ نادان مسلمان جو فرقہ وارانہ جذبات کے تحت مغلوب تھے، یہ بات نہ سمجھ سکے۔ اب اسرائیل کی بڑھنے والی جراتوں سے ان کو سمجھ آ رہی ہے لیکن اظہار نہیں کر رہے۔

جو معتدل مذہبی افراد یہ کہتے ہیں کہ ایران میں اسلامی رجیم ختم ہونی چاہیے، ان کو یہ بتاتا چلوں کہ رجیم ختم ہونے سے آپ کے پڑوس میں ایک اور افغانستان وجود میں تو آ جائے گا، دوسرا یہ کہ وہ اسلامی قوانین ختم ہو جائیں گے جو آپ پاکستان میں نافذ کرنا جاہتے ہیں اور ایرانی قوم جس کو اب تک اسلامی رجیم نے انسان دا پتّر بنا کر رکھا ہے، مکمّل ننگی ہو جائے گی۔ یہ لوگ اسلام کے نفاذ کی اتنی پیاری باتیں کرتے ہیں اور جہاں قائم ہے اس کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ مسلکی اختلاف ہے۔

ایران میں دو برس قبل حجاب کا مسئلہ ہوا تھا، ایک خاص مسلک کے اسلامی شریعت کے نفاذ کے حامی افراد کے حلقوں میں عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی، حالانکہ ان کے ہاں سخت پردے کا حکم ہے۔ خاموشی کی وجہ یہی مسلکی اختلافات تھے کیونکہ ایران کی اسلامی رجیم کی حمایت ان کے منشاء کے خلاف ہے۔ عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے مسلم معاشروں میں مسلکی تعصّب کا جو بیج بویا تھا وہ اب تناور درخت بن چکا ہے۔

واپس آتے ہیں ایران کے حالات کی طرف، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کہا ہے کہ معترضین سے بات کی جائے گی لیکن جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ خیر حالات ویسے بھی نہیں جیسا کہ مغربی میڈیا بتا رہا ہے، کچھ خاص لوگ نکل کر جلاؤ گھیراؤ کرکے چلے جاتے ہیں۔ کچھ کچھ جگہوں پر سنجیدہ مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن یہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں نارمل بات ہے۔ احتجاج کرنا لوگوں کا حق ہے جو ان سے نہیں چھینا جا سکتا۔

بہرحال عالمی استعمار نے مکمّل طور پر ایران کو ہدف بنا لیا ہے۔ ایران بھی اس قدر آگے جا چکا ہے کہ واپسی اس کے لئے کافی مشکل ہے۔ ہماری دعائیں ایران کی اسلامی رجیم کے ساتھ ہیں۔

Check Also

Babar Azam, Cricket Ka Mughal e Azam

By Muhammad Zeashan Butt