Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sher Azam
  4. Firdous e Arzi Ka Saheefa e Jamal Gilgit Baltistan (2)

Firdous e Arzi Ka Saheefa e Jamal Gilgit Baltistan (2)

فردوسِ ارضی کا صحیفہِ جمال "گلگت بلتستان" (2)

گلگت بلتستان میں بہار کی آمد سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مدتوں بعد کسی ماں کی ویران آنکھوں میں اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کی واپسی کی چمک اُتر آئی ہو۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی غمزدہ دل میں اچانک امید کی پہلی کرن جاگ اُٹھی ہو۔

جب بہار اس فردوسِ ارضی کے دروازوں پر دستک دیتی ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس دھرتی نے قوسِ قزح کے تمام رنگ اپنے دامن میں سجا لئے ہوں، زرد کلیاں خزاں رسیدہ یادوں کا استعارہ بن جاتی ہیں اور سفید پھول ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے کسی بچھڑے ہوئے انسان کی آخری دعا زمین پر اُتر آئی ہو۔ سرخ پھول یوں لگتے ہیں جیسے کسی عاشق کے دل کے زخم کھل اٹھے ہوں، نرگس کا پھول دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے کسی خاموش اداسی کو سفید پنکھڑیوں میں سمو دیا ہو۔

نرگس کی خوبصورتی میں ایک عجیب سی تنہائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ باغ میں کھل کر بھی تنہا محسوس ہوتی ہے، جیسے ہزاروں لوگوں کے درمیان کھڑا کوئی ایسا شخص جس کے دل میں صرف ایک ہی چہرہ آباد ہو۔ اُس کی خاموش مہک انسان کے دل پر ایسی دستک دیتی ہے کہ برسوں سے بند جذبات کے دریچے کھلنے لگتے ہیں۔

صبح کی پہلی کرن جب شبنم میں بھیگی پنکھڑیوں پر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ہر پھول اپنی آنکھ میں ایک نمناک خواب سجائے بیٹھا ہو۔ شبنم کے قطرے موتیوں کی مانند چمکتے ضرور ہیں مگر اُن میں ایک عجیب سی اداسی چھپی ہوتی ہے، ایسی اداسی جو انسان کے دل کے سب سے نرم گوشے کو چھو کر آنکھوں کو بےاختیار نم کر دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر پھول کسی خاموش جدائی کا ماتم کر رہا ہو۔

ان وادیوں میں کھلنے والے پھول محض حسنِ فطرت نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی کیفیت ہیں۔ ان کی خاموش مہک دل کے بند دریچوں کو کھول دیتی ہے اور انسان کے اندر دفن برسوں پرانی یادیں جاگ اٹھتی ہیں۔ کبھی کسی بچھڑے دوست کا چہرہ نگاہوں میں اُبھر آتا ہے اور کبھی کسی ایسے شخص کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جو شاید اب کبھی واپس نہ آئے۔ کوئی آواز، کوئی چہرہ، کوئی بچھڑا ہوا لمحہ دل میں اس شدت سے اُبھرتا ہے کہ آنکھیں خاموشی سے بھیگنے لگتی ہیں۔

بدقسمتی سے ان پھولوں کی زندگی نہایت قلیل ہوتی ہے۔ وہ چند دنوں کیلئے کھلتے ہیں، فضاؤں کو مہکاتے ہیں، وادیوں کو رنگوں سے بھر دیتے ہیں اور پھر خاموشی سے مرجھا جاتے ہیں۔ ان کی فنا پذیری انسان کو زندگی کی بےثباتی کا ایسا سبق دیتی ہے جو کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ انسان سوچنے لگتا ہے کہ شاید محبت بھی انہی پھولوں کی مانند ہوتی ہے، چند لمحوں کیلئے دل کو مہکا دیتی ہے اور پھر عمر بھر کی اداسی چھوڑ جاتی ہے۔

گلگت بلتستان کے یہ گل ہائے رنگیں دراصل قدرت کے وہ خاموش اشعار ہیں جنہیں صرف حساس دل ہی سمجھ سکتے ہیں اور شاید یہی فطرت کا سب سے حسین ظلم ہے کہ وہ انسان کو چند لمحوں کیلئے جنت دکھا کر ہمیشہ کیلئے اداس کر دیتی ہے۔ بقولِ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال۔

خدا نے اگر دلِ فطرت شناس دیا ہے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر

Check Also

Roti Ki Chori, Aah Reha

By Kiran Arzoo Nadeem