Ye Kainat Abhi Natamam Hai Shayad (3)
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید (3)

مری زمین پہ پھیلا ہے آسمان عدم
ازل سے میرے زمانے پہ اک زمانہ ہے
کائنات کی تخلیق کا سوال انسان کے قدیم ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس نے نہ صرف فلسفیوں اور سائنس دانوں کو غور و فکر پر مجبور کیا بلکہ الہامی مذاہب میں بھی اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ اسلام اس حوالے سے ایک واضح، بامعنی اور فکر انگیز تصور پیش کرتا ہے جو نہ صرف عقیدے کی بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ انسان کو غور و تدبر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر کائنات کی تخلیق کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ترجمہ: "کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین باہم جڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا" (سورۃ الانبیاء: 30)
یہ آیت نہ صرف تخلیق کے ایک مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ جدید سائنسی نظریات، خصوصاً "بگ بینگ" کے ساتھ بھی ایک دلچسپ ہم آہنگی رکھتی ہے۔ قرآن انسان کو محض ماننے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ دیکھنے، سوچنے اور سمجھنے کی بھی تلقین کرتا ہے۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ترجمہ: "پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا"۔ (سورۃ فصلت: 11)
یہاں "دخان" (دھواں) کا لفظ ابتدائی کائناتی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے آج کے سائنسی تناظر میں گیسوں اور توانائی کے بادلوں سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کائنات کی تخلیق ایک بامقصد عمل ہے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ: "اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ " (سورۃ الدخان: 38)
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ کائنات کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور انسان کو اس مقصد کو سمجھنے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسلام میں کائنات کی تخلیق کا تصور محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ انسان کو اپنے اردگرد موجود نشانیوں پر غور کرنے، اپنے خالق کو پہچاننے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن بار بار کہتا ہے:
ترجمہ: "بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں"۔ (سورۃ آلِ عمران: 190)
یہی وہ پیغام ہے جو ایک مومن کو نہ صرف ایمان کی مضبوطی دیتا ہے بلکہ اسے علم، تحقیق اور شعور کی راہوں پر بھی گامزن کرتا ہے۔ انسان جب آسمان کی وسعتوں پر نظر ڈالتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ اسلام اس سوال کا جواب نہ صرف قرآن بلکہ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں بھی فراہم کرتا ہے۔
کائنات کی تخلیق سے پہلے ایک ایسی حالت تھی جہاں صرف اللہ کی ذات موجود تھی اور باقی سب کچھ بعد میں پیدا کیا گیا۔ (صحیح البخاری)
ایک اور روایت میں آتا ہے: "اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھ دی تھی" (صحیح مسلم: 2653)
یہ تصور ہمیں ایک منظم کائنات کا پتہ دیتا ہے، جہاں ہر چیز ایک طے شدہ نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے تخلیق کے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مختلف مخلوقات مختلف اوقات میں پیدا کی گئیں (صحیح مسلم: 2789)
یہ مرحلہ وار تخلیق کا تصور جدید سائنسی نظریات سے ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے۔
احادیث میں آسمانوں کی ساخت کے بارے میں بھی بیان ملتا ہے کہ وہ تہہ در تہہ ہیں (جامع ترمذی: 3298)
یہ کائنات کے نظم اور ترتیب کی طرف واضح اشارہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: "آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کرو" (مسند احمد)
یہی وہ نقطہ ہے جہاں اسلام علم اور تحقیق کو عبادت کا درجہ دیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ: "اللہ ہر چیز کا خالق ہے"۔ (سورۃ الزمر: 62)
یہ جامع اعلان نہ صرف توحید کی بنیاد ہے بلکہ کائنات کے ہر مظہر کو ایک وحدانی نظام سے جوڑتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ: "اور اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کچھ اپنی طرف سے"۔ (سورۃ الجاثیہ: 13)
یہ آیات نہ صرف کائنات کی تخلیق بلکہ اس کے مقصد اور انسان کے کردار کو بھی واضح کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں جب ہم اس تصور کے اثرات کو دیکھتے ہیں تو ایک شاندار علمی روایت سامنے آتی ہے۔ عباسی دور میں بغداد میں قائم ہونے والا بیت الحکمت اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہاں مسلمان علماء نے یونانی، فارسی اور ہندی علوم کا ترجمہ کیا اور انہیں اسلامی فکرکے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
اسی علمی فضا میں محمد بن موسیٰ الخوارزمی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے، جنہوں نے ریاضی اور فلکیات میں انقلابی کام کیا۔ ان کی تحقیق دراصل اسی قرآنی ترغیب کا نتیجہ تھی جو کائنات کے نظم کو سمجھنے پر زور دیتی ہے۔ اسی طرح ابن الہیثم نے روشنی اور بصارت پر تحقیق کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ علم تجربے اور مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا طریقہ کار دراصل قرآن کی اس تعلیم کی عملی شکل تھا جس میں کہا گیا:
ترجمہ: "کہہ دو: دیکھو تو سہی آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے"۔ (سورۃ یونس: 101)
اسلامی مفکرین میں امام غزالی نے تخلیقِ کائنات کے روحانی اور فلسفیانہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اور اس پر غور کرنا دراصل عبادت کی ایک شکل ہے۔ اسی طرح ابن رشد نے عقل اور وحی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک کائنات کا مطالعہ انسان کو خالق کی معرفت تک پہنچاتا ہے اور یہ عمل دین کے خلاف نہیں بلکہ اس کا حصہ ہے۔ قرآنِ مجید بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے:
ترجمہ: "ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفسوں میں بھی"۔ (سورۃ فصلت: 53) یہ آیت نہ صرف کائنات کے ظاہری مشاہدے بلکہ انسان کے اندرونی شعور کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اس پیغام کو سمجھا، تو انہوں نے علم، سائنس اور فلسفے میں نمایاں ترقی کی۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ تخلیقِ کائنات کا قرآنی تصور ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ ہمیں ماضی کی علمی عظمت سے جوڑتا ہے اور مستقبل کی فکری راہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اگر آج بھی ہم اسی جذبے کے ساتھ قرآن کی دعوتِ فکر کو اپنائیں، تو نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں علم و تحقیق کی نئی راہیں بھی کھول سکتے ہیں۔

