Ye Kainat Abhi Natamam Hai Shayad (2)
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید (2)
مقصود کائنات ہوں اور مدعا بھی ہوں
سر مستی حیات ہوں مسلسل گلہ بھی ہوں
قامت نہ ناپ میرے شب وروز دیکھ کر
میں ابتدائے وقت ہوں اور انتہا بھی ہوں
قرآن کریم کی اکتالیسویں سورہ فُصلت کی آیت نمبر 12 میں اللہ سبحانہُ و تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمعہ: پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا اور محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں۔ اس آیت میں سات آسمانوں کی پیدائش کے بارے میں ارشاد ہوا۔ چونکہ ہر چیز کا ایک نام ہوتا ہے تو اسی طرح سات آسمانوں کو بھی نام دیے گئے ہیں اور ان کو الگ الگ رنگوں سے مزین کیا گیا۔ پہلے آسمان کا نام رقیعہ ہے یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ پانی سے بنا ہواء ہے۔ دوسرے آسمان کا نام فیدوم یا ماعون ہے جو ایسے لوہے سے بنا ہے جس سے روشنی کی شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ تیسرے آسمان کا نام ملکوت یا ہاریون ہے جو تانبے سے بنا ہواء ہے۔ چوتھے آسمان کا نام زاہرہ ہے جو آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی سفید چاندی سے بنا ہوا ہے۔ پانچویں آسمان کا نام مزینہ یا مسہرہ ہے جو سرخ سونے کا بنا ہواء ہے۔ چھٹے آسمان کا نام خالصہ ہے جو چمکدار موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اسی طرح ساتویں آسمان کا نام لابیہ یا دامعہ ہے جو کہ سرخ یاقوت کا بنا ہوا ہے۔ اسی آسمان کے اوپر بیت المعمور بھی ہے۔ بیت المعمور اللہ کے فرشتوں کا وہ کعبہ ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت طواف کے لیے آتے ہیں اور ایک دفعہ طواف کے بعد ان کو قیامت تک دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ ہر روز نئے ستر ہزار فرشتے بیت المعمور کے طواف کے لیے آتے ہیں۔ یہ سب میرے اللہ کی بنائی ہوئی خلق ہے۔
اللہ پاک غفور رحیم تمام جہانوں کا رب ہے۔ یعنی وہ خالق عظیم ہے اور تمام خلق اس کے کن کہنے سے وجود میں آئی وہ یکتا ہے مالک ہے اور قادر مطلق بھی۔ اللہ کے بنائے ہوئے تمام عالمین یعنی جہان اللہ کی نشانی کی دلالت دیتے ہیں۔ اللہ پاک نے 18 ہزار مخلوقات پیدا فرمائی ہیں۔ اللہ پاک علیم و خبیر ہے کہ اس نے کتنے جہانوں کی تخلیق فرمائی۔ چند جہانوں کے بارے میں معلومات آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں۔
عالم ناسوت۔ اس کو عالم اسباب یا عالم وجود بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا فعل حواس خمسہ سے ہے یعنی کھانا، پینا، سونا، جاگنا، سونگھنا، دیکھنا اور سننا وغیرہ۔ اس عالم ناسوت میں علم شریعت یا اعمال شریعت کی پیروی کے بغیر اخروی کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے فضل یا یہاں کئے گئے اعمال کی بنیاد پر ہی جنت الماویٰ کا حصول ہوگا۔
دوسرا عالم ملکوت ہے۔ یہ فرشتوں کا عالم ہے۔ اس کا فعل تسبیح و تحلیل رکوع اور سجود ہے۔ اس جہان میں نہ نفسانی خواہشات ہیں نہ شیطانی وساوس نہ بشری تقاضے اور نہ ہی طبعی حاجات۔ اس میں صرف خالق و مالک کی رضا جوئی مطلوب و مقصود ہے کیونکہ فرشتے پیکر تسلیم و رضا ہیں۔ ایک اور جہاں عالم جبروت ہے۔ اس کو عالم ارواح بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا فعل صفات حمیدہ ہیں جیسے زوق شوق طلب وجد۔ صوفیائے کرام نے اس کو سلوک کا تیسرا درجہ قرار دیا ہے۔
اس کے بعد ایک اور جہان عالم لاہوت ہے۔ یہ اطراف اور حدود نہیں رکھتا۔ یہ دن اور رات سے منزہ ہے۔ یہ فنا کا مقام ہے۔ اہل تصوف کہتے ہیں کہ یہ جہان لا ہو الا ہو سے ماخوذ ہے مطلب نفی اسبات یعنی کوئی نہیں ہے مگر صرف وہ اللہ۔ یہ وہ مقام ہے جہان جبرائیل امینؑ کے پر جل جاتے ہیں اور امام الانبیاء ﷺ سے رک جانے کی اجازت مانگتے ہیں اور یہ شرف رب العالمین نے صرف حضرت محمد ﷺ کو بخشا ہے کہ آپؑ نے قاب و قوسین کی زیارت کی ہے ورنہ مقام لاہوت سے اگر ایک چنگاری بھی کسی پر پڑجائے تو وہ معدوم ہوجائے۔ اس کا تعلق عالم امر سے ہے اور اس کو لا مکاں بھی کہتے ہیں۔ وہاں پر نہ گفتگو ہے اور نہ جستجو۔ ترجمعہ القرآن سورتہ نجم اور یہ کہ بے شک تمہارے رب کی طرف ہی انتہا ہے۔ عالم لاہوت اللہ تبارک و تعالیٰ کے قرب کا مقام ہے اور بہت زیادہ فضیلت کا حامل ہے جس مقام کے بارے میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ تحقیق اللہ تعالی کے ہاں ایک ایسی جنت ہے جس میں نہ حور و قصور ہیں اور نہ شہد و دودھ ہے بلکہ اس میں حق تعالیٰ کی زات کا دیدار ہے۔
ایک اور جہان جس کو عالم برزخ کہا جاتا ہے اس کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے سورہ الرحمن ترجمعہ: ان کے درمیان ایک برزخ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ دراصل یہ اس دنیاوی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیانی عرصے کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے یہ موت اور قیامت واقع ہونے کے درمیان ایک وقفہ ہے۔ باقی اللہ پاک علیم و خبیر ہے کہ اس نے کتنے جہانوں کی تخلیق فرمائی۔ سورہ طلاق کی آخری آیت میں ارشاد ربانی ہے کہ اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کے برابر زمینیں۔ حکم ان کے درمیان اترتا ہے۔ تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اس آیت ربانی میں اللہ کریم نے فصاحت سے بتایا کہ اس نے سات آسمان اور سات زمینوں کی تخلیق کی ہے اور اللہ پاک قادر مطلق ہے اور اس کو سب چیزوں کا علم ہے۔
یہ جو ایک کائنات ہے قرآن اس کو دنیا کہتا ہے سورہ یسین اور سورہ ملک میں اللہ کریم نے فرمایا کہ میں نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا۔ پھر یہ فرمایا کہ یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشہ ہے۔ ایک کائنات ہے یعنی کھر اسی سورہ طلاق کی آخری آیت کی تشریح میں سیدنا حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا۔ ہر کائنات میں اللہ تعالیٰ نے سات کائناتیں بنائی ہیں اور اس میں سات آسمان بنائے ہیں۔ اس میں زمین ہے اور اس میں زندگی ہے اور اس میں اسی طرح پیغمبر اتارے گئے جیسے ہماری زمین پر اتارے گئے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کدھر کدھر زندگی تخلیق کی گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہر کام تو صرف کُن سے ہے اور پھر فیکون وہ ہو جاتا ہے جو اور جیسا اور جس طرح کا اللہ چاہتا ہے۔ اس کی بادشاہت ہر جگہ پر ہے اور وہ تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے۔ سورہ العاراف آیت نمبر 54 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ بے شک تمہارا رب اللہ ہے۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو 6 دن میں بنایا۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ دن کو رات سے ڈھانپتا ہے جو اس کے پیچھے لپکی چلی آتی ہے اور سورج چاند ستارے اسی کے حکم میں بندھے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہی ہے۔ کیا برکت والا ہے اللہ سارے جہاں کا آقا۔ اب آپ غور فرمائیں کہ تخلیق کائنات کے متعلقہ اکثر آیات جو ہم دیکھتے ہیں وہاں زمین اور آسمان کے ساتھ ان کے درمیان یعنی زمین و آسمان کے درمیان کا لفظ استعمال کیا گیا۔ یعنی جب ہم جدید سائنس کے حساب سے دیکھتے ہیں کہ انسان کثیر سرمایہ کاری خلائی تحقیق پر کر رہا ہے تاکہ نئی جہتیں یا دنیا دریافت کر سکے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری منزل کہیں اور ہے ہم کہیں اور سے آئے ہیں اور کہیں اور جا کر زندگی گزارنی ہے ہمارے اندر ایک نا معلوم پیاس اور تڑپ ہے جو ہم کو بے چین رکھتی ہے اور ہم بار بار اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے سورہ رحمان میں فرمایا کہ اے جن و انسان اگر تم چاہو بھی تو زمین و آسمان کی حدود سے باہر نہیں نکل سکتے لیکن سلطان کے ساتھ نکل سکتے ہو مطلب الا بالسلطان۔ یعنی ممکن ہے کہ سلطان کی مدد سے نکل سکتے ہو۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک دعا دی کہ آپ مجھ سے مانگیں۔ ترجمعہ قرآن۔ اے میرے رب مجھے جہاں بھی داخل کر سچائی سے داخل کر جہاں سے بھی نکال سچائی سے نکال اور ایک سلطان کو میرا مددگار بنا دے۔
اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا مجھ سے سلطان مانگو اور پھر ان کو سلطان دیا گیا انہوں نے ماورائے کائنات یعنی شب معراج کا سفر فرمایا۔ سورہ اسراء کی آیت نمبر ایک میں فرمایا گیا۔ ترجمعہ القرآن: وہ زات پاک ہے جو اپنے بندے کو مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ سے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس تک جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا۔ تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ اب برکت کیا ہے۔ رحمت کیا ہے اور کرم کیا ہے۔ مطلب سلطان برکت رحمت اور کرم metaphysical words ہیں یعنی بعدالطبیعاتی۔
واللہ اعلم و بالصواب۔
(جاری ہے)

